جواہر لال نہرو نے ’دی ڈسکوری آف انڈیا‘ میں مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک بات لکھی تھی۔ انہوں نے اس احساس کو الفاظ دئیے جسے بہت سے لوگوں نے محسوس تو کیا تھا لیکن اتنی صاف طرح سے کبھی نہیں کہاتھا۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 2:56 PM IST | Mumbai
جواہر لال نہرو نے ’دی ڈسکوری آف انڈیا‘ میں مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک بات لکھی تھی۔ انہوں نے اس احساس کو الفاظ دئیے جسے بہت سے لوگوں نے محسوس تو کیا تھا لیکن اتنی صاف طرح سے کبھی نہیں کہاتھا۔
جواہر لال نہرو نے ’دی ڈسکوری آف انڈیا‘ میں مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک بات لکھی تھی۔ انہوں نے اس احساس کو الفاظ دئیے جسے بہت سے لوگوں نے محسوس تو کیا تھا لیکن اتنی صاف طرح سے کبھی نہیں کہاتھا۔ نہرو کی بات کو تھوڑا آسان کرکے کہیں تو برطانوی حکومت کے دوران ہندوستان میں سب سے بڑا احساس خوف کا تھا۔ ہر جگہ پھیلا ہوا اور گلا گھونٹنے والا ڈر۔ پولیس کا ڈر۔ افسران کا ڈر۔ عوام کو دبانے کیلئےبنائے گئے قوانین اور جیل کا ڈر۔ اور پھر گاندھی آئے توایسا لگا جیسے اچانک لوگوں کے سر سے ڈر کے سیاہ بادل چھٹ گئے۔
میں شروعات اس طرح نہیں کر رہا ہوں کہ بی جے پی کے دور اقتدار کا موازنہ برطانوی آبادیات سے کیا جائے۔ آخر کار برطانوی حکمرانوں کو ہندوستان کے عوام نے منتخب نہیں کیا تھا۔ نہ ہی میرا مقصد گاندھی اور سونم وانگ چک کے درمیان کوئی مماثلت بتانا ہے۔ میں نہرو کے اس بیان کو ایک سیاسی تمثیل کے طور پر استعمال کر رہا ہوں۔ یہ بات اچھی طرح سے جانی جاتی ہے کہ منتخب سرکاریں بھی اختلاف رائے کو دباکر۔ مخالفت کرنے والوں کو دھمکا کر۔ ہر جگہ نگرانی بڑھاکراور ہر قیمت پر اپنا دبدبہ بنانے کی کوشش کرکے ڈر اور خوف کا ماحول بنا سکتی ہیں۔ گزشتہ قریب ایک دہائی میں بی جے پی کی حکومت میں یہ تمام باتیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ انتخابی جیت کو سماج اور غیر منتخب اداروں پر پوری طرح کنٹرول حاصل کرنےکے لائسنس کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اعلیٰ تعلیم کی بے توقیری کو بیان کرنے والی عبرتناک داستان
دہلی کے جنتر منتر اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی طلبہ کی تحریک نے ڈر کا ماحول ختم کیا ہے۔ حالانکہ یہ احتجاج شروعات سے تعلیمی اصلاحات کے تعلق سے تھا لیکن بعد میں یہ مودی حکومت کے کام کرنے کے طریقے پر ایک شدید تنقید بن گئی۔ حکومت نے اس احتجاج کو اپنے لئے خطرے کے طور پر دیکھا اور شروع ہی سے اسے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا لیکن پیلٹ گن اور کیٖل لگی لاٹھیاں بھی طلبہ کو خاموش کرنے میں ناکام رہے۔ احتجاج کرنے والوں کی تعداد لگاتار بڑھتی گئی اور احتجاج لگاتار جاری رہے۔ آخرکار حکومت میں ملک کے نوجوانوں پر مزید طاقت استعمال کرنے کی ہمت نہیں رہی اور اسے ان کے سامنے جھکنا پڑا۔
جس دور میں ہم رہ رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے طلبہ کے حوصلے اور ہمت کے ایک اور رخ پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ ان احتجاج اور مظاہروں کے دوران زمینی سطح پردکھائی دینے والی جرأت کے ساتھ ساتھ آن لائن پر بھی کسی قسم کا کوئی خوف نظر نہیں آیا۔ گزشتہ کچھ برسوں میں بی جے پی کا سوشل میڈیا پرکافی دبدبہ رہا ہے۔ طلبہ نے اس صورتحال کو بدل کررکھ دیا۔ طنز اورمذاق جو کافی بےباک تھے۔ ان سب کو انہوں نے اپنی تنقید کے ساتھ جوڑا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی گھرانوں میں پروٹین کا بڑھتا’پریمیم‘ بخار، صحتمند زندگی کی نئی دوڑ!
ٹھیک اسی طرح جیسے ہندو تواوادی گروہ کئی برسوں سے آن لائن اس طریقوں کا استعمال کرتے آئے ہیں۔ آخر میں سوشل میڈیا پر بی جے پی کی مضبوط طاقت بے اثر ہوگئی۔ مظاہرین کو بدنام کرنے کے پرانے طریقے۔ انہیں ملک دشمن قرار دینا۔ ان کے احتجاج کو غیر ملکی فنڈنگ ملنے کی بات کہنا اور ان کی زبان کو ہندوستانی ثقافت کی توہین قرار دینا۔ کچھ بھی کام نہیں آیا۔ یہاں تک کہ نام نہاد’گودی میڈیا‘ کے ٹی وی اینکر اور رپورٹر بھی۔ جو لگاتار بی جے پی حکومت کی تاریخی عظمت کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ طلبہ کے غصے سے بچ نہیں سکے۔ بیانئے پر کنٹرول۔ جو کہ ہندوستانی قوم پرست سیاسی حکمت عملی کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ پوری طرح سے کمزور پڑ گیا ہے۔
لیکن کیا ڈر اور خوف کا ماحول ہمیشہ کیلئےختم ہوگیا ہے۔ ایسا کہنا بالکل صحیح نہیں ہوگا۔ جب حالات بدلیں گے تو بی جے پی کے پلٹ کر جواب دینے کا پورا خدشہ ہے۔ وہ اظہار رائے کی آزادی میں یقین نہیں کرتی۔ اس کے بجائے دنیا بھر کی دائیں بازوں کی پاپولسٹ پارٹیوں کی طرح۔ موجودہ بی جے پی بھی اظہار رائے کی آزادی کو اپنے لئے رکھنا چاہتی ہے جبکہ اپنے مخالفین اورتنقید کرنے والوں کی آزادی کو محدود کرنا چاہتی ہے اور بہت سختی سے ایسا کرتی ہے لیکن فی الحال اختلاف رائے کیلئےضروری جگہیں یقینی طور پر کھلی ہیں۔
اسے سمجھنے کا ایک نظریاتی طریقہ بھی ہے۔شہریوںکا احتجاج جمہوریت کےکمزور ہونےکے عمل کو سست کر سکتا ہے لیکن جمہوریت کی طاقت پوری طرح بحال ہوگی یا نہیں یہ اس بات پر زیادہ منحصر ہے کہ انتخابی میدان سے باہر ملنے والی ان کامیابیوں کا استعمال انتخابی سیاست میں کیسے کیا جاتا ہے۔ اپنے نام کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کوئی اصل سیاسی پارٹی نہیں ہے۔یہ ایک تحریک ہے۔تحریک کی سیاست اور انتخابی سیاست ۲؍الگ الگ چیزیں ہیں لیکن اس احتجاج نے پہلے ہی ایک ایسی کامیابی حاصل کر لی ہےجو کہ بالکل غیر معمولی ہے۔ ہندوستان کی سیاست کو تعلیم نے کبھی سمت نہیں دی ہے۔تعلیم پر یونیورسٹیوں کے سیمیناروں، انگریزی اخباروں اور نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین کی صلاحیتوں سے جڑی تھیوری پر ہونے والی کانفرنس میں بحث ضرو ر ہوئی ہے لیکن تعلیم نے نہ تو کبھی بڑے عوامی احتجاج کو چلایا ہے، نہ ہی انتخابی مہمات کو۔ ۷۵۔۱۹۷۴ء کے مشہور جے پی تحریک میں طلبہ اس کی ریڈھ کی ہڈی ضرور تھے لیکن وہ تحریک تعلیم کی وجہ سے نہیں بلکہ بےروزگاری،مہنگائی اور بدعنوانی کے مسائل پر چلائی گئی تھی۔
اس معاملے میں ۲؍جزوی استثناء ضرور ہیں۔۲۰؍ویں صدی کی آغاز میں نارائن گرو نے کیرالا کے ایجھوا سماج کے درمیان ذات پات کے خلاف تحریک کو’ تعلیم کے ذریعےبیدار ہو اور تنظیم کے ذریعے مضبوط بنو‘ کے نعرے کے ساتھ آگے بڑھایا تھا اور دلتوں کی آزادی کیلئے بی آر امبیڈکر کی سیاست کا اہم نعرہ بھی ’تعلیم حاصل کرو،جد و جہد کرو،متحد ہو جاؤ‘تھا،لیکن آج امبیڈکر کا اثر ان کی زندگی کے مقابلے زیادہ ہے۔کُل ملاکر ملک کی انتخابی سیاست اور احتجاجی سیاست تعلیم سے جڑے مسائل کی بنیاد پر نہیں چلی ہے۔ ایک ایسی تحریک ہونے کی وجہ سے ،جس کی گونج الگ الگ خطوں تک پہنچی ہے،سی جے پی تعلیم کے تعلق سےملک کی سیاسی جمود کو کچھ حد تک ضرور توڑ سکتی ہے۔موجودہ دور کے بعد جمہوریت پر اس کے اثرات کو دیکھیں تو اصل سوال یہ ہےکہ سی جے پی تحریک کا جوش انتخابی اور پارٹی سیاست کو کس طرح متاثر کرےگی۔بی جے پی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے پرانے اتحادی خاموش ہیں اور نئے اتحادی پریشان۔
لیکن کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو احتجاج سے واضح طور پر فائدہ ہوا ہے۔خاص طور پر راہل گاندھی کی سیاسی حیثیت کافی حد تک بحال ہوئی ہے۔ حال ہی میں اسمبلی انتخابات کے بعد ایک بار پھر انہیں غیر موثر لیڈرقرار دینے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن دہلی پولیس کی طرف سے انہیں دھرنے سے کھینچ کر سڑک پر لانا اور ان کے منہ سے خون نکلنا، اس تحریک کی سب سے زیادہ توجہ کھینچنے والی تصویروں میں سے ایک ہے۔ ابتدا میں ان کا موقف چاہے جو بھی رہا ہو، بعد میں انہوں نے تحریک کی جس طرح حمایت کی، وہ بے خوف اور مسلسل تھی۔ ہندوستان کے نوجوان اسے ضرور دیکھ رہے ہوں گے۔