مگرایکسپورٹرس کی تنظیم نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ’’ بندھوا مزدوری ‘‘ کے نام پر عائد کیاگیا یہ ٹیکس دیگرتجارتی حریف ممالک سے کم ہے
کپڑا صنعت۔ تصویر:آئی این این
امریکہ نے جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمدات سے متعلق قانون’ سیکشن۳۰۱‘ کے تحت جمعہ کو ہندوستانی اشیاء پر ۱۰؍ فیصد اضافی ٹیرف نافذ کردیا ہے۔اس کی وجہ سے ٹیکسٹائل صنعت کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے تاہم برآمد کنندگان کے مطابق ہندوستان اب بھی اپنے بیشتر حریف ممالک، خاص طور پر چین اور ویتنام، کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے۔ ہندوستانی ٹیکسٹائل پر پڑنےوالے اثر کے تعلق سے ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش، کمبوڈیا، انڈونیشیا اور ملائیشیا کیلئے امریکی کپاس کی درآمدات کی بنیاد پر نئے ٹیکسٹائل ’’ٹیرف ریٹ کوٹہ‘‘(ٹی آر کیو) متعارف کرائے جانے سے ہندوستانی کپاس، دھاگے اور دیگر خام مال کی خریداری کم ہو سکتی ہے۔
فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سیکشن۳۰۱؍ کے تحت ہندوستانی درآمدات پر اضافی۱۰؍ فیصد ٹیرف سے امریکی منڈی میں ہندوستانی اشیاء مہنگی ہو جائیں گی تاہم ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑے اور جوتوں جیسے محنت پر مبنی شعبوں میں نئی دہلی کو اپنے حریف ممالک کے مقابلے میں کم ٹیرف کا سامنا ہے۔ تنظیم کے صدر ایس سی رالہان کے مطابق امریکہ نےصرف ہندوستان کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ دیگر ممالک پر بھی عائد کیاگیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہندوستان اپنے کئی تجارتی حریف ممالک کے مقابلے میں نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔‘‘