میڈیکل،انجینئرنگ میں کریئرکی خواہش والےطلبہ کوایمس اورآئی آئی ٹی میں داخلےکاخواب دیکھنا چاہئے

Updated: July 05, 2022, 12:02 PM IST | Qutbuddin Shahid | Mumbai

’تعلیم نامہ‘ سیریز کی تیسری قسط میں ماہرین نے والدین کو پوری طرح سے بیدار رہنے اور طلبہ میں مہارت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ کوشش اگر مسلسل کی جائے اور صحیح سمت میں کی جائے تو اس کے مثبت نتائج ضرور برآمد ہوتے ہیں

From right, Abdul Razzaq Hanotagi, Tanveer Sheikh, Qutbuddin Shahid and Amir Ansari.Picture: Inquilab,Sayyed Samir Abidi
دائیں سےعبدالرزاق ہنوتاگی، تنویر شیخ، قطب الدین شاہد اور عامرانصاری تصویر: انقلاب، سید سمیرعابدی

روزنامہ انقلاب کے زیر اہتمام پیش کی جانے والی ’تعلیم نامہ‘ سیریز کی   یہ تیسری قسط ہے جس کا انعقادگزشتہ دنوں انجمن اسلام میں ’ایجوکیشن ایکسپو‘ کے موقع پرکیا گیا تھا۔ اس سلسلے کی پہلی قسط کا اہتمام دفتر انقلاب میں جبکہ دوسری قسط ’جشن انقلاب‘ کے دوران بھیونڈی میں ہوا تھا۔ 
 ’تعلیم نامہ‘ کی اس تیسری قسط میں آج  ہم کریئر سازی کے موضوع پر گفتگو کریںگے۔ کریئر ایک بہت جامع لفظ ہے۔ دیکھا جائے تو کریئر ہی ہماری زندگی کا رُخ متعین کرتا ہے۔ کریئرکا مناسب انتخاب جہاں کسی فرد اوراس سے وابستہ متعلقین کیلئے راحت و اطمینان کا سامان فراہم کرتا ہے، وہیں کریئر کا غلط انتخاب اس کی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔ آج ہم یہاں کریئر کے مناسب انتخاب پر گفتگو کریں گے۔  اس موضوع پر گفتگو کیلئے  ہمارے ساتھ جو مہمانان تشریف فرما ہیں،  ان کا شمار اس شعبے کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ طلبہ کے رجحان، ان کی پسند اور ان کی صلاحیتوں کی مناسبت سے ان کیلئے کون سا شعبہ زیادہ کارآمد ہوگا، یہ ماہرین  اس سلسلے میں طلبہ اور ان کے والدین کی رہنمائی کریںگے۔
 سب سے پہلے ہم تنویر شیخ صاحب سے جاننا چاہیں گےجو شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹ کی ممبئی شاخ کے سربراہ ہیں۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کے تعلق سے بہت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔اسے عصری اور دینی تعلیم کا حسین امتزاج قرار دیا جاسکتا ہے۔ 
 تنویر صاحب!سب سے پہلے آپ ہمیں ’شاہین‘ کے بارے میں کچھ بتائیے  اور  پھر اُن طلبہ کی رہنمائی کیجئے جو ابھی دسویں اور بارہویں کے امتحان سے گزرے ہیں یا ان جماعتوں میں داخل ہوئے ہیں۔
تنویر شیخ:شاہین ایک ایسا ادارہ ہے جس پر قوم بجا طو ر پر فخر کر سکتی ہے۔ خلیجی ملک میں  ایک اچھی اور مستحکم ملازمت کو چھوڑ کرایک شخص  ۱۸؍ طلبہ کے ساتھ جس سفر کا آغاز کیا تھا، وہ آج ایک بڑے کارواں کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔۳۲؍ سال قبل ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس کی بنیاد ایک چھوٹے سے کلاس روم سے کی تھی،آج الحمدللہ  اس ادارے کے پاس ۲۰؍ ہزار سے زائد طلبہ صرف بیدر (کرناٹک) کے برانچ میں زیر تعلیم ہیں۔ ان میں تقریباً ۱۰؍ ہزار طلبہ کا تعلق ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں اور مختلف طبقات و مذاہب سے ہے۔ ہمارے یہاں طلبہ میں پوشیدہ اس کی خصوصی صلاحیتوں کی شناخت کی جاتی ہے اور اس کی مناسبت سے کریئر سازی کی منصوبہ بندی کیلئے اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ہم ہر طلبہ کیلئے ۲؍ چیزوں (میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم) پر خاص توجہ دیتے ہیں،اس کے علاوہ مقابلہ جاتی امتحانات کیلئے بھی فوکس کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ہائی اسکول، جونیئر کالج اور اس سے آگے کی تعلیم کیلئے ڈگری کالج بھی ہیں لیکن ہمارے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر اور ہم لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہمیں اپنے طلبہ کیلئے پروفیشنل کورسیزکا انتخاب کرنا ہے اور انہیں اچھے انسٹی ٹیوٹ  میں داخلہ دلانا ہے تو اس کیلئے کالجزکے قیام سے زیادہ ضروری ان طلبہ کو ان کورسیز کیلئے ہونے والے انٹرنس امتحان میں کامیاب کرانے کی کوشش کرنا ہے۔  جیسے سائنس کے طلبہ کیلئے ۱۲؍ ویں کے بعد ’نیٹ‘ اور ’جے ای ای‘ یا پھرمختلف ریاستوں  میں’سی ای ٹی‘ کے انٹرنس امتحان ہوتے ہیں۔ ان امتحانات کے میرٹ ہولڈرس  طلبہ کو گورنمنٹ کالجز میں داخلہ ملتا ہے جہاں فیکلٹی اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں، تعلیمی سہولیات بہت اچھی ہوتی ہیں اور فیس بہت کم ہوتی ہے۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے طلبہ ان امتحانات میں شریک ہوں، اچھے مارکس حاصل کریں اور معمولی فیس پر من پسند اور بہترین کالجز میں داخلہ پائیں۔
 اسلئے عزیز طلبہ! اگرآپ دسویں جماعت کا امتحان دیئے ہیں یا اس مرحلے سے آگے نکل چکے ہیں اور ابھی تک اپنے کریئر کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کرسکے ہیں تو خدارا جلدی کریں۔ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے، اسلئے آج بلکہ ابھی سے اس بارے میں سنجیدہ ہوجائیں اور اپنے آئندہ کے ایک ایک لمحے کا حساب رکھیں۔ مجھے یہاں یہ بتاتے ہوئے نہایت فخر محسوس ہورہا ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں سے کرناٹک میں جتنی بھی گورنمنٹ سیٹیں ہوتی ہیں، ان میں ۱۵؍ سے ۲۰؍ فیصد سیٹوں پر شاہین کے طلبہ کا قبضہ ہوتا ہے۔ الحمد للہ امسال یہ تعداد ۳۰؍فیصد پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ شاہین کی ایک طالبہ نے ناگپور ایمس اور ایک طالبہ نے رائے پور ایمس میں    داخلہ لیا ہے۔عزیز طلبہ!آپ تمام میں بھی وہ صلاحیت موجود ہے۔آپ بھی مشکل سے مشکل امتحان میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ بس ضرورت ہےکہ مناسب وقت پر اورصحیح  سمت میں کوشش کریں او ر یہ کوشش جاری رکھیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ بلاتعطل روزانہ ۱۰؍ گھنٹے تک پڑھائی کریں۔    اور اس درمیان  جو  بہت ضروری ہے ، وہ یہ کہ ان امتحانات میں کامیابی تک موبائل سے دور رہیں۔   یہ آپ کی کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ میں اسے ’نیو ایج ڈرگ‘ کہتا ہوں۔ یہ الیکٹرانک آلہ آپ اور آپ کی کامیابی کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میں اپنے بچوں سے کہنا چاہوں گا کہ میڈیکل اور انجینئرنگ میں کریئر کی خواہش رکھنے والے طلبہ ایمس اور آئی آئی ٹی میں داخلے کا خواب دیکھیں اور اس کی مناسبت سے کوشش کریں۔
 کیا اس طرح کی تیاری ہمارے طلبہ خود سے بھی کرسکتے ہیں یا ان کیلئے کسی کلاسیز کی مدد  لینا ضروری ہوگا؟
تنویر شیخ: اگر میں یہ کہوں تو بہت غلط ہوگا کہ طلبہ اس طرح کی تیاری خود سے نہیں کرسکتے۔ بلاشبہ کرسکتے ہیں۔ ایسے کئی طلبہ ہر سال اہم کالجز میں داخلہ لیتے ہیں جو اِن امتحانات کی تیاری اپنے طور پر کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض طلبہ کا تعلق تو اُن دیہی علاقوں سے بھی ہوتا ہے جہاں ٹھیک سے بجلی اور انٹرنیٹ کی رسائی بھی نہیں ہے... لیکن یہ وہ طلبہ ہیں جن میں کمٹمنٹ ہوتا ہے۔ جہاں چاہ ہوتی، وہاں راہ نکل ہی آتی ہے۔ رہی بات کلاسیز کی، تو وہاں طلبہ میں کمٹمنٹ ہی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر اس کیلئے انہیں ضروری مواد فراہم کیا جاتا ہے۔
 ہمارے دوسرے مہمان عامر انصاری صاحب ہیںجو ایک معروف کریئر  کاونسلر ہیں اور برسوں سے روزنامہ انقلاب کے ذریعہ طلبہ کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔اس کے علاوہ آپ مدنی ہائی اسکول ، جوگیشوری کے ہیڈ ماسٹر بھی ہیں۔ سر! ہم آپ سے جاننا چاہیں گے کہ اس وقت طلبہ کا رجحان کس طرف ہے اور انہیں اپنے کریئر کیلئے انتخاب کیلئے کس با ت کا خیال رکھنا چاہئے؟ 
عامر انصاری:گزشتہ ۷۔۵؍ برسوں میں عالمی سطح پرجو تبدیلیاں آئی ہیں اور جس طرح دنیا کے ہرشعبے میں سائنس اور ٹیکنالو جی کے اثرات بڑھے ہیں، ان سے ہمارا تعلیمی شعبہ بھی  متاثر  ہے۔ گلوبلائزیشن اور پرائیویٹائزیشن کے بہت سارے ’پلس پوائنٹ‘ ہمارے طلبہ کو بھی مل رہے ہیں جو آج سے  آٹھ دس سال پہلے انہیں میسر نہیں تھے۔ مثال کے طورپر ۱۰؍ سال قبل اگر ہمارے کسی طالب علم میں آکسفوڈ یونیورسٹی سے عالمی سطح کا کوئی کورس کرنے کی خواہش رہی ہو تو  اس خواہش کی تکمیل اس کیلئے ناممکن ہوجاتی تھی ، اگر اس کے پاس پیسے اور وسائل نہیں ہوتے تھے لیکن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے اس انقلاب نے  اس ناممکن کو بھی ممکن کردیا ہے۔ اب ہمارے طلبہ گھر بیٹھے عالمی سطح کی یونیورسٹیز اور عالمی سطح کے کورسیز سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ جہاں تک تعلیمی رجحان کی بات ہے، تو میں یہاں کہنا چاہوں گا کہ ہمارا تعلیمی شعبہ فی الحال ’ٹرانزیشن کے دور‘ سے گزر رہا ہے، اسلئے اس دور کو سمجھنا ہمارے طلبہ اور ان کے والدین کیلئے بہت ضروری ہے۔ پہلے دسویں اور بارہویں کے نتائج ظاہر ہونے کے بعد طلبہ میں جو مسرت نظر آتی تھی، گزشتہ چار پانچ برسوں سے میں وہ اپنے طلبہ کے چہروں پر نہیں دیکھ پار ہا ہوں۔ طلبہ کے ذہن پر ایک بوجھ رہتا ہے کہ بارہویں تو ہوگیا لیکن ابھی ’نیٹ‘ باقی ہے، ’سی ای ٹی، کلیٹ اور ناٹا‘ کا رزلٹ  آنا باقی ہےکیونکہ اس کے بعد ہی کریئر کا انتخاب کیا جاسکے گا۔اسلئے ’ٹرانزیشن کے اس دور‘ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم نے اسے سمجھنے میں کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا تو بہت سارے مواقع کو گنوادیں گے اور اگر بیدار رہے تو ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مثال کے طور پر آج کی تاریخ میں اگر کسی دور دراز علاقے کا کوئی چھوٹا سا اسکول بھی کسی عالمی سطح کے ادارے سے اشتراک کرنا چاہئے تو وہ یہ کام اس کیلئے ممکن ہے۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بین الاقوامی سطح کے اداروں کے اساتذہ ہمارے بچوں کو تعلیم دے سکتے ہیں، اسٹڈی مٹیریل فراہم کرسکتے ہیں۔
 عزیز طلبہ! یہ زمانہ’ایکسی لینس‘ اورمہارت کا ہے۔ اگر آپ کارپینٹری بھی کرنا چاہیں تو اس میں مہارت حاصل کریں۔ یہ کارپینٹری ایسی ہو کہ جب کوئی بڑا شاپنگ مال بنے تواس کی تزئین و آرائش کیلئے آپ کی خدمات حاصل کی جائیں اور آپ جب وہاں جائیں تو آپ کا شایان شان استقبال ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ فیشن ڈیزائننگ اور گلی محلے کے ٹیلر میں کیا فرق ہے؟ یہ فرق آپ کو سمجھنا ہوگا۔ یہی  ایکسی لینس اور مہارت ہے۔
ہمارے بچوں کو میڈیکل اور انجینئرنگ  سےمتعلق کافی معلومات یہاں وہاں سے مل جاتی ہیں، میں یہاں پر کامرس کے تعلق سے کچھ جاننا چاہوں گا۔ کچھ ایسے کورسیز کے بارے میں بتائیں جو تھوڑا الگ ہوں۔
عامر انصاری:سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ کریئر کے انتخاب کا جو پرانا طریقہ اور رجحان ہے، اسے اب ٹوٹ جانا چاہئے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ ۹۰؍  فیصد سے زیادہ ہو تو سائنس، ۷۰؍ سے ۹۰؍ کے درمیان آئے تو کامرس اور اس سے کم آئے تو آرٹس۔ اب یہ سوچ ختم ہوجانی چاہئے۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ ہمارے بچے کا رجحان کیا ہے اور اس کی دلچسپی کس طرف ہے اور اس کا مشاہدہ ۵؍ویں سے ۱۰؍ ویں جماعت تک کرتے رہنا ہوگا۔ والدین کو دیکھنا ہوگا کہ بچے کا رزلٹ کیا کہتا ہے؟ اس پر اس کے اساتذہ کیا ریمارکس دیتے ہیں؟  جہاں تک کامرس اور ہیومنٹیز کی بات ہے، میں کہوں گا کہ اسے نظر انداز کیا جارہا ہے حالانکہ آج جتنی بھی بین الاقوامی کمپنیاں ہیں، آج کی تاریخ میں وہاں پر جو لوگ راج کررہے ہیں، وہ وہی ہوتے ہیں جن کے پاس کامرس اور ٹیکنا لوجی کی مشترکہ تعلیم ہوتی ہے۔ آج دنیا کے بیشتر ’سی اوز‘ کا تعلق کامرس شعبے سے ہوتا ہے۔ 
 ابھی ہم نے میڈیکل ایجوکیشن اور اس کے بعد کامرس کے بارے معلومات حاصل کی ۔ اب ہم انجینئرنگ کے حوالے سے کچھ بات کریں گے۔ ہمارے تیسرے مہمان عبدالرزاق ہنوتاگی ہیں جو انجمن اسلام کے زیر اہتمام جاری’ کالسیکر ٹیکنیکل کیمپس، پنویل‘ کے بانی ڈائریکٹر ہیں۔ہم آپ سے جاننا چاہیں گے کہ وہ طلبہ جو انجینئرنگ میں کریئر بنا نا چاہتے ہیں، وہ پہلے سے کس طرح کی تیاری کریں؟
عبدالرزاق ہنوتاگی: یہ معلومات کا دور ہے، اسے معلومات کے سمندر کا دور بھی کہہ سکتے ہیں ۔ یہ ساری معلومات ہماری انگلیوں کے ایک اشارے کی محتاج ہے لیکن وہ ایسی ہے کہ ان میں سے اپنے کام کی معلومات کی تمیز کرنا مشکل ہوجائے۔ میں طلبہ اور ان کے والدین سے یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کریئر کے انتخاب سے قبل وہ سائنٹفک طریقے سے طلبہ میں اُن صلاحیتوں کو پہچانیں جو اس میں پائی جاتی ہے۔ اپٹی ٹیوڈٹیسٹ کے ذریعہ یہ دیکھنا چاہئے کہ طلبہ میں انجینئرنگ کا رجحان ہے یا نہیں  یا پھر یہ کہ اس کی دلچسپی کس طرف ہے۔ جیسا کہ آپ کا سوال ہے کہ وہ طلبہ جو اس طرح کا رخ کرنا چاہتے ہیں، انہیں پہلے کیا کرنا چاہئے۔ تو پہلا کام یہی ہے کہ وہ اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ کرائیں۔  اس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ دسویں سے بارہویں کے درمیان طلبہ کی ریاضی اور اس کے ساتھ ہی اس کی انگریزی پر خاص توجہ دیں۔ 
سماج میں ایک مفروضہ ہے کہ انجینئروں کو نوکری نہیں ملتی، کیا یہ درست ہے؟
عبدالرزاق ہنوتاگی:ابھی جیسا کہ عامر صاحب نے کہا کہ آج کے دور میں ایکسی لینس کی ضرورت ہے۔  یہاں بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔ جو طلبہ جیسے تیسے پاس ہوکر ملازمت کی تلاش میں نکلتے ہیں، ان کیلئے راہیں مسدود ہیں لیکن جو طلبہ پوری تیاری کے ساتھ باہر نکلتے ہیں، انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔  دراصل انجینئرنگ کے تیسرے اور چوتھے سال میں داخل ہونے کے بعد طلبہ کیلئے بہت سارے ایسے کورسیز ہیں جن کی تکمیل کے بعد ان کی مہارت بڑھ جاتی ہے اور وہ انڈسٹری کیلئے کارآمد ہوتے ہیں۔اسلئے طلبہ کو ان کورسیز سے ڈگری کے حصول کے ساتھ ہی استفادہ کرنا چاہئے۔
ابھی آپ کے یہاں یو پی ایس سی کی تیاری سے متعلق جو پروگرام شروع ہوا ہے، کچھ اس کے بارے میں بتائیں؟ 
عبدالرزاق ہنوتاگی: یہ ہمارے پنویل کے کیمپس کیلئے ڈیزائن کیا گیا ایک  ایسا پروگرام ہے جس میں طلبہ کی یو پی ایس سی امتحان کی کوچنگ کرائی جاتی ہے۔ اس کے تحت طلبہ کو قیام و طعام کے ساتھ ان کے تمام تر تعلیمی لوازمات بھی فراہم کئے جاتے ہیں اور یہ سب مفت ہوتا ہے۔ اس کی فنڈنگ مرکزی حکومت کے اقلیتی محکمے کی طرف سے ہوتا ہے۔n
تعلیم نامہ کی تیسری قسط یوٹیوب چینل پربھی ملاحظہ فرمائیں 
 اس گفتگو کو انقلاب کے یو ٹیوب چینل پر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جس میں کریئر سے متعلق مزید کئی باتیں زیادہ تفصیل کے ساتھ سنی اور دیکھی جاسکتی ہیں۔ ویڈیودیکھنے کے لئے اپنے موبائل فون کے کیمرے سے اس  کیو آرکوڈ کو اسکین کریں ۔

youth women Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK