یہ غلطیاں وزن بڑھانے کا سبب بنتی ہیں

Updated: September 27, 2022, 1:49 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

عام خیال ہے کہ جس خاتون کا وزن زیادہ ہے اس کی خوراک زیادہ اور کام کم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جو کھاتی کم ہیں، پھر بھی ان کا وزن بڑھتا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے وہ غلطیاں ہیں جو خواتین سے سرزد ہو جایا کرتی ہیں۔ اِن سے اپنا پیچھا چھڑانے کی ضرورت ہے

Eating irregularly can make you gain weight .Picture:INN
وقت بے وقت کھانے کی عادت آپ کا وزن بڑھا سکتی ہے۔ تصویر:آئی این این

’موٹاپا آج کے دور کے جسمانی مسائل میں سے ایک ہےجس کا شکار خواتین زیادہ ہوتی ہیں۔ موٹاپے کا تعلق صرف اور صرف کھانے، پینے سے نہیں بلکہ اس کی دیگر پوشیدہ وجوہات بھی ہوتی ہیں۔ عام خیال ہے کہ جس خاتون کا وزن زیادہ ہے اس کی خوراک زیادہ اور کام کم ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جو کھاتی کم ہیں، پھر بھی ان کا وزن بڑھتا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے وہ غلطیاں ہیں جو خواتین سے سرزد ہو جایا کرتی ہیں۔ اِن سے اپنا پیچھا چھڑانے کی ضرورت ہے۔ ان غلطیوں کے بارے میں جانیں:
مکمل خوراک نہ لینا
 اگر آپ بھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ کم کھانے سے وزن کم کیا جاسکتا ہے تو جان لیجئے آپ غلطی پر ہیں۔ کم کیلوری والی غذا کھانے سے آپ کا وزن شروع میں کم ہو سکتا ہے لیکن کچھ عرصے کے بعد اس کے نتائج منفی آتے ہیں۔ جب ہم اپنی خوراک کم کرتے ہیں تو ہمارا دماغ یہ سوچنے لگتا ہے کہ ہم کسی مشکل میں ہیں اور وہ ہمارے جسم کے مختلف عمل کو سست روی کا شکار بنا دیتے ہیں۔ یہ مختلف عمل کیلوریز کو جلانے کے علاوہ میٹابولز اور بلڈ پریشر کے نظام کو متوازن رکھنے کے حوالے سے اہم ہوتے ہیں لیکن ان عمل میں خرابی وزن بڑھانے کا سبب بننے لگتی ہے۔
مخصوص غذاؤں کو اپنی خوراک سے نہ نکالیں
 اگر آپ چند مخصوص غذائیں کھانے سے اجتناب کرتی ہیں تو آپ کو چاہئے کہ اب آگے بڑھیں۔ کسی بھی مکمل یا مخصوص فوڈ گروپ جیسے پروٹین، کارب اور چربی کو اپنی خوراک سے ختم نہ کریں۔ یہ چیزیں بھی آپ کی خوراک میں لازمی ہونی چاہئیں کیونکہ یہ آپ کو وٹامن، معدنیات، فائبر اور اینٹی آکسیڈینٹ فراہم کرتی ہیں۔
زیادہ ورزش فائدہ مند نہیں
 بہت زیادہ ورزش بھی وزن کم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی۔ یہ حقیقت ہے کہ باقاعدگی سے کی جانے والی ورزش وزن کم کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن اضافی ورزش کرنے سے اکثر نتیجہ الٹ نکلتا ہے۔ کئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وزن کم کرنے میں ۷۰؍ فیصد اہم کردار غذا کا جبکہ ۳۰؍ فیصد کردار ورزش کا ہوتا ہے۔
نیند پوری نہ کرنا
 نیند آپ کے وزن میں کمی کے سفر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ روزانہ ۶؍ سے ۸؍ گھنٹے تک نہ سونا آپ کے وزن میں کمی کے سفر کو متاثر کر سکتا ہے۔ نیند سے محروم افراد میں میٹابولزم کی کارکردگی سست پڑ جاتی ہے ان لوگوں کے مقابلے میں جو روزانہ ۶؍ سے ۸؍ گھنٹے سوتے ہیں۔
نیند کا کوئی معمول نہ ہونا
 ۹؍ گھنٹے یا اس سے زیادہ یا بہت کم ۵؍ گھنٹے سے کم نیند کو جسمانی وزن میں اضافے سے جوڑا جاتا ہے۔ بہت کم یا زیادہ نیند سے جسم ان ہارمونز کو بنانے سے قاصر ہونے لگتا ہے جو کھانے کی اشتہا اور بھوک کو کنٹرول کرتے ہیں، اور ہاں نیند کی کمی سے تھکاوٹ کے باعث لوگ ورزش کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
کم پانی پینا
 روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ پانی میں کوئی کیلوریز نہیں ہوتیں تو یہ جسمانی وزن میں اضافے کے بغیر پیاس کو بجھاتا ہے۔ جب آپ مناسب مقدار میں پانی پیتی ہیں تو زیادہ امکان ہوتا ہے کہ سوڈا، بازار کے فروٹ جوسز یا دیگر میٹھے مشروبات کا بھی کم استعمال کریں۔ میٹھے مشروبات زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں۔
کھانے کا وقت نہ ہونا
 جب کھانے کا وقت طے نہ ہو اور ایک سے دوسرے کھانے کے درمیان وقفہ زیادہ ہو تو کھانے کو سامنے دیکھ کر خواتین بہت زیادہ بھوک کی وجہ سے زیادہ کھا لیتی ہیں۔ تو بہتر ہے کہ کھانوں کے درمیان وقفہ کم ہو اور پلیٹوں میں کم مقدار میں کھانا نکالیں۔
گھر کی جگہ باہر کے کھانوں کو ترجیح دینا
 جب آپ گھر کی جگہ ہوٹلوں کے کھانے زیادہ پسند کرتی ہیں تو وزن کو کنٹرول رکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ درحقیقت ان غذاؤں میں آپ کے اندازے سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں۔
 زیادہ تر بیٹھے رہنا
 دیر تک بیٹھے رہنا بھی نقصاندہ ہوتا ہے۔ جب آپ بغیر حرکت کئے بہت دیر تک بیٹھی رہتی ہیں تو آپ کا جسم لیپیس پیدا کرنا بند کر دیتا ہے، یہ ایک چربی روکنے والا انزائم ہے جو آپ کے وزن میں کمی کے مقصد کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تناؤ کا شکار رہنا
 اگر آپ تناؤ محسوس کررہی ہیں تو اس حالت میں زیادہ امکان ہوتا ہے کہ آپ کا غذائی انتخاب بھی صحت کے لئے نقصاندہ اور زیادہ کیلوریز والا ہوگا، جس سے ذہن کو سکون محسوس ہوتا ہے، بلکہ اس وقت بھی کچھ کھالیتے ہیں جب جسم کو غذا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا خود کو پُرسکون رکھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK