اسپتال کا جنریٹر بند ہونے کی وجہ سے اسٹاف اور مریضوں کو موبائل کی روشنی سے کام چلانا پڑا، سپرنٹنڈنت جنریٹر بند ہونے کی وجہ سے لاعلم۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 9:58 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
اسپتال کا جنریٹر بند ہونے کی وجہ سے اسٹاف اور مریضوں کو موبائل کی روشنی سے کام چلانا پڑا، سپرنٹنڈنت جنریٹر بند ہونے کی وجہ سے لاعلم۔
شہر کے واحد سب ڈسٹرکٹ سرکاری اسپتال اندرا گاندھی میموریل اسپتال میں جمعہ کی شام اس وقت کھلبلی مچ گئی جب رکن ارلیمان سریش مہاترے (بالیا ماما) نے اچانک اسپتال کا دورہ کیا۔ ٹھیک اسی وقت اسپتال کی بجلی گل تھی۔ بجلی منقطع ہونے کے سبب اسپتال کے متعدد وارڈ، بشمول انتہائی آئی سی یو، تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے، حیران کن طور پر جنریٹر بھی بند پڑا تھا۔ اندھیرے اور گرمی کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتحال تقریباً ۲؍ گھنٹے تک رہی جب تک کہ بجلی لوٹ نہیں آئی۔
سریش مہاترے نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ افسران سے جواب طلب کیا۔انہوں نے کہا کہ جنریٹر کی موجودگی کے باوجود مریضوں کو اندھیرے اور گرمی میں چھوڑ دینا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ ان کے بقول آئی جی ایم اسپتال میں بے ضابطگیوں اور لاپروائیوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے، جسکے باعث عوام کو معیاری طبی سہولیات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائے گی اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر کارروائی کا حکم
مہاترے دراصل آئی جی ایم اسپتال کے احاطے میں مرکزی حکومت کے فنڈ سے تعمیر ہونے والے ’مدر اینڈ چائلڈ کیئر اسپتال‘ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لینے آئے تھے۔ اس کام کی رفتار سے بھی انہوںنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ معائنے کے دوران منصوبے کا ۶۰؍ فیصد کام مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، اب حکام صرف ۵۰؍ فیصد تکمیل کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نےپوچھا کہ جب تعمیراتی کمپنی کی مقررہ مدت ختم ہو چکی ہے تو منصوبہ اب تک نامکمل کیوں ہے؟ اس کی مکمل تحقیقات ضروری ہے۔ اسپتال کی سپرنٹنڈنٹ مادھوی پادھارے سے جنریٹر بند ہونے اور اسپتال میں بے ترتیبی کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جنریٹر بند رہنے کی وجہ متعلقہ شعبے کا کلرک ہی بتا سکتا ہے۔