Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: ٹیک کمپنیوں نے جیلوں میں اےآئی نگرانی، مائیکرو چپس اور روبوٹک نظام استعمال کرنے کی تجویز دی

Updated: June 03, 2026, 12:57 PM IST | London

برطانیہ کے جیل حکام کے ساتھ ملاقات کے دوران، ٹیک کمپنیوں کی جانب سے مجرموں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ان کی جلد کے نیچے مائیکرو چپس لگانا، قیدیوں کی طرف سے لاحق خطرات کا اندازہ لگانے کیلئے اے آئی سسٹمز کا استعمال کرنا، جیل میں نقل و حمل کیلئے ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں متعارف کرانا اور بڑے پیمانے پر روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے چلنے والی جیلیں تیار کرنا، جیسے خیالات پیش کئے گئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

برطانیہ کے جیل حکام اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے عہدیداران کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کے مطابق، ٹیک کمپنیوں کی جانب سے برطانوی جیلوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے نگرانی، مائیکرو چپ امپلانٹس اور روبوٹک سسٹمز کا استعمال، جیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ فاکس گلوو (Foxglove) نامی گروپ نے ’تحصیل معلومات کی آزادی‘ (Freedom of Information) قانون کے تحت درخواست دائر کرکے دستاویزات حاصل کئے جس کے بعد اس ملاقات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فلپائنی جزیرے پر اے آئی کے زیر انتظام ’مائیکرونیشن‘ کا منصوبہ؛ گاندھی اور منڈیلا حکومتی کونسل کا حصہ

انکشافات کے مطابق، اس ملاقات میں شریک ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حکام نے مختلف قسم کے خیالات تجویز کئے۔ ان تجاویز میں مجرموں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے ان کی جلد کے نیچے مائیکرو چپس لگانا، قیدیوں کی طرف سے لاحق خطرات کا اندازہ لگانے کیلئے اے آئی سسٹمز کا استعمال کرنا، جیل میں نقل و حمل کیلئے ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں متعارف کرانا اور بڑے پیمانے پر روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے چلنے والی جیلیں تیار کرنا شامل ہیں۔

میٹنگ کے دوران، برطانیہ کے وزیرِ جیل خانہ جات لارڈ ٹمپسن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جرم میں کمی لانے اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانے میں ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرے۔ ٹمپسن نے گزشتہ سال بھی اسی موضوع پر ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں ۳۰ سے زائد ٹیک کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ برطانیہ کی وزارتِ انصاف نے کہا کہ ان بات چیت میں مجرموں کی نقل و حرکت کی زیادہ مؤثر نگرانی کے امکانات اور نظامِ عدل کے اندر ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال کو شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ انسان سستے ہیں

فاکس گلوو نے ان تجاویز پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ”خوفناک حد تک ڈسٹوپیئن (تاریک مستقبل کی عکاس)“ قرار دیا۔ تنظیم کے مطابق، یہ بات تشویشناک ہے کہ سرکاری حکام، قیدیوں کے انتظام کیلئے روبوٹ استعمال کرنے، قیدیوں میں ٹریکنگ ڈیوائسیز لگانے اور مستقبل کے رویے کی پیش گوئی کرنے کیلئے کمپیوٹر سسٹم پر انحصار کرنے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

دوسری طرف، سابق لارڈ چانسلر شبانہ محمود نے نئے ٹیکنالوجیکل طریقوں کی تلاش کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نظامِ عدل کو عملے کی مدد، متاثرین کیلئے تیز تر انصاف کی فراہمی اور جرم کو کم کرنے کیلئے ”بولڈ آئیڈیاز“ (نڈر خیالات) کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپ کا مشن اے آئی کو تباہ کرنا ہے: ہارورڈ میں اداکار رونی چیانگ کا خطاب وائرل

یہ انکشافات برطانیہ کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور جلد رہائی کی پالیسیوں پر جاری بحث کے دوران سامنے آئے ہیں۔ وزارتِ انصاف کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ شبانہ محمود کی طرف سے شروع کئے گئے ایک پروگرام کے پہلے ۱۶ مہینوں کے دوران ۶۰ ہزار ۱۰۸ مجرموں کو رہا کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت کچھ قیدیوں کو ان کی سزا کا ۴۰ فیصد حصے کی تکمیل کے بعد رہا کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK