آنتوں کی پیچیدہ کولونواسکوپی کیلئے روبوٹ کا استعمال

Updated: October 14, 2020, 11:50 AM IST | Agency

برطانیہ میں ماہرین نے ایک ایسی تکنیک وضع کی ہے جس کے مدد سے اب آنتوں کی پیچیدہ کولونواسکوپی کا کام روبوٹ کرسکیں گے

Robot
روبوٹ

برطانیہ میں ماہرین نے ایک ایسی تکنیک وضع کی ہے جس کے مدد سے اب آنتوں کی پیچیدہ کولونواسکوپی کا کام روبوٹ کرسکیں گے۔  اب تک   آنتوں کے اندر کا احوال دیکھنے کیلئے اینڈواسکوپی اور کولونواسکوپی سے مدد لی جاتی ہے۔ لیکن یہ عمل بہت وقت طلب اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اب اس کام کیلئے ایک جدید ترین روبوٹ بنایا گیا ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کے پیٹرو ویلداسٹری اور ان کی ٹیم نے ایک  ایسا روبوٹ بازو بنایا ہے جو مشین لرننگ الگورتھم کے ذریعے ایک لچکدار نظام آنتوں کے اندر بھیجتا ہے اس دوران کیمرہ اندر کے مناظر دکھاتا رہتا ہے۔  اس کی آزمائش جانور اور انسان سے مشابہہ مصنوعی آنت سے کی گئی ہے۔ اس روبوٹک آرم کے سرے پر مقناطیسی آلہ لگایا گیا ہے اور کنارے پر جدید کیمرہ بھی نصب ہے جبکہ روبوٹ کو جسم کے باہر ایک مقناطیس سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ یہ روبوٹ ازخود کام کرتا ہے اور اسے ایک ماہر ڈاکٹر بھی ’جوائے اسٹک‘ سے چلاسکتا ہے۔ پیٹرو کے مطابق یہ عمل آسان ہے۔ 
 فی الوقت دنیا بھر میں جو اینڈواسکوپ استعمال ہورہی ہے انہیں چلانا اور اس سے کام لینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کیلئے انتہائی خاص ماہرین درکار ہوتے ہیں۔ پیٹرو کہتے ہیں کہ گیسٹرو کے ماہرین اکثر دائیں، بائیں اور اوپر نیچے کے احساس کھودیتے ہیں۔ تمام جدید طبی آلات کی طرح اس کا دل و دماغ بھی آرٹی فیشیل  انٹیلی جنس ہے جو آنتوں کے اندر کی تصاویر اور ویڈیو بناتا رہتا ہے۔ ہماری آنتیں اندر سے ٹیوب کی طرح لگتی ہیں۔ اس عمل میں الگورتھم ٹیوب کے درمیان میں سیاہ دائرے کو دیکھتا ہے جو ظاہر ہے اس آنت کی نالی کا راستہ ہے اور اس طرح روبوٹک اینڈو اسکوپ کو آگے بڑھنے کا حکم دیتا ہے۔  سائنس دانوں کے مطابق مقناطیسی سے آگے بڑھنے والی اینڈواسکوپ کم تکلیف دہ ہے اور کسی مریض پر بغیر بے ہوشی کے آزمائی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK