یہی بچے کل ہمارے معاشرے، ہمارے ملک اور ہماری آنے والی دنیا کی مضبوط بنیاد بنیں گے۔
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 4:02 PM IST | Humaira Aasif | Mumbai
یہی بچے کل ہمارے معاشرے، ہمارے ملک اور ہماری آنے والی دنیا کی مضبوط بنیاد بنیں گے۔
بحیثیت معلمہ مجھے شدت سے اس بات کا احساس رہتا ہے کہ آج کا بچہ جس توجہ، پیار اور اچھی تربیت کا مستحق ہے، وہ آہستہ آہستہ اس سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ابتدا میں مجھے لگتا تھا کہ شاید یہ صرف میرا احساس یا مشاہدہ ہے مگر ہر پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں والدین کی گفتگو اس حقیقت کی تصدیق کر دیتی ہے۔
اکثر والدین شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ بچہ ان کی بات نہیں سنتا، ضد کرتا ہے، یا موبائل کا حد سے زیادہ استعمال کرتا ہے۔
میرا والدین سے ایک اہم سوال ہے: کیا ہماری تربیت بھی اسی انداز میں ہوئی تھی؟ کیا ہمارے والدین نے ہمیں صرف سہولیات فراہم کیں یا ہمیں وقت، رہنمائی اور اخلاقی تربیت بھی دی؟بچوں کی ضروریات پوری کرنا، اچھا کھانا کھلانا، مہنگے کپڑے دینا یا ہر آسائش مہیا کرنا یقیناً اہم ہےمگر یہ والدین کی مکمل ذمے داری نہیں۔ اصل ذمے داری بچوں کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت اور جذباتی نشوونما ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مزاج بخیر نہیں؟ کچھ ہی لمحوں میں خوشگوار ہو جائے گا، یہ چند نسخےآزما کر دیکھئے
بچہ سب سے پہلے اپنے گھر سے سیکھتا ہے۔ وہ الفاظ سے زیادہ رویوں کو سمجھتا ہے۔ اگر والدین خود موبائل میں مصروف رہیں، ایک دوسرے سے سخت لہجے میں بات کریں یا بچوں کو وقت نہ دیں، تو بچہ انہی رویوں کو اپنا لیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچے نصیحت سے کم اور مشاہدے سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو جذباتی طور پر کمزور، بے حس اور تنہائی کا شکار ہوگی۔ ہم اکثر بچوں کے رویوں کی شکایت کرتے ہیں مگر شاید ہم یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ ان رویوں کی بنیاد کہاں رکھی جا رہی ہے۔ ہم بچوں کو سننا ہی نہیں چاہتے۔آج کے دور میں اگر کوئی سب سے زیادہ ذہنی دباؤ اور الجھن کا شکار ہے تو وہ ہمارے بچے ہیں۔ انہیں والدین کے وقت کی کمی، اسکول کے دباؤ، نمبروں کی دوڑ، دوسروں سے موازنہ اور جذباتی سپورٹ نہ ملنے کی پریشانی ہوتی ہے۔ بعض والدین یہ سمجھتے ہیں کہ مہنگے اسکول میں داخلہ دلوانا ہی بہترین تربیت کی ضمانت ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف اداروں سے۔
یہ بھی پڑھئے: کسی زمانے میں مہمانوں کی وجہ سے گھر آنگن میں رونق اور برکت ہوتی تھی
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بچوں کی پرورش صرف ڈانٹ، غصے یا سزا سے نہیں ہوتی۔ ماضی میں بچوں کو محبت، نصیحت، مثال، اور مشاہدے کے ذریعے سکھایا جاتا تھا۔ آج ہم مصروفیات، تھکن اور ذہنی دباؤ کے باعث اکثر بچوں پر جھنجھلاہٹ نکالتے ہیں۔ ہم انہیں سننے کے بجائے صرف سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت سنے جانے کی ہوتی ہے۔آج معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، عدم برداشت اور جذباتی فاصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمیں اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بچے صرف ہماری ذمے داری نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسل، ہمارا مستقبل اور ہماری پہچان ہیں۔ اگر ہم نے آج انہیں محبت، اعتماد، وقت اور اچھی تربیت نہ دی تو کل ہم ایک ایسی نسل کا سامنا کریں گے جو جذباتی طور پر خالی اور سماجی طور پر کمزور ہوگی۔
میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کووقت دیں، ان سے بات کریں، ان کے احساسات کو سمجھیں، ان کے دوست بنیں۔