مختلف ممالک میں شادی بیاہ سے متعلق عجیب و غریب رسمیں

Updated: November 26, 2022, 1:30 PM IST | Magazine Desk | Mumbai

رسم و رواج کسی بھی ملک کی ثقافت کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں ۔بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ رسم و رواج تہذیب اور ثقافت کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔

 In some parts of China, crying is considered an essential part of wedding preparations.Picture:INN
چین کے بعض علاقوں میں رونے کو شادی کی تیاریوں کا ضروری حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ تصویر :آئی این این

رسم و رواج کسی بھی ملک کی ثقافت کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں ۔بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ رسم و رواج تہذیب اور ثقافت کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا رہن سہن بدلتا رہا ، رسوم و رواج میں بھی تبدیلیاں آتی چلی گئیں ۔
 سوال یہ ہے کہ ان رسومات کا آغاز کیسے ہوا؟ شادی سے متعلق اکثر روایات کی ابتداء صدیوں پرانی ہے۔ ان میں سے چند ایک کی اپنی ایک خاص معنویت بھی ہے۔ مثلاً کسی شادی کی تقریب میں شریک جو لڑکی دلہن کے پھینکے ہوئےگلدستے کو ہوا ہی میں پکڑ لیتی ہے، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگلی شادی اسی کی ہو گی۔ دنیا بھر میں شادی سے متعلق انوکھی رسوم اور رواج پائے جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں انگریزی ویب سائٹ theculturetrip نے ان عجیب و غریب رواجوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ان میں چند دلچسپ نوعیت کے رواج ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں :
جنوبی کوریا : دولہا کے دونوں پاؤں پر ضرب لگانا
 یہاں شادی کی تقریب کے اختتام سے قبل دولہا کے دونوں پاؤں پر ضرب لگائی جاتی ہے۔ دولہا کے ساتھی یا گھر والے دولہا کے جوتے اتار دیتے ہیں اس کے بعد اس کے دونوں پاؤں پر چھڑی سے یا بعض مرتبہ خشک مچھلی سے ضرب لگائی جاتی ہے۔ اس کا مقصد جسمانی طاقت اور شخصیت کے حوالے سے  امتحان لینا ہوتا ہے۔
كينيا : .. دلہن کے سر پر تھوکنا
 اس ملک میں ماسائی لوگوں کی شادی کی تقریب کے دوران میں دلہن کا باپ اپنی بیٹی کے سر اور سینے پر تھوکتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی زندگی کے نئے ہم سفر کے ساتھ روانہ ہوتی ہے۔ اس غیرشائستہ حرکت کا مطلب بیٹی سے نفرت نہیں ہوتا بلکہ ان کے بقول وہ ایسا اس کو نظر بد سے بچانے کے لئے کرتے ہیں  ۔ یہاں اس رسم کو خوش قسمتی اور دولت کی علامت شمار کیا جاتا ہے۔
جرمنی : پلیٹوں کا توڑا جانا
 جرمنی میں بعض جگہ شادی کی تقریبات کے موقع پر نئے جوڑے کے مہمانان دلہن کے گھر پر جمع ہوتے ہیں اور قیمتی برتنوں کے سیٹ کی اشیاء توڑتے ہیں۔ یہ رواجPolterabend کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عمل دولہا دلہن کے لئے خوش نصیبی لے کر آتا ہے۔ بعد ازاں دولہا اور دلہن سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ٹوٹے ہوئے برتنوں کا ڈھیر صاف کریں۔ اس طرح ساتھ کام کرنے سے وہ ازدواجی زندگی میں درپیش کسی بھی چیلنج کا اکٹھا سامنا کر سکیں گے۔
چین : رونے کی رسم
 چین کے بعض علاقوں میں رونے کو شادی کی تیاریوں کا ضروری حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ شادی کی تقریب سے ایک ماہ قبل دلہن کو روزانہ ایک گھنٹے تک رونا پڑتا ہے۔ دس روز بعد دلہن کی ماں بھی اپنی بیٹی کے ساتھ اس عمل میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس کے دس روز بعد دلہن کی نانی بھی اپنی نواسی کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو جاتی ہے۔ آخر میں دلہن کے خاندان کی دیگر خواتین بھی اس رونے کے عمل میں شامل ہو جاتی ہیں۔ یہ رسمZuo Tang کے نام سے معروف ہے۔
رومانیہ: دلہن کا اغواء کرنا
 رومانیہ میں ایک بہت ہی مقبول رسم دلہن کا اغوا ء ہے جسے قریبی دوست احباب مذاقاًاغواء کر لیتے ہیں جسے دولہا کو بذات خود بازیاب کرانا ہوتا ہے جو وہ بھاری ’’تاوان ‘‘ادا کر کے رہا کراتا ہے ۔ 
فلپائن: دعوت دینے جانا
 فلپائن میں شادی سے قبل دولہا اور دلہن کو اکٹھے گھر گھر جا کر مہمانوں کو اپنی شادی کی دعوت دینا ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو شادی کی دعوت کسی وجہ سے گھر جا کر نہ دی جا سکے تو وہ دوست شادی میں شرکت نہیں کرتے ۔ 
کلیسا میں شادی کے وقت  بیٹی کا ہاتھ پکڑنا
  کلیساؤں میں اکثر شادی کے وقت دلہن کو وہاں اس کا باپ ہی ہاتھ پکڑ کر لاتا ہے ۔ اس کی وضاحت یوں ہے کہ صدیوں سے لڑکی کو خاندان کی ’’ملکیت‘‘ تصور کیا جاتا ہے ۔اور چونکہ شادی کے وقت یہ ملکیت لڑکی کے خاندان سے لڑکے کے خاندان کو منتقل ہو رہی ہوتی ہے۔ تقریب میں بعض علاقوں میں مہمانوں کی طرف سے اکثر دلہن پر پھول یا چاول نچھاور کئے جاتے ہیں ۔ اس رسم کا مقصد یہ دعا اور خواہش ہوتی ہے کہ اس نو بیاہتا جوڑے کو کافی زیادہ اولاد نصیب ہو اور وہ ایک خاندان کی طرح پھلتے پھولتے رہیں۔
جوتے میں سکہ رکھنا
 چند مغربی ممالک میں یہ دلچسپ روایت بھی ہے کہ دلہن اپنے دائیں جوتے میں ایک سکہ اس لئے رکھ لیتی ہے کہ شادی کے بعد ساری عمر جوڑا خوش حال رہے ۔
کیک کاٹنا
  اکثر علاقوں میں شادی کے موقع پر میاں بیوی مل کر کیک کاٹتے ہیں تو اس حوالے سے بین الاقوامی سطح پر پایا جانے والا عمومی تاثر یہ ہے کہ مل کر چھری پکڑتے ہوئے دولہا دلہن میں سے جسکا ہاتھ اوپر ہو گا وہی مستقبل کے مشترکہ رشتے میں زیادہ فیصلہ کن اور قائدانہ کردار کا حامل ہو گا۔
سوڈان: شادی ادھوری رہتی ہے
 سوڈان کے نیرو قبیلے میں شادی اس وقت تک نا مکمل تصور ہوتی ہے جب تک دلہن کے ہاں دو بچے پیدا نہ ہو جائیں ۔اگر دوسرا بچہ نہ ہو تو شادی کو نامکمل سمجھا جاتا ہے اور دولہا کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے طلاق دے دے ۔
  شادی کے موضوع پر کتاب کی مصنفہ برگٹ ایڈم کہتی ہیں کہ اکثر شادیوں کے موقع پر رسم و رواج کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لیکن انہیں ضرورت سے زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہئے۔ برگٹ ایڈم کے بقول، ’’شادی بہرحال شادی ہوتی ہے اور کوئی ایسی دوپہر یا شام نہیں جہاں سارے لوگ مل کر درجنوں کھیل کھیلتے رہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK