وہ وقت اب ایک خواب معلوم ہوتا ہے جب گھر کے دروازے مہمانوں کے لئے ہر وقت کھُلے رہتے تھے۔ جب صحن میں بچھی چارپائیاں، مٹی کے گھڑے کا ٹھنڈا پانی اور سادہ سی دال روٹی محبت کی وہ مٹھاس گھولتی تھی کہ گھنٹوں کی بیٹھک بھی مختصر معلوم ہوتی تھی۔
EPAPER
Updated: May 07, 2026, 3:38 PM IST | Zaibunnnisa Mapkar
وہ وقت اب ایک خواب معلوم ہوتا ہے جب گھر کے دروازے مہمانوں کے لئے ہر وقت کھُلے رہتے تھے۔ جب صحن میں بچھی چارپائیاں، مٹی کے گھڑے کا ٹھنڈا پانی اور سادہ سی دال روٹی محبت کی وہ مٹھاس گھولتی تھی کہ گھنٹوں کی بیٹھک بھی مختصر معلوم ہوتی تھی۔
وہ وقت اب ایک خواب معلوم ہوتا ہے جب گھر کے دروازے مہمانوں کے لئے ہر وقت کھُلے رہتے تھے۔ جب صحن میں بچھی چارپائیاں، مٹی کے گھڑے کا ٹھنڈا پانی اور سادہ سی دال روٹی محبت کی وہ مٹھاس گھولتی تھی کہ گھنٹوں کی بیٹھک بھی مختصر معلوم ہوتی تھی۔ آج ہمارے مکان تو عالیشان بن گئے، دسترخوان پر نعمتوں کی بھرمار بھی ہوگئی، لیکن وہ ’رونق‘ اور ’برکت‘ کہیں کھوگئی ہے جس کا سبب اخلاص اور مہمان ہوا کرتے تھے۔
آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ اب کوئی کسی کے ہاں مہمان بننا پسند نہیں کرتا۔اگر کوئی آتا بھی ہے تو صرف قریبی رشتہ دار اور وہ بھی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے کے لئے یا پھر ایک قلیل مدت کے لئے، جیسے کوئی رسم نبھائی جا رہی ہو۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس مقام تک پہنچے کیسے؟ ہماری زندگی میں اخلاص کا قحط اور تکلفات کی دیوار کھڑی کیوں ہے؟اس دُوری کی سب سے بڑی وجہ وہ مصنوعی طرزِ زندگی ہے جس نے ہمارے دل سے اخلاص اور رشتوں سے محبت چھین لی ۔ ہم نے میزبانی کو اتنا پُرتعیش اور مشکل بنا دیا ہے کہ مہمان کا آنا اب خوشی کے بجائے ایک ’ٹاسک‘ لگتا ہے۔ میزبان اس فکر میں دب جاتا ہے کہ مینیو کیا کیا ہوگا اور گھر کی ترتیب کیسی رہے گی؟ جبکہ مہمان اس ڈر سے مہمان نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی مصروف زندگی میں جاکر خواہ مخواہ بوجھ نہ بن جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ماحولیاتی تبدیلی اور آلودگی میں غذائیت کا کردار
اس پر مستزاد یہ کہ ہم نے دُکھ سُکھ بانٹنے کا چلن ہی چھوڑ دیا ہے۔ ہم اب ایک دوسرے سے اس لئے نہیں ملتے کہ دل کا بوجھ ہلکا کریں بلکہ اس لئے ملتے ہیں کہ اپنی اپنی مادّی کامیابیوں کا دکھاوا کر سکیں یا پھر ایک دوسرے کی ٹوہ لے سکیں۔رشتوں میں جہاں ’میں‘ اور ’دکھاوا‘ آجائے، وہاں سے ’ہم‘اور ’اپنائیت‘ رُخصت ہوجاتی ہے۔
دوسری سب سے بڑی وجہ ہماری ڈیجیٹل قُربت اور لوگوں سے جذباتی دُوری ہے۔سوشل میڈیا اور موبائل فون نے ہمیں ’ڈیجیٹل طور پر‘ تو قریب کر دیا ہے لیکن جذباتی طور پر میلوں دُور پھینک دیا۔ ایک وہاٹس ایپ میسج یا ایموجی کبھی بھی، اُس گرمجوشی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا جو روبرو بیٹھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے میں ہوتی ہے۔ ہم اسکرینوں پر تو گھنٹوں گزار دیتے ہیں لیکن آمنے سامنے بیٹھ کر پل دو پل کی گفتگو ہمیں بوجھ لگتی ہے ۔
اب رشتوں اور مہمان نوازی کو کیسے بحال کیاجائے؟
اگر ہمیں میزبان بننا ہے تو اپنے رشتوں کو دوبارہ خلوص و محبت کی ڈور میں باندھنا ہوگا، ہمیں خود پہل کرکے اپنے گھر بلانا ہوگا۔ اپنی اپنی اناکے خول سے نکل کر اپنے دُور ہوتے ہوئے رشتوں کو بحال کرنا ہوگا۔ ان کے دل پر بار بار دستک دینی ہوگی اور انہیں یقین دلانا ہوگا کہ ہم آپ کے ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں۔
روبرو ملاقات کو ترجیح دیں: فون کی گھنٹی اور میسج کے بجائے کبھی بن بتائے یا سادہ سے پیغام کے ساتھ اپنوں کے گھرعموماً تحائف لے کر جائیں۔
تکلفات کو خیرباد کہیں: رشتوں میں، اخلاص اور سادگی ہو۔ تحفہ ملے تو ریٹرن گفٹ دیا کریں۔ تاکہ ملنا ملانا آسان ہو۔
سننے کا ظرف پیدا کریں: لوگوں کے پاس جائیں تو صرف اپنی نہ سُنائیں بلکہ ان کے دُکھ سُکھ سُن کر انہیں احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آفس کاکام کرنے کے ساتھ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت کیسے دیا جا سکتا ہے؟
نئی نسل اور بڑوں کی ذمّہ داری:سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ نئی نسل کو اس راہ پر لانے کی ذمّہ داری پُرانی نسل کے کندھوں پر ہے۔نوجوان نسل ٹیکنالوجی کی چکا چوند میں گُم ہے، اسے رشتوں کی مٹھاس سے روشناس کروانا، بڑوں کا کام ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو زبردستی نہیں بلکہ اپنی محبت اور دلچسپی کے ذریعے اپنے ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ انہیں خاندانی قصّے سُنانا ہوگا، انہیں اپنے ساتھ رشتہ داروں کے ہاں لے جانا ہوگا اور گھروں میں ایسی محفلیں سجانی ہوں گی جن میں ریاکاری اور نفسا نفسی کا عمل دخل نہ ہو جہاں موبائل فون کا داخلہ بند ہو۔یاد رکھئے کہ رشتے کسی مشین کی طرح خُود بخُود نہیں چلتے، انہیں وقت اور توجہ کی کھاد درکار ہوتی ہے۔ اگر آج ہم نے پہل نہ کی اور اپنی اگلی نسل کا ہاتھ تھام کر انہیں اپنوں سے نہ ملایا تو آنے والے وقت میں یہ دیواریں، مزید اونچی ہوجائیں گی۔زندگی بہت مختصر ہے، اسے صرف ’اسکرینوں‘پر نہیں بلکہ ’دلوں‘ میں زندہ رہ کر گزارئیے۔ دوستیاں، تعلق، بھائی چارہ اور رشتے یہ سب نبھانے کیلئے ہوتے ہیں۔