Inquilab Logo Happiest Places to Work

بزرگوں کا خیال رکھیں کہ مستقبل میں یہ وقت آپ پر بھی آئیگا

Updated: June 16, 2026, 2:19 PM IST | Khalida Fodkar | Mumbai

بزرگوں کی دیکھ بھال اور ان کی خیر خواہی، ان کا احترام تمام اقوام مذاہب اور معاشروں کی مشترک میراث ہے، اسلامی تعلیمات میں ان اقدار کو بہترین نیکی میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی خدمت کیجئے۔

Old age is also called the second childhood. Try to be their support during this critical period. Photo: INN
بڑھاپے کو دوسرا بچپن بھی کہا جاتا ہے اس نازک دور میں ان کا سہارا بننے کی کوشش کریں۔ تصویر: آئی این این

آج کل کے بدلتے معاشی اخلاقی اور معاشرتی حالات میں کئی اخلاقی اقدار پامال ہو رہی ہیں، بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کا رجحان بھی ان تلف شدہ اقدار میں شامل ہے۔ عصر حاضر میں اس غیر اخلاقی رویہ کے فروغ پانے کی چند واضح وجوہات ہیں:

اولادوں کی خود غرضی اور بے اعتنائی: بزرگوں کو بوجھ سمجھنا ایک سماجی اور اخلاقی المیہ ہے کہ کل تک جو افراد معاشرہ اور گھر کا اہم ستون اور اثاثہ ہوا کرتے تھے بڑھاپے میں پہنچ کر وہ اپنی جسمانی ناتوانی اور اولاد پر مالی انحصار کے باعث اتنے غیر اہم بن جاتے ہیں کہ انہیں ایک متروک سامان کی طرح کنارے لگا دیا جاتا ہے۔ سن شعور کو پہنچ کر اکثر اولادیں اپنے والدین کی قربانیوں اور شفقتوں کو یاد نہیں رکھتیں، والدین کی زندگی بھر کی کمائی، محنتوں اور ان کی بے لوث پرورش کو اپنا پیدائشی حق سمجھ کر وصول کرتی ہیں مگر جب والدین بوڑھے اور لاچار ہو جائیں، ان کی محبتوں کے قرض چکانے کا وقت آئے تو اپنے فطرتی فرائض سے بے اعتنائی اور ان کے وجود سے بے رخی برتنے لگتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نئی نسل کی علاحدہ رہنے کی سوچ نے بزرگوں کو تنہا کر دیا

مغربی اقدار کی پیروی: مغربی معاشروں کی فیشن زدہ طرز زندگی اور شخصی آزادی کے بظاہر دلفریب نظاروں سے مسحور ہو کر اب ہمارے مشرقی سماج میں بھی ایسی خرابیاں جگہ بنانے لگی ہیں جن کی وجہ سے گھروں میں بھی سن رسیدہ افراد کے حقوق محفوظ نہیں رہے۔ بزرگوں کی موجودگی کو بوجھ اور ان کی نصیحت و تلقین کو آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جانے لگا ہے۔

خاندانی نظام کا بکھراؤ: آج کل جوائنٹ فیملی سسٹم کی جگہ خاندان انفرادی اکائیوں میں بدل رہے ہیں۔ اب صرف بڑے اور کشادہ گھر ہی چھوٹے گھروں میں تبدیل نہیں ہو رہے بلکہ ہمارے دل اور ظرف بھی اتنے چھوٹے اور تنگ ہو رہے ہیں کہ یہاں بزرگوں کی جگہ بمشکل ہی بن پاتی ہے۔

اولڈ ایج ہومز: مغربی اقوام کی نقالی میں اب ہمارے یہاں بھی اولڈ ایج ہومز اور فلاحی مراکز بنتے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ ایک انسانی خدمت اور موجودہ دور کیلئے ایک اہم دریافت دکھائی دیتی ہے مگر در پردہ اسکے پیچھے افراد کا وہ خود غرض اور ظالمانہ رویہ چھپا ہوتا ہے جو اپنے بزرگوں کی ذمہ داری اداروں کے سپرد کرکے اپنی اپنی زندگیوں میں مشغول ہو جانا چاہتا ہے۔

معاشی تنگی: بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے پیچھے اکثر اوقات معاشی تنگی بھی کار فرما ہوتی ہے۔ مالی مشکلات، کم تنخواہ یا بیروزگاری کے باعث بزرگوں کے ذاتی اخراجات یا کسی بیماری معذوری کی صورت میں ان کے دوا علاج کا خرچ اٹھانے کی اہلیت نہ ہو پانا بھی بزرگوں کی جانب سے غفلت برتنے کی ایک وجہ ہے کیونکہ اپنے کنبے کی ضروریات بمشکل پوری کر پانے والے افراد والدین اور بزرگوں پر صرف ہونے والے اخراجات کو اضافی تصور کرنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: میرینیشن: پکوان کی تیاری کا اہم مرحلہ، اِن باتوں کو دھیان میں رکھیں

جنریشن گیپ اور مصروف طرز زندگی: آج کی زندگی اتنی تیز رفتار اور مصروف ہوگئی ہے کہ افراد کے پاس اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھنے، ان کی باتیں نصیحتیں اور مشورے سننے کا نہ وقت ہے اور نہ ہی خیال۔ مصروف ترین زندگی اور دو نسلوں کے مابین ذہنی ہم آہنگی کے فرق اتنا وسیع ہو جاتا ہے کہ اولاد اپنے والدین کی جذباتی کیفیات کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے۔

معمر افراد کے تئیں لاپروائی اور گریز کے اس عمومی رویے کو بدل پانا ممکن ہے اگر نئی نسل اپنی سوچ اور ترجیحات میں فیاضی اور تحمل و برداشت کا وصف شامل کرے، درج ذیل چند گزارشات اس عمل میں معاون ہوسکتی ہیں:

تربیت و تعلیم: بزرگوں کی خبرگیری بھی حقوق العباد کا ایک موضوع ہے لہٰذا بچوں کی تربیت کے ہر مرحلے میں بزرگوں کی تکریم اور حسن سلوک پر مبنی اسلامی اور اخلاقی اوصاف کی تعلیم کو ترجیح دی جائے۔

اولڈ ایج ہومز کلچر کی حوصلہ افزائی نہ کرنا: اولڈ ایج ہومز کی سہولت صرف ان افراد کیلئے وقف ہو جو اس دنیا میں بالکل تنہا، غریب بےگھر اور لاوارث ہوں۔ گھر بار اور مالی حیثیت رکھنے والے افراد اپنے بزرگوں کا خود خیال رکھیں کہ مستقبل میں یہ وقت ان پر بھی آنا ہے۔

اسلامی اقدار کی بحالی: اسلامی تعلیمات بزرگوں کی تحقیر کرنے، انہیں بیکار اور سماج پر بوجھ سمجھنے کے تصور کی روادار نہیں بلکہ اس کی نظر میں سماج کی خوشحالی اور رونقیں بزرگوں کے دم سے ہیں سن رسیدہ افراد اسلامی معاشرہ کا قابل احترام اور با برکت حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نئے تعلیمی سال کی دستک اور ماؤں کی بیدار نگاہیں

احسان شناسی اور قدردانی کا رویہ: پیدائش سے لے کر کسی قابل ہونے تک والدین کے ذریعےکئے گئے بے شمار احسانات اولادوں پر قرض ہیں، شکر گزاری و تکریم کے ساتھ ان کے احسان کا بہترین نعم البدل لوٹانا بے حد ضروری ہے۔ ان کی جسمانی ذہنی و نفسیاتی کمزوریوں کا مداوا بننے کی کوشش کی جائے۔ اپنوں کی تھوڑی سی محبت اور احساس میں گندھی ہوئی توجہ عمر کے اس نازک موڑ پر انہیں جینے کی نئی طاقت اور امید دے سکتی ہے۔ اس عمل خیر کا بدلہ آخرت کی ابدی جزائے خیر ہوگا ان شاء اللہ۔

کیوں نہ ہم وہ خوش بخت اولاد بنیں جو عزت و تکریم کیساتھ اپنے بزرگوں کو اپنی زندگیوں میں شامل رکھتے ہیں اور کیوں نہ ہمارے گھر ایسی محفوظ پناہ گاہیں اور بابرکت ہو جائیں جہاں بزرگ اپنی عمر کا یہ نازک دور سکون و اطمینان کیساتھ بسر کرسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK