Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا ڈیٹاکس کیوں ضروری ہے؟

Updated: May 05, 2026, 2:53 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai

مسلسل ا سکرین پر نظریں جمائے رہنے ، لگاتار ویڈیوز اور ریل دیکھنے ،بلا رُکے پوسٹس اورتبصرے پڑھنے سے جسم تھکن محسوس کرتا ہے،یہ جسمانی نہیںبلکہ ذہنی اور جذباتی تھکن ہوتی ہے،اسے دور کرنے اور اس سے بچنے کا سوشل میڈیا اورموبائل سے دوری اختیار کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں۔

Social media is a great tool, but being a prisoner of it is not beneficial in any way. Photo: INN
سوشل میڈیا بہت کام کی چیز ہے لیکن اس کا اسیر بن کر رہ جاناکسی پہلو سےسود مند نہیں۔ تصویر: آئی این این

عصر حاضر میں انسان بظاہر باہری دنیا سے جتنا جڑتا جارہا ہے خود سے اتنا ہی دور ہوتا جا رہا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی ہاتھ موبائل کی طرف بڑھتا ہے اور رات کو نیند آنے سے پہلے آخری نظر بھی اسکرین پر پڑتی ہے ۔ یہ ایک معمول بن چکا ہے۔ ایک ایسی عادت جسے ہم نے زندگی کا حصہ سمجھ لیا ہے حالانکہ یہی عادت آہستہ آہستہ ہمارے ذہنی سکون، جذباتی توازن اور اندرونی خوشی کو کمزور کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔جیسے رابطہ، معلومات اور مافی الضمیر کی آزادی وغیرہ لیکن اسی کے ساتھ اس نے ہمیں ایک ایسے شور بھی میں دھکیل دیا ہے جہاں خاموشی اور سکون نایاب ہو گئے ہیں۔انسانی دماغ فطری طور پر سکون اور توازن چاہتا ہے لیکن مسلسل اسکرین پر نظریں جمائے رکھنا، ایک کے بعد ایک ویڈیوز دیکھنا، لاتعداد پوسٹس اور تبصرے پڑھنا ، ان تمام سرگرمیوں کی وجہ سے دماغ کو ایک لمحے کیلئے بھی آرام نہیں مل پارہا ہے۔ نتیجتاً ہم بغیر کسی واضح وجہ کے بھی تھکن محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ تھکن جسمانی نہیں ہے بلکہ ذہن اور جذبات کی تھکن ہے۔ انسان چڑچڑا ہوتا جارہا ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بےچینی محسوس کررہا ہے اور اس کی توجہ بکھرنے لگی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو مصروف تو سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت میں مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی دنیا ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جو مکمل طور پر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک تصویر یا خیال شیئر کرنے کے بعد ہم لاشعوری طور پر اس کے ردِعمل کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر تعریف ملے تو خوشی ہوتی ہے، اگر کم توجہ ملے تو دل میں ایک خلش رہ جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ انسان اپنی قدر کا اندازہ اوروں کے رویے سے لگانے لگتا ہے۔ یہ کیفیت خطرناک ہے کیونکہ اس میں ہم اپنی خودی کو اوروں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ اس نے میرا اسٹیٹس لائک نہیں کیا۔ اس نے اسٹوری دیکھ کر بھی مبارکباد نہیں دی۔ اس نے ایسے کیوں کیا؟ اس نے ویسے کیوں نہیں کیا؟ غرض کئی طرح کے سوالات اور الجھے ہوئے رویوں کا شکار ہوکر ہم اپنی ذہنی صحت خود برباد کرتے ہیں۔ اوروں کی پسند اور ان کے ویلیڈیشن کے اسیر ہوکر زندگی کو مایوس کن بنا لیتے ہیں۔رشتوں پر بھی اس کا اثر واضح نظر آتا ہے۔ ہم ایک ہی جگہ بیٹھے ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر کہیں اور ہوتے ہیں۔ گھر میں موجودگی کے باوجود توجہ اسکرین پر ہوتی ہے۔ بات چیت کم ہو گئی ہے، احساس کی گہرائی کم ہو گئی ہے اور وہ چھوٹے چھوٹے لمحے جو رشتوں کو مضبوط بناتے ہیں، آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں۔ والدین بچوں سے دور ہورہے ہیں۔ بچے والدین سے دور ہورہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: آفس کاکام کرنے کے ساتھ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت کیسے دیا جا سکتا ہے؟

ایسی صورتحال میں سوشل میڈیا ڈیٹاکس ایک ضرورت بن کر سامنے آیا ہے۔سوشل میڈیا ڈیٹاکس سوشل میڈیا کو مکمل طور پر چھوڑ دینے پر اصرار نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ اپنے تعلق کو متوازن بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ہم جب شعوری طور پر یہ طے کرتے ہیں کہ ہم کب اور کتنی دیر سوشل میڈیا استعمال کریں گے تو آہستہ آہستہ اس کے اثرات سے آزاد ہونے لگتے ہیں۔ کچھ وقت کیلئے اسکرین سے دوری دماغ کو سکون دیتی ہے، دل کو ہلکا کرتی ہے اور ہمیں خود کے قریب لے آتی ہے۔جب ہم اس ڈیجیٹل شور شرابے سے باہر نکلتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اصل زندگی اسکرین کے اندر نہیں ہے بلکہ اس کے باہر ہے۔ وہ لمحے جو پہلے نظرانداز ہو جاتے تھے، اب قیمتی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اپنی پسندیدہ سرگرمیاں انجام دینا، کتابیں پڑھنا، کسی اپنے سے بات کرنا، خاموشی سے کسی کارنر میں بیٹھ کر اپنی چائے یا کافی سے لطف اندوز ہونا،  اپنے خیالات کو جرنلز میں لکھنا یا کوئی بھی تخلیقی سرگرمی کو انجام دینا۔ یہ سب چیزیں دوبارہ با معنی لگنے لگتی ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم خود کو اوروں سے نہیں بلکہ اپنے پچھلے ورژن سے میچ کرنا سیکھ لیتے ہیں اور یہی شخصی ترقی کی علامت ہے۔ بلاشبہ سوشل میڈیا اپنی جگہ ایک مفید ذریعہ ہے لیکن جب یہ ہماری سوچ، ہمارے جذبات اور ہماری خوشی پر حاوی ہونے لگے تو رک کر سوچنا ضروری ہو جاتا ہے۔ڈیٹاکس یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کنٹرول کو واپس اپنے ہاتھ میں لیں۔ ہم ٹیکنالوجی کو استعمال کریں نہ کہ وہ ہمیں استعمال کرنے لگ جائے۔کبھی کبھی خود سے جڑنے کیلئے دنیا سے تھوڑا سا دور ہونا پڑتا ہے اور یہی دوری ہمیں دوبارہ اپنے قریب لے آتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK