نیٹو اجلاس میں اتحاد کو درپیش خطرات، عالمی سلامتی، یوکرین کی صورتحال ،مستقبل کی دفاعی حکمت عملی اور متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیاگیا، میزبان ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے باہمی اتحاد پر زور دیا۔
EPAPER
Updated: July 09, 2026, 11:24 AM IST | Agency | Ankara
نیٹو اجلاس میں اتحاد کو درپیش خطرات، عالمی سلامتی، یوکرین کی صورتحال ،مستقبل کی دفاعی حکمت عملی اور متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیاگیا، میزبان ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے باہمی اتحاد پر زور دیا۔
اعلامیہ میں کہاگیا کہ کسی ایک حلیف پر حملہ، تمام حلیفوں پر حملہ تصورکیا جائےگا۔ نیٹو ہمارے اتحاد کے ایک ارب شہریوں کے لئے امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد بنا رہے گا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ روس سلامتی اور استحکام کیلئے طویل المدتی خطرہ ہے اور دہشت گردی کا جاری خطرہ موجود ہے، اس کے خاتمے کیلئے رکن ممالک پر عزم ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مستقبل کی تعمیر کیلئے ایک مضبوط تر نیٹو کے اندر ایک مضبوط یورپ اور جدید اتحاد کا ہدف طے کیا گیا ہے اور اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ یورپی حلیفوں اور کنیڈا نے امریکہ کے ساتھ مل کر اتحاد کے دفاع میں مزید ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ میں نیا تنازع،فرانس اور مراکش میچ کے تمام ریفریز ارجنٹائنا سے منتخب
قبل ازیں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے نیٹو سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اتحادکو برقرار رکھیں، کیونکہ مضبوط اتحاد ہی اجتماعی سلامتی کی بنیاد ہے۔صدر اردگان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیٹو اتحادیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یورپ اور بحر اوقیانوس کے دونوں جانب موجود اتحادی ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی بات سے گریز کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اتحاد کا براہِ راست تعلق سلامتی سے ہے، اس لئے ہمیں ہر ایسے اختلاف سے بچنا ہوگا جونیٹو کے اندر تقسیم یا کمزوری پیدا کرے۔ترک صدر نے امید ظاہر کی کہ انقرہ میں ہونے والا نیٹوسربراہی اجلاس عالمی امن، استحکام اور رکن ممالک کے درمیان مزید تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:نغمہ نگار سے ناراض ہوکر پیدا ہونے والے خیال کوہدایتکار نے فلم کا گیت بنادیا
اجلاس کے دوسرے روز بدھ کو صدر اردگان اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے مختلف ممالک کے سربراہان اور وفود کا خیرمقدم کیا۔عالمی لیڈر اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے تو ان کا استقبال کیا گیا جس کے بعد روایتی مصافحے اور گروپ تصاویر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔نیٹو اجلاس میں اتحاد کو درپیش خطرات، عالمی سلامتی، یوکرین کی صورتحال ،مستقبل کی دفاعی حکمت عملی اورمتعدد اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔