• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

احتجاج کا ۱۱؍واں: طبیعت بگڑنے کے باوجود منوج جرنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال جاری

Updated: September 08, 2026, 12:19 PM IST | ZA Khan | Jalna

جرنگے پاٹل نے الزام لگایا کہ مراٹھا تحریک کو دبانے کے لئے ایکناتھ شندے اور دیویندر فرنویس کے درمیان ملی بھگت ہے، پولیس کے ذریعہ مظاہرین پر حملے کی سازش رچی گئی ہے۔

Manoj Jarange. Picture: INN
منوج جرنگے پاٹل۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کے تحت منوج جرنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال ۱۱؍واں دن شروع ہوچکاہے۔ گزشتہ ۲؍ دن سے انہوں نے علاج اور پانی نہ لینے کا فیصلہ کیا ، جس کے باعث پیر کو دسویں دن ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی ہے۔منوج جرنگے پاٹل نے الزام عائد کیا کہ ’’مراٹھا ریزرویشن کے معاملے میں حکومت جان بوجھ کر لاپروائی برت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اسلئے کیا جا رہا ہے تاکہ مراٹھا سماج ختم ہوجائے، اسی وجہ سے سماج میں شدید غصہ پایا جارہا ہے۔‘‘ ان کے مطابق حکومت گزشتہ۱۵؍ دن میں کچھ نہیں کرسکی، جبکہ ۲۹؍ جون کو ہی حکومت سے کہا گیا تھا کہ انہیں دوبارہ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کی نوبت نہ آنے دی جائے، لیکن ۳؍ ماہ گزرنے کے باوجود حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔جرنگے پاٹل نے الزام لگایا کہ مراٹھا تحریک کو دبانے کیلئے ایکناتھ شندے اور دیویندر فرنویس کے درمیان ملی بھگت ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’اراکین پارلیمان کیلئے کثیر منزلہ عمارتیں اورطلبہ بے گھر‘‘

ان کا دعویٰ ہے کہ اورنگ آباد میں برسراقتدار وزراء کی ایک میٹنگ ہوئی، جس میں مراٹھا تحریک کو ختم کرنے کے طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ جب مراٹھا سماج ممبئی کی جانب مارچ کرے گا تو پولیس کے ذریعے مظاہرین پر اچانک حملہ کرانے کی سازش رچی گئی ہے، تاکہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے دیویندر فرنویس کو بدنام کیا جاسکے۔ جرنگے پاٹل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس مبینہ سازش میں بی جے پی کے چندر شیکھر باونکولے کے دو معتمد خاص بھی شامل ہیں۔جرنگے پاٹل نے کہا کہ صرف شندے کے وزراء ہی نہیں بلکہ فرنویس بھی اسی سوچ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مراٹھا تحریک کو تشدد کی طرف لے جاکر بدنام کرنا اور مراٹھا سماج کی آواز کو ہمیشہ کیلئے دبانا ہی حکمرانوں کا خفیہ ایجنڈا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مدھیہ پردیش کے بی جےپی رکن اسمبلی کی شرانگیزی، مسلم محلے پر میزائل مارنےکی دھمکی دی

منوج جرنگے نے اپنے حامیوں سے یہ کہا 
اگر ممبئی جاتے وقت کسی مراٹھا کارکن کو روکا گیا یا تشدد کیا گیا  تو۱۰؍ منٹ میں مہاراشٹر بند کردیا جائے۔ تاہم انہوں نے مظاہرین سے پولیس کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اگر رکاوٹیں کھڑی کرے تو مظاہرین راستہ بدل کر آگے بڑھیں اور پرامن طریقے سے ممبئی جائیں۔جرنگے پاٹل نے کہا کہ اگر پولیس حملہ کرنے کی کوشش کرے تو مظاہرین پولیس کی وردی کا احترام کرتے ہوئے پرامن رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK