اللہ رب العزت نے انسان ہی نہیں اس روئے زمین پر پائی جانے والی تمام مخلوقات کے کھانے پینے کا بہترین انتظام کیا ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: July 21, 2026, 11:42 AM IST | Dr. Sabiha Naheed | Mumbai
اللہ رب العزت نے انسان ہی نہیں اس روئے زمین پر پائی جانے والی تمام مخلوقات کے کھانے پینے کا بہترین انتظام کیا ہوا ہے۔
خالق کائنات نے اس سر زمین کو.... جی ہاں اسی سر زمین کو.... جس پر ہم نے بود و باش اختیار کی ہوئی ہے.... سجا سنوار کر ہم انسانوں کے حوالے کیا ہے صرف اس لئے نہیں کہ ہم یہاں رہیں بلکہ ہماری ضرورتوں کے مطابق ہوا، پانی، انواع و اقسام کے پھل سبزیاں اور لاتعداد نعمتیں عطا کی ہیں جن کا ہم شمار کرنے سے قاصر ہیں۔ جہاں قدرت کے خوشنما حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ہمیں ملتا ہے۔ وہیں ان نعمتوں سے زبان کو ذائقہ ملتا اور جسم کو سیرابی بھی ملتی ہے۔
اللہ رب العزت نے انسان ہی نہیں اس روئے زمین پر پائی جانے والی تمام مخلوقات کے کھانے پینے کا بہترین انتظام کیا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا فوڈ چین ہے جو ایک موتی کے ہار کی طرح پرویا ہوا ہے۔ اس میں تھوڑی سی چھیڑ چھاڑ بھی تباہی کا باعث ہوسکتی ہے۔ اللہ نے ہم انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس روئے زمین کا خلیفہ مقرر کیا ہے۔ اس سے ہماری ذمہ داری اس خطۂ زمین کے تئیں بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں ان نعمتوں سے لطف اندوز تو ہونا ہی ہے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہماری ہی ہے۔ ہماری رسائی تو کھانے پینے کی تقریباً ان تمام چیزوں تک ہے جسے اللہ نے حلال قرار دیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم بنا سوچے سمجھے اور اپنے جسم کا اندازہ کئے بغیر کھانے پینے لگ جائیں اور جان بوجھ کر اپنے جسم اور اپنی صحت کو عذاب میں ڈالیں۔
یہ بھی پڑھئے: رفتگاں رفتگاں آپ جیسا جہاں، اب کہاں اب کہاں!
اللہ رب العزت نے جہاں بے شمار نعمتوں کو ہمارے حوالے کیا ہے وہیں ہمیں اس کا جوابدہ بھی مقرر کیا ہے۔ اگر ہم نے اس میں سے اپنے جسم کی جائز ضرورتوں سے زیادہ خرچ کیا تو یقینی طور پر یہ اسراف بیجا ہوگا اور اس کے لئے ہماری پکڑ ہوگی۔ ایک صاحب کی دلچسپ بات ہم آپ کو سناتے ہیں۔ وہ کسی بڑے اسپتال میں ایکسرے ٹیکنیشن تھے۔ ایک دن جب وہ ڈیوٹی پر تھے تو ان کے ایک رشتہ دار آئے اور بولے میرے پورے ’’شریر کا ایکسرے کر دو.... تم یہاں کام کرتے ہو تو ہم کو بھی کچھ فائدہ ہو جائے۔‘‘ ان صاحب نے پوچھا کہ آپ کو تکلیف کیا ہے؟ بولے ’’تکلیف تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن تم یہاں کام کرتے ہو.... اسی لئے سوچا پورے شریر کا ایکسرے کرا ہی لوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لہسن، کڑی پتہ یا ثابت لال مرچ، کون سا تڑکا کس پکوان کے لئے استعمال کرنا چاہئے؟
کچھ ایسا ہی رویہ ہمیں قدرت کی عطا کی ہوئی ان نعمتوں کے ساتھ نہیں اپنانا چاہئے۔ ہمیں کھانا چاہئے لیکن جینے اور صحتمند رہنے کے لئے نہ کہ کھانے کو ہی اپنا نصب العین بنا لیں اور صرف کھانے کیلئے جینے لگیں۔ یقین جا نئے اللہ نے بے جا اسراف سے پرہیز کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اس کی پکڑ بھی ہونے والی ہے۔ قرآن کریم میں سورہ اعراف آیت ۳۱؍ میں صاف صاف لفظوں میں ہدایت دی گئی ہے کہ ’’کھاؤ پئو اور فضول خرچی نہ کرو کیونکہ فضول خرچ انسان اللہ کو ناپسندیدہ ہے۔‘‘ لہٰذا اللہ کی عطا کی ہوئی کھانے پینے کی ان نعمتوں کا استعمال ہمیں اپنے جسم کی ضرورتوں کے عین مطابق کرنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک بار کھا کھا کر ہم اپنے جسم کو فربہ اور بے ڈول کر لیں نیز دس بیماریوں کا گھر بنا لیں اور پھر ڈاکٹر کے پاس دوڑتے رہیں۔ خود کو پھر سے دبلا پتلا اور سلم کرنے کیلئے جم میں ہزاروں روپے کا صرفہ اور مشقت کریں۔ اس طرح سے ہم دو دو بار اسراف بیجا کے جرم کے مرتکب ہوتے رہیں گے۔ ہمیں اپنے ہر عمل میں خواہ وہ کھانے پینے کا ہی کیوں نہ ہو اعتدال کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ یہی رویہ ایک صحتمند جسم اور کامیاب زندگی نیز صالح معاشرے کا ضامن ہے۔