اجمیر میں بیاور سے آنیوالی کلثوم بانو نامی برقع پوش طالبہ کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی۔
EPAPER
Updated: June 22, 2026, 11:04 AM IST | Agency | New Delhi
اجمیر میں بیاور سے آنیوالی کلثوم بانو نامی برقع پوش طالبہ کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی۔
اجمیر میں بیاور سے آنیوالی کلثوم بانو نامی برقع پوش طالبہ کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی، طالبہ کا الزام ہے کہ سینٹر انتظامیہ نے برقع اتارنے کا اصرار کیا، اس کا کہنا تھا کہ ضروری جانچ اورتلاشی کے بعدبرقع پہن کر امتحان دیا جاسکتا ہے اور پچھلی بار اس نے برقع پہن کر ہی پرچہ دیا تھا، لیکن ’ری ایگزام‘کے وقت اسے روک دیا۔’ہندوستان لائیو‘ کی رپورٹ کے مطابق کلثوم بانو کے ساتھ اس سلوک پر جب ایگزام سینٹر کے باہر ہنگامہ ہوا تو پھر اسے اجازت دی گئی ۔
نگلور کے ایک امتحانی مرکزکے باہر کسی وجہ سے کچھ دیر کی تاخیر ہونے پر تین طالبات کو امتحان ہال میں داخلہ نہیں دیا گیا ، وہ طالبات بند آہنی گیٹ کے پاس منتیں کرتے ہوئے روپڑیں۔ یہ تصویر آئی این ایس کے ایکس ہینڈل سے شیئر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:راجکمار ہیرانی نے ’’پی کے ‘‘ایلین کو مرکزی کردار میں کیوں منتخب کیا ؟
اتر پردیش کے بریلی شہر کے ایک ایگزام سینٹر پر دوران پرچہ ایک طالبہ کی طبیعت بگڑی اور بے ہوش ہوگئی، جسے فوراً اسپتال داخل کیا گیا۔
ُدے پور میں ایک امیدوار کی ناک کی نَتھ (نوز پن) نہیں نکل سکی تو امتحانی عملے نے اس کی ناک پر ٹیپ چپکا دیا۔
وٹہ میں ایک طالبعلم کو قمیض کی آستین کاٹنے کے بعد داخلہ دیا گیا،کیونکہ امیدوار کیلئے فل سلیوز کی شرٹ ممنوع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پولینڈ اور یوکرین کی ’’اعزازات‘‘ کی جنگ شدت اختیار کرگئی
مدھیہ پردیش کے بھوپال میں طلبہ کے ہاتھوں میں بندھا ’کلاوا(مذہبی دھاگا)‘ کاٹ کر ہٹایا گیا، جبکہ اتر پردیش میں طالبات کے کانوں سے بالیاں اتارنے کے لیے کہا گیا۔
بھوپال کے سروجنی سبھاش اُتکرشٹ ودیالیہ اور پی ایم شری سینٹرل اسکول سمیت کئی امتحانی مراکز پر کچھ طلبہ محض ایک منٹ کی تاخیر سے پہنچے، جسکی وجہ سے انہیں امتحان میں داخلہ نہیں دیا گیا۔
ھوپال اور چھترپور میں بعض طلبہ غلط امتحانی مرکز پر پہنچ گئے۔ صحیح مرکز تک پہنچتے پہنچتے امتحان کا گیٹ بند ہو چکا تھا، جس کے باعث وہ امتحان دینے سے محروم رہ گئے۔