Updated: April 03, 2026, 10:09 PM IST
| Washington
سو سے زائد بین الاقوامی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں، ماہرین نے مارچ کے وسط میں ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ امریکہ ایران پر ’’محض تفریح کے لیے‘‘ حملے کر سکتا ہے، اور پینٹاگون چیف پیٹ ہیگستھ کے اس بیان کا بھی کہ امریکہ جنگ کے دوران احمقانہ جنگی اصولوں کی پرواہ نہیں کرتا۔
امریکی حملے میں تہران کا تباہ شدہ ایک اہم پل۔ تصویر: پی ٹی آئی
امریکہ میں بین الاقوامی قانون کے درجنوں ماہرین نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے بجلی اور پانی صاف کرنے والی تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں کو دہرایا۔دریں اثناء امریکہ میں ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا جیسی یونیورسٹیوں سمیت۱۰۰؍ سے زائد بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے جمعرات کو جاری کردہ خط میں کہا کہ’’ امریکی افواج کے طرز عمل اور اعلیٰ امریکی حکام کے بیانات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں بشمول ممکنہ جنگی جرائم کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: دنیا ایک وسیع جنگ کے کنارے پر کھڑی ہے: یو این سربراہ انتونیوغطریس کا انتباہ
بعد ازاں خط میں مارچ کے وسط میں ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا گیا جہاں انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ ایران پر محض تفریح کے لیےحملے کر سکتا ہے۔‘‘ اس کے علاوہ پینٹاگون چیف پیٹ ہیگستھ کے اس بیان کا بھی کہ’’ امریکہ جنگ کے دوران احمقانہ جنگی اصولوں کی پرواہ نہیں کرتا۔‘‘تاہم ماہرین نے خط میں کہا،’’یہ جنگ، جس پر امریکی ٹیکس دہندگان کو روزانہ ایک سے۲؍ بلین ڈالر لاگت آ رہی ہے، خطے کے شہریوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، مشرق وسطیٰ میں سینکڑوں شہریوں کی جانیں لے چکی ہے، اور سنگین ماحولیاتی اور معاشی نقصانات کا باعث بن رہی ہے۔ہم امریکی حکومتی عہدیداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت اقوام متحدہ کے منشور،بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قانون کی پاسداری کریں، اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں سے امریکی عزم اور احترام کو عوامی طور پر واضح کریں۔‘‘یہ خط جسٹ سیکیورٹی پالیسی جرنل کی ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔
جنگ کے پہلے دن ایران کے ایک اسکول پر حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ وہ ان حملوں سے سنگین طور پر پریشان ہیں جنہوں نے اسکولوں، صحت کی سہولیات اور گھروں کو نشانہ بنایا۔‘‘واضح رہے کہ ٹرمپ نے بدھ کو ایران پر’’ انتہائی سخت‘‘ حملوں کی دھمکی دی۔ٹرمپ نے کہا،’’ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں انہیں انتہائی سخت طریقے سے نشانہ بنائیں گے۔ ہم انہیں پتھر کے دور میں واپس لے جائیں گے، جہاں ان کا تعلق ہے۔‘‘امریکہ کی ایک بڑی مسلم وکالت تنظیم نے خبردار کیا کہ جنگ کے دوران ٹرمپ کی بیان بازی، بشمول ایران کو پتھر کے دور میں واپس لے جانےکی دھمکی،’’ غیر انسانی‘‘ نوعیت کی حامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا ٹرمپ کی ’پتھر کے زمانے‘ کی دھمکی پر دوٹوک جواب، امریکہ کو خبردار کیا
یاد رہے کہ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران پر مشترکہ حملے کیے، اب تک ان حملوں میں۱۳۴۰؍ سے زائد افراد مارے گئے۔جبکہ اس کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔