Updated: June 16, 2026, 1:59 PM IST
| New Delhi
سوشل میڈیا صارفین کی لگاتار اسکوول کرنے کی عادت، پلیٹ فارمز کے اس دانستہ ڈیزائن کا نتیجہ ہے جو براہِ راست انسانی دماغ کی قدرتی ساخت کے خلاف کام کرتا ہے۔ صارفین نہیں جانتے کہ اسکرول کرنے پر سامنے آنے والی اگلی پوسٹ مزاحیہ ہوگی یا جذباتی یا سنسنی خیز؟ یہی غیر یقینی صورتحال اسکرولنگ کو اتنا طاقتور بناتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ سوشل میڈیا پر اسکرول کرتے ہیں تو آپ کو وقت کے گزرنے کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ جب تک آپ کو خیال آتا ہے تب تک تیس منٹ یا ایک گھنٹہ یا کبھی کبھی اس سے زیادہ وقت گزر جاتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے نہ ہی یہ آپ کی ذاتی ناکامی ہے، بلکہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے اس دانستہ ڈیزائن کا نتیجہ ہے جو براہِ راست آپ کے دماغ کی قدرتی ساخت کے خلاف کام کرتا ہے۔ سائنس دان اس بات کا مطالعہ کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کو چھوڑنا آخر اتنا مشکل کیوں ہے۔ سائنسی تحقیقات ایک ایسے نظام کو بے نقاب کرتی ہیں جو آپ کو اپنا عادی بنانے کیلئے ہی تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گوگل کے سیکوریٹی ڈائریکٹر کا استعفیٰ، کمپنی پر ’’اخلاقی سمت کھونے‘‘ کا الزام
آپ کا دماغ ایک ایسے انعام کے پیچھے بھاگ رہا ہے جس کا وہ اندازہ نہیں لگا سکتا
لگاتار اسکرولنگ کے پیچھے بنیادی محرک ’ڈوپامائن‘ (dopamine) ہے۔ یہ دماغ میں موجود ایک ایسا کیمیکل ہے جو ترغیب (motivation) اور انعام کی تلاش کے رویے کو کنٹرول کرتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات سوشل میڈیا فیڈز کا موازنہ، (جوئے میں استعمال ہونے والی) سلاٹ مشینوں (slot machines) سے کرتے ہیں کیونکہ دونوں ایک ایسے نظام پر کام کرتے ہیں جسے ’ویری ایبل ریوارڈ شیڈول‘ (غیر یقینی انعام کا طریقہ کار) کہا جاتا ہے۔ جس طرح ایک جواری بار بار مشین کا ہینڈل اس لئے کھینچتا ہے کہ اگلی بار شاید اس کی لاٹری نکل آئے۔ اسی طرح ایک صارف اس لئے اسکرول کرتا رہتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اسکرول کرنے پر سامنے آنے والی اگلی پوسٹ مزاحیہ ہوگی یا جذباتی یا سنسنی خیز؟ یہی غیر یقینی صورتحال اسکرولنگ کو اتنا طاقتور بناتی ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کسی انعام کی امید (انتظار) بھی اتنی ہی پرکشش ہو سکتی ہے جتنا کہ خود انعام۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اسکرولنگ جاری رکھتے ہیں حالانکہ وہ جو کچھ مواد دیکھ رہے ہوتے ہیں اس سے حقیقتاً لطف اندوز بھی نہیں ہو رہے ہوتے ہیں۔
کسی کتاب کے آخری صفحے یا ٹیلی ویژن کے کسی ایپی سوڈ کے اختتام کے برعکس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے فیڈز لامتناہی ہیں۔ وہاں ہمیشہ ایک کے بعد ایک ہزاروں پوسٹس موجود ہوتے ہیں۔ یہ لامتناہی ساخت ان قدرتی رکاوٹوں کو ختم کر دیتی ہے جو دیگر ذرائع فراہم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی ایجنٹ ”ڈوبی“ موبائل فونز کی دنیا میں انقلاب کا پیش خیمہ؛ روایتی ایپس کی جگہ لے سکتا ہے
نیا پن، ذہنی تذبذب اور فیڈ بیک لوپ
انسانی دماغ نئی معلومات پر توجہ دینے کیلئے ہی بنا ہے۔ نیا مواد کسی موقع، وسائل یا کسی خطرے کا اشارہ ہوسکتا ہے، اس لئے دماغ مسلسل اس کی تلاش میں رہتا ہے۔ سوشل میڈیا روزانہ کی بنیاد پر تازہ ترین تصاویر، ویڈیوز، آراء اور سرخیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ فراہم کرکے اسی جبلت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، مختلف مواد کے درمیان تیزی سے سوئچ کرنے کا یہ انداز مطالعہ کرنے یا یکسوئی سے کام کرنے جیسی سست سرگرمیوں کو اسکرولنگ کے مقابلے، بے رنگ اور پھیکا بنا سکتا ہے۔
اسکرولنگ کا تعلق ایک نقصان دہ انداز میں ذہنی تذبذب (اینگزائٹی) سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جو لوگ پریشان ہوتے ہیں وہ غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے کیلئے مزید معلومات تلاش کرتے ہیں، لیکن پریشان کن مواد کو بار بار دیکھنا اکثر تناؤ کو کم کرنے کے بجائے بڑھا دیتا ہے۔ نتیجتاً ایک ’فیڈ بیک لوپ‘ تخلیق ہوتا ہے جس میں ذہنی تذبذب مزید اسکرولنگ کی طرف لے جاتا ہے اور مزید اسکرولنگ ذہنی تذبذب کو مزید بڑھاتی ہے۔ سائنسی تحقیقات میں ضرورت سے زیادہ اسکرولنگ کو تناؤ، مایوسی اور جذباتی تھکن کی اعلیٰ سطحوں سے جوڑا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: ٹیک کمپنیوں نے جیلوں میں اےآئی نگرانی، مائیکرو چپس اور روبوٹک نظام استعمال کرنے کی تجویز دی
کیا اسکرولنگ آپ کے دماغ کی ساخت کو بدل رہی ہے؟
سائنس دان اس طرح کے ڈرامائی دعوے کرنے میں احتیاط برتتے ہیں کہ سوشل میڈیا دماغ کو تباہ کر رہا ہے۔ تاہم، ’نیوروپلاسٹی سٹی‘ (neuroplasticity) یعنی بار بار کے تجربات کے ذریعے خود کو ڈھالنے کی دماغ کی صلاحیت، کا مطلب یہ ہے کہ مستقل نئے پن اور فوری انعامات کے گرد بننے والی عادات وقت کے ساتھ ساتھ گہری اور خودکار ہو سکتی ہیں۔ دماغ کے وہ اعصابی راستے (neural pathways) جو کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، مضبوط ہو جاتے ہیں۔ تیز رفتار اور انعام پر مبنی توجہ کی یہ عادات آہستہ آہستہ دماغ کے معلومات سمجھنے کے طریقے کو بدل سکتی ہیں۔
اسکرولنگ کو روکنے کی یہ جدوجہد محض قوتِ ارادی (will power) کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ان پلیٹ فارمز کا نتیجہ ہے جنہیں انجینیئر ہی اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ آپ کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ وقت تک جکڑ کر رکھ سکیں۔