Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۱؍ ویں داخلہ طلبہ،والدین اورکالجوں کیلئے دردِ سر، ویب سائٹ نہ چلنے سے پریشانی

Updated: May 24, 2026, 11:38 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

گیارہویں داخلے کی ویب سائٹ کی متواتر سست رفتاری سے طلبہ کو فارم بھرنے میں دشواری ہورہی ہے جس کی وجہ سے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گیارہویں داخلے کی ویب سائٹ کی متواتر سست رفتاری سے طلبہ کو فارم بھرنے میں دشواری ہورہی ہے جس کی وجہ سے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان کیا ہے۔جس کے مطابق درخواست دینے کی مدت میں توسیع کے علاوہ ۲۹؍مئی کو کالج کے الاٹمنٹ کااعلان کیا جائے گا۔ تعلیمی تنظیموں نے اس عمل کو طلبہ ، والدین اور کالجوں کیلئے دردِ سر بتایا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت سبھی طلبہ کو تعلیم دینے کادعویٰ کر رہی ہے ،دوسری جانب داخلے کیلئے ہونے والی شدید پریشانیوں سے دلبراشتہ ہو کر طلبہ پڑھائی چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ کب اور کیسے حل ہوگا؟ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔  

واضح رہے کہ جمعرات کو ہونے والی افراتفری کے باعث ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے درخواست فارم پُر کرنےکی مدت میں ایک دن کی توسیع کی تھی لیکن جمعہ کو بھی متعلقہ ویب سائٹ کی خرابی پرطلبہ اور والدین میں برہمی پائی جارہی ہے۔ چونکہ طلبہ اور والدین کو لاگ ان کرنے، رجسٹر کرنے، درخواست فارم بھرنے اور درخواست کو لاک کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایسے میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے داخلے کیلئے نظرثانی شدہ شیڈول کا اعلان کیا ہے۔دوسرے سال بھی ۱۱؍ویں میں داخلے کا عمل پیچیدگی کا شکار ہے، ایسے میں والدین سوچ رہے ہیں کہ اب وہ کیا کریں؟

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: رکن پارلیمان کا دورہ اور اندراگاندھی اسپتال کی بجلی گل

خیال رہے کہ ۱۱؍ویں داخلےکے پہلے باقاعدہ راؤنڈ کے دوسرے دن جمعہ کو طلبہ اور والدین دن بھر فارم پُر کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن  سائٹ کے کام نہ کرنے، لاگ ان کے دوران باہر پھینک دینے، فارم میں موجود دمعلومات کا گم ہونے ، رقم کی ادائیگی کے بعد بھی پیمنٹ پینڈنگ دکھانے اور بہت سے طلبہ کو کالج کے آپشنز نظر نہ آنے، جیسے سنگین مسائل سامنے آئے ۔ خاص طور پر طلبہ کی تعلیمی تفصیلات بھرنے کے بعد، والدین سے دوبارہ فارم بھرنے کیلئے کہا جا رہا ہے ۔

ممبئی ڈویژن کے چرنی روڈ پر ڈپٹی ڈائریکٹر کے دفتر میں جمعرات کو ہونے والی افراتفری کی وجہ سے جمعہ کی صبح سے ہی والدین کی بڑی بھیڑ دکھائی دی ۔ کئی والدین نے غصے کی حالت میں داخلے کی پیچیدہ کارروائی پر برہمی کا اظہار کیا۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کچھ والدین کو یہاں سے یہ کہہ کر واپس بھیجا گیا کہ کل صبح واپس آجائیں کیونکہ صورتحال جمعرات سے زیادہ خراب تھی۔ ممبئی سمیت ریاست کے دیہی علاقوں میں بھی یہی صورتحال ہے اور لاکھوں طلبہ کو داخلہ کے عمل میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ طلبہ مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ گزشتہ ۲؍دنوں میں کئی بار کوشش کرنے کے باوجود ویب سائٹ نہیں کھل رہی ہے۔ بار بار لاگ ان ہونے کے باوجود داخلہ کا عمل مکمل نہ ہونے سے طلبہ اور والدین مکمل طور پر تذبذب کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مودی کے اٹلی دورہ میں اسرائیل کاکنکشن!

مراٹھی ابھیاس سینٹر کے رکن سشیل سیجولے نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سارا عمل طلبہ، والدین اور کالجوں کیلئے دردِ سر بنتا جا رہا ہےجس سے کافی تکلیف ہو رہی ہے۔ ویب سائٹ آسانی سے کام نہیں کر رہی ہے اور کوشش کے باوجود رسائی ممکن نہیں ہے ۔ حکومت جہاں ایک طرف ہر کسی کو تعلیم کی ضمانت دے رہی ہے وہیں دوسری طرف ایسے پریشان کن عمل سے دلبرداشتہ ہو کر متعدد طلبہ پڑھائی سے دور ہوسکتے ہیں۔ جس کمپنی کو یہ کام دیا گیا ہے، ریاستی حکومت کو اس کمپنی سے جواب مانگ کر اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔‘‘

گیارہویں کے داخلوں کا نظرثانی شدہ شیڈول

نئے طلبہ کا رجسٹریشن اور پارٹ ایک میں تصیح ۲۵؍مئی کی صبح ۶؍بجے تک کی جاسکتی ہے۔ پارٹ ۲؍ ،۲۶؍ سے ۲۸؍مئی کےدرمیان پُر کرسکتے ہیں جس میں پسند یدہ زیادہ سے زیادہ ۱۰؍ کالجوں کے ناموں کا انتخاب کیا جاسکتاہے۔ پہلے راؤنڈ کیلئے داخلے کے الاٹمنٹ لسٹ کا اعلان ۲۹؍مئی کو صبح ۱۱؍ بجے کیا جائے گا۔ کالج الاٹمنٹ کی تفصیلات اور کٹ آف کی معلومات طلبہ کے لاگ ان پر ۲۹؍مئی کو دی جائے گی۔ داخلہ کنفرم کروانے کیلئے طلبہ کے دستاویزات کی تصدیق اور فیس کی ادائیگی ۲۹؍مئی کو دوپہر ۱۲؍بجے سے ۳؍جون کی شام ۶؍بجے تک کی جاسکتی ہے ۔۵؍جون کو دوسرے رائونڈکی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔۵؍ جون کو شام ۶؍بجے خالی  نشستوں کا اعلان کیا جائے گا۔خالی نشستوں کے بارے میں حتمی معلومات ۶؍ جون کو صبح ۱۱؍ بجے شائع کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK