Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشرتی دباؤ کو نظر انداز کر کے فیصلے کئے جائیں تو بہتر!

Updated: May 07, 2026, 3:00 PM IST | Dr. Qamar Suroor | Mumbai

شادی ایک فطری، سماجی اور دینی ضرورت ہے مگر جب اسے رسم و رواج، دکھاوے اور غیر ضروری تقاضوں کے بوجھ تلے دبا دیا جائے تو یہی نعمت زحمت بن جاتی ہے۔

Marriage is becoming increasingly difficult due to inappropriate customs and traditions, a collective effort must be made to make it easier. Photo: INN
بے جا رسوم و رواج کی وجہ سے شادی مشکل ہوتی جا رہی ہے، آسان بنانے کیلئے اجتماعی کوشش کرنی ہوگی۔ تصویر: آئی این این

شادی ایک فطری، سماجی اور دینی ضرورت ہے مگر جب اسے رسم و رواج، دکھاوے اور غیر ضروری تقاضوں کے بوجھ تلے دبا دیا جائے تو یہی نعمت زحمت بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے بوجھ کیوں بناتے ہیں، اور اسے راحت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟

سب سے پہلی خرابی نیت کی ہے۔ جب شادی کو سادگی اور پاکیزگی کے بجائے نمائش، مسابقت اور برتری ثابت کرنے کا ذریعہ بنایا جائے تو اس کا مقصد ہی بدل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک خوشگوار رشتہ مالی، ذہنی اور جذباتی دباؤ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک اچھا مہمان وہ ہوتا ہے جو میزبان کے لئے آسانی کا سبب بنے، نہ کہ زحمت کا

جہیز کی لعنت اس بوجھ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ لڑکی والوں سے غیر ضروری مطالبات، قیمتی سامان کی فہرستیں اور معاشرتی دباؤ نے شادی کو کاروبار بنا دیا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ظلم ہے بلکہ اس کی وجہ سے کئی گھروں میں لڑکی کی پیدائش کو بھی بوجھ سمجھاجاتا ہے۔غیر ضروری رسومات اوراتنی ہی غیر ضروری تقریبات بھی اس بوجھ میں اضافہ کرتی ہیں۔ ہلدی ،مہندی، ڈال اوردیگر عنوانات کے نام پر بے جا اخراجات، مہنگے ہال، قیمتی لباس اور دکھاوے کے انتظامات ایک عام آدمی کی کمر توڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ خوشی کا تعلق سادگی سے ہے، اسراف سے نہیں۔

معاشرے کا دباؤ ایک اور بڑی وجہ ہے۔ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کا خوف ہمیں اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم اپنی خوشی بھول جاتے ہیں اوردوسروں کے جملے زیادہ یادرکھتے ہیں کہ ایسے موقعوں پر کون کیا کہتا ہے؟

لڑکے والوں کی غیر ذمہ داری بھی قابلِ غور ہے۔ اگر وہ خود کو برتر سمجھتے ہوئے مطالبات کریں تو یہ رشتہ محبت کے بجائے لین دین کا سودا بن جاتا ہے۔ ایک صالح معاشرے میں لڑکے والوں کو آسانی پیدا کرنے والا ہونا چاہیے، نہ کہ بوجھ بڑھانے والا۔

والدین کی سوچ بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بعض والدین اپنی اولاد کی شادی کو اپنی عزت اور شان کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پھر وہی عزت ان پر قرض اور پریشانی کی صورت میں بوجھ بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قیمتی زیورات کی آن لائن خریدار ی بھی کی جاسکتی ہے، ان طریقوں کو اپنائیں

شادی کو سامانِ راحت بنانے کے لئے ضروری ہے کہ:

نیت کو خالص رکھا جائے، یعنی مقصد صرف ایک پاکیزہ اور پُرسکون زندگی کا آغاز ہو۔

جہیز اور غیر ضروری مطالبات کوقبول نہ کرنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کیا جائے۔

سادگی کو اپنایا جائے، کم خرچ اور بابرکت نکاح کو ترجیح دی جائے۔

رسومات کے بجائے سنت کو اہمیت دی جائے۔

لڑکے اور لڑکی دونوں کے حقوق اور عزت کا خیال رکھا جائے۔

معاشرتی دباؤ کو نظر انداز کر کے اپنی استطاعت کے مطابق فیصلے کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: شادی سامانِ راحت ہو گی اگر اس کی ضرورت و افادیت کو سمجھ لیا جائے!

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ شادی کی اصل خوبصورتی محبت، احترام اور سمجھداری میں ہے، نہ کہ مہنگے لباس اور قیمتی ہال میں۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو چھوٹا سا گھر بھی جنت بن جاتا ہےاور اگر بنیاد کمزور ہو تو محلات بھی سکون نہیں دے سکتے۔نوجوان نسل کو بھی اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ اگر وہ خود سادگی کو اپنائیں اور غیر ضروری تقاضوں کو رد کر دیں تو آہستہ آہستہ پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔ علماء، اساتذہ اورادبیوں نیز صحافیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موضوع پر مسلسل رہنمائی کریں، تاکہ لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی آئے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شادی نہ تو بوجھ ہے اور نہ ہی اسے بوجھ ہونا چاہئے۔ یہ ایک خوبصورت بندھن ہے جو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ بن سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ ہم اسے آسان بنائیں، مشکل نہیں۔ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو شادیاں بوجھ بنتی رہیں گی اور اگر ہم نے سادگی، خلوص اور اعتدال کو اپنا لیا تو یہی شادیاں قابل ذکر سامانِ راحت بن جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK