Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز ہنوز بند، ایران نے کہا اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن

Updated: August 31, 2026, 1:01 PM IST | Agency | Tehran

امریکہ کا جہازوں کے آزادانہ گزرنے کا دعویٰ جھوٹا ، ایران اور عمان میں آمدورفت کا سمجھوتہ طے، واشنگٹن کے وعدوں کی تکمیل تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی۔

A graphic image of the Strait of Hormuz, located between Iran and the Gulf states. Picture: INN
ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان واقع آبنائے ہرمز کی گرافک امیج۔ تصویر: آئی این این

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی پوری طرح بند ہے اور اگر کوئی جہاز اس سے ہو کر گزرتا ہے، تو یہ یقینی طور پر ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اس کی اجازت سے ہی ہوتا ہے۔مسٹر غریب آبادی نے کہاکہ امریکہ کا یہ دعویٰ کہ جہاز اس راستے سے آزادانہ طور پر گزر سکتے ہیں، جھوٹ ہے اور اگر کوئی جہاز اس سے ہو کر گزرتا ہے، تو یہ یقینی طور پر ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اس کی اجازت سے ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہرمز سے جہازوں کی نقل وحرکت پر ایران اور عمان کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پایا ہے، لیکن جب تک امریکہ اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتا، تب تک آبنائے کو باضابطہ طور پر نہیں کھولا جائے گا۔ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ایران نے عمان کے ساتھ ہوئے معاہدے کے ذریعے ہرمز میں جہازوں کی نقل وحرکت کے حوالے سے  اپنی تیاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو نافذ کرنے کی ذمہ داری امریکہ کی ہے اور امریکہ نے اپنی وابستگیوں کو پورا نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۴؍ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے

کاظم غریب آبادی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے حوالے سے  امریکہ اور ایران کے دعوؤں میں تضاد سامنے آ رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ جہاز اس اہم سمندری راستے سے گزر سکتے ہیں، جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز یہاں سے نہیں گزر سکتا۔

قابلِ ذکر ہے کہ۱۸؍ جون کو امریکہ اور ایران نے خطے میں تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت دونوں ممالک کو۶۰؍ دنوں کے اندر بات چیت کر کے حتمی معاہدے تک پہنچنا تھا۔ یہ مدت ۱۷؍اگست کو ختم ہو گئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ بڑھنے والے تناؤ کے بعد ان مذاکرات کا مستقبل اب بھی واضح نہیں ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ذریعے کافی مقدار میں عالمی تیل اور گیس کی نقل وحرکت ہوتی ہے، اس لیے یہاں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا اثر صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ اور ہندوستان جیسے بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اسلام کے دشمنوں کے خلاف مسلم اتحاد کی اپیل

’’امریکہ  عالمی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے‘‘

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ  ذرائع ابلاغ کے ذریعے عالمی انرجی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے اور جنگ کو طول دینے کے لیے توانائی کی منڈی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔عباس عراقچی نے یہ بھی کہا اسرائیل سے منسلک بعض عناصر موجودہ صورت حال کے حوالے سے امید افزا جائزے پیش کر رہے ہیں، تاہم جنگ کے حقیقی اثرات اور اس کے معاشی نتائج امریکی عوام بالخصوص صارفین کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔عراقچی نے کہا موجودہ صورت حال میں حقائق کو سامنے لانے اور جنگ کے معاشی اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK