بہت جلد اسکول کھلنے والے ہیں، کیا آپ تیار ہیں؟

Updated: June 09, 2022, 11:27 AM IST | Saima Shaikh | Mumbai

مہاراشٹر حکومت کے اعلان کے مطابق ۱۳؍ جون کو اسکول کھلنے والے ہیں۔ کورونا وائرس کے پیش نظر کئی والدین تذبذب کا شکار ہیں۔ اس ضمن میں انقلاب نے ۵؍ پرنسپل سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ’’اسکول ری اوپننگ‘‘ پر ماؤں کو کیا کرنا چاہئے اور وہ بچوں کی کس طرح ذہن سازی کریں

Maharashtra government`s decision to open a school is certainly welcome, but precautions must be taken.Picture:Inquilab, Atul Kambale
مہاراشٹر حکومت کا اسکول کھولنے کا فیصلہ یقیناً خوش آئند ہے مگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔تصویر: انقلاب، اتل کامبلے

جوش و خروش کے ساتھ آئیں
سب سے پہلے مَیں بچّوں کو مبارکباد دینا چاہوں گی کہ ۲؍ سال کے بعد تعلیمی سال کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے والدین کو بچّوں کو اسکول بھیجنا ہے۔ ماسک اور سینی ٹائزر کے استعمال پر بھی توجہ دینی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وقت پر اسکول پہنچیں کیونکہ کافی تعلیمی نقصان ہوچکا ہے اس لئے اس مرتبہ شروع ہی سے تعلیم کی جانب توجہ مبذول کرنی ہے۔ مائیں بچوں کو گھر کا کھانا دیں۔ ہم نے اس جانب تھوڑی سختی برتنے کا ارادہ کیا ہے تاکہ بچّے گھر کا بنا کھانا ہی کھائیں اور ان کی صحت اچھی رہے۔ والدین بچوں کو اسکول چھوڑنے اور لینے آئیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ طلبہ اسکول جوش و خروش کے ساتھ آئیں اور پر اُمید رہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔
شمع کے تارہ پور والا
(پرنسپل، انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، بلاسس روڈ، ممبئی)
بچوں کی ذہن سازی
ابھی اسکول کھلنے میں چند دن ہیں۔ سب سے پہلے والدین بچوں کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ اسکول کھلنے والا ہے۔ تعلیمی سال کا آغاز بہتر انداز میں کریں اور ہر کام وقت پر کریں۔ والدین ہر ضروری چیز بچوں کو خرید کر دیں۔ اسکول بھیجتے وقت بچوں کو صفائی کے لئے تاکید کریں۔ انہیں ماسک اور سینی ٹائزر سے متعلق ضروری ہدایات دیں۔ بچے چھوٹے ہوں یا بڑے، کوشش کیجئے انہیں اسکول چھوڑنے اور لینے جائیں۔ ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ جب بچہ اسکول سے گھر آئے تو اس سے دن بھر کی روداد معلوم کریں۔ گزشتہ ۲؍ برس میں جن ہنگامی صورتحال کا سامنا کیا ہے، اس بارے میں بات کرنے سے اجتناب برتیں۔ اسکول کھلنے سے قبل پیرنٹ میٹنگ ہوتی ہے، اس میں ضرور شامل ہوں۔
نسرین اسلم شیخ
(پرنسپل، عبداللہ پٹیل ہائی اسکول 
اینڈ جونیئر کالج، کوسہ، ممبرا)
ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں
دو سال کے بعد تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس بات کی خوشی نہ صرف اسکول اور اساتذہ کو بلکہ طلبہ، والدین اور سرپرستوں کو بھی ہے لیکن کووڈ کے خطرات کے بادل پھر سے منڈلا رہے ہیں کہیں یہ خوشی وقتی نہ ہو۔ لہٰذا ہمیں حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے طبی اور حفاظتی امور سے متعلق ضروری احتیاطی تدابیر کو اپنانا چاہئے۔ والدین، بچوں کی جسمانی صفائی کا خیال رکھیں۔ بچوں کو روزانہ صاف ستھرا یونیفارم پہنا کر بھیجیں۔ بچوں کو ماسک پہننے کی ہدایت دیں۔ انہیں سماجی دوری رکھنے کے لئے کہیں اور گھر سے کھانا اور پانی مہیا کریں۔ باہر کی کھلی غذا کھانے سے پرہیز کریں۔ سردی زکام ہونے پر بچوں کو اسکول نہ بھیجیں اور متعلقہ ٹیچر کو خبر کریں۔ بچوں کی حفاظت کی خاطر کووڈ ویکسین لگوائیں۔ 
عائشہ عبدالقادر بومیڈیا
(ہیڈ مسٹریس، گرین بامبے اُردو ہائی اسکول،
 قریش نگر، کرلا (ایسٹ)، ممبئی)
والدین کا اہم رول
کووڈ کی وجہ سے دنیا کے تمام ممالک و ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ اسکول کا سلسلہ بند ہونے کی وجہ سے تعلیم کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ ۲؍ سال بعد تعلیمی سال کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ تعلیمی نظام کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے والدین کو اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ انہیں تعلیم کے سلسلے میں اپنے اپنے بچوں سے مثبت انداز میں گفتگو کرنی چاہئے۔ ان کی پسند و ناپسند کے ساتھ ساتھ ان کے رجحانات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ والدین ہمیشہ اپنے بچوں کے ساتھ ربط میں رہیں۔ ان کی صحیح نگرانی کی جائے۔ ان کی پڑھائی پر خصوصی توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ کی دنیا سے انہیں دور رکھا جائے۔ ان امور کی صحیح نگرانی کیلئے والدین کو اپنا قیمتی وقت صرف کرنا بہت ضروری ہے۔
خالدہ کھونڈیکر
(ہیڈ مسٹریس، کے ایم ای ایس ہائی 
اسکول اینڈ جونیئر کالج، پڑگھا)
مثبت انداز میں ہدایت دیں
کورونا بحران کے دوران بچّوں کا کافی تعلیمی نقصان ہوا ہے۔ بچوں کی بڑی تعداد تعلیم سے دور ہوئی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس سال جون میں اسکول کھل رہے ہیں۔ اس موقع پر سبھی کو خوش ہونا چاہئے اور کئی بچّے پُرجوش بھی ہیں۔ اسکول شروع ہونے سے قبل ضروری ہے کہ والدین بچّوں کی ذہن سازی کریں۔ اب بھی ہم کورونا سے جنگ جیتے نہیں ہیں، اس لئے احتیاط ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو تعلیم کے جانب متوجہ کرنے کے لئے والدین کو کوشش کرنی ہوگی۔ ان کی صحت کی جانب بھی توجہ دینے ہوگی۔ بچوں کوماسک پہنا کر بھیجیں  تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ پانی کی بوتل اور ٹفن بکس کا علاحدہ استعمال کرنے کی اپنے بچوں کو تاکید کریں۔ بچّوں میں اس بیماری سے متعلق خوف دور کریں۔ انہیں مثبت انداز میں ہدایت دیں۔
شیرین نجیب شیخ
(پرنسپل، انجمن خیرالاسلام اُردو 
گرلز ہائی اسکول، وکھرولی (ویسٹ)، ممبئی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK