بی ایل او نہ ہونے سے بہت سے مکینوں کواندیشہ ہے کہ کہیںوقت گزرنے کے سبب وہ میپنگ سے محروم نہ رہ جائیں،نائب تحصیلدار نے بھی اعتراف کیا۔
کاندیولی میں الیکشن آفس میں افسران اور بی ایل او وغیرہ نظر آرہے ہیں۔تصویر:آئی این این
ملاڈ اسمبلی حلقہ۱۶۲؍ میں تقریباً ایک ماہ بعد بھی محض ۱۸۰؍ بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او )کی تقرری ہوسکی ہے ۔ اس حلقے میں رائے دہندگان کی مجموعی تعداد تقریباً ۳؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار ہے۔ ووٹرس کی تعداد کی مناسبت سے ۳۰۶؍ پارٹ ہیں۔ اس لحاظ سے ۳۰۶؍ بی ایل او کی تقرری کی جانی ہے مگرحیرت انگیز طور پر ابھی ۱۲۶؍ بی ایل او مقرر کئے جانے باقی ہیں۔ اس کی وجہ سے میپنگ کا کام سست روی کا شکار ہے۔ واضح ہوکہ اپریل کے شروع سے اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) کے تعلق سے الیکشن کمیشن کی جانب سے عملدرآمد اورشہریوں کومتوجہ کیا جارہا ہے مگر جب بی ایل او ہی نہیں ہوں گے توکس طرح میپنگ کا عمل پورا ہوسکے گا۔سب کچھ بی ایل او کوہی کرنا ہوگا کیونکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسے ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ میپنگ کے بعد دوسرے مرحلے میں ایس آئی آر شروع ہوگا ۔
بی ایل او نہ ہونے پرمکینوں کے خدشات اور سوال
ایسے میںبہت سے مکینوں اور ذمہ دار اشخاص کا سوال ہے کہ کہیں تساہل اور تاخیر ہونے کے سبب بہت سے شہری میپنگ کے عمل سے محروم نہ رہ جائیں۔بی ایم سی کالونی گیٹ نمبر ۵؍ میں مقیم حافظ سید اظہرالدین ،جنہوںنےشہریوں کی مدد کے لئے اپنے علاقے میں۲۰۰۲ء کی لسٹ بیشتر گھروں میں ازخود مہیا کرائی ، ان کا کہنا ہےکہ’’وہ روزانہ چیک کرتے ہیںکہ بی ایل او کی تقرری ہوئی یا نہیںمگر مایوسی ہوتی ہے۔‘‘
ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ’’ دیگر کئی علاقوں کے علاوہ پارٹ نمبر ۳۱؍ سے ۵۰؍ تک بی ایل او کی تقرری نہ کئےجانے سےشہری پریشان ہیں۔ان کی پریشانی کی ایک اہم وجہ یہ ہےکہ گرمی کی چھٹیا ں شروع ہوگئی ہیں، بہت سے مکین اپنے آبائی وطن چلے جائیں گے۔ ایسے میں اندیشہ ہے کہ کہیں ان کی میپنگ رہ نہ جائے۔‘‘
جولیس واڑی گیٹ نمبر۶؍ میں رہنے والے محمود خان نےبتایاکہ’’ انہوں نے پرانی اورنئی ووٹر لسٹ نکال لی ہے اور اپنے اہل خانہ کی تفصیلات بھی حاصل کر لی ہیں مگربی ایل او کی تقرری نہ ہونے سے میپنگ نہیں ہوسکی ہے۔‘‘ انہوںنے بھی یہ بات دہرائی کہ ’’ بہت سے لوگ اپنےگاؤں جا رہے ہیں، اگرتاخیر سےبی ایل او کی تقرری کی جاتی ہے توگاؤں جانے کےسبب ان کی میپنگ رہ جانے کااندیشہ ہے، اس لئے اس پر فوری توجہ دی جائے۔‘‘اسی طرح رام جی یادو نامی ایک نوجوان نے انقلاب کو بتایا کہ’’ وہ اپنےدفتر میں لوگوں کی رہنمائی کررہے ہیں مگربی ایل اوکے نہ ہونے کےسبب کام ادھورا ہے۔ جتنی جلد بی ایل او کی تقرری کی جائے گی، اس کام میں تیزی آئے گی ورنہ لوگ پریشان رہیں گے۔‘‘
نائب تحصیلدار نے بی ایل او کی کمی کا اعتراف کیا
نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر نائب تحصیلدار سندیپ جادھو نے یہ اعتراف کیا کہ ’’ابھی ۱۲۶؍ بی ایل او کو مقرر کیا جانا ہے۔ روزانہ دو چار بی ایل او جوائنٹ کررہے ہیں ۔یہ کام میونسپل کمشنر اشوینی بھڈے کی سربراہی میں جاری ہے۔‘‘ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ’’ جتنا ممکن ہورہا ہے آن لائن میپنگ کی جارہی ہے،بقیہ کام بی ایل اوگھرگھرجاکر کریںگے۔‘‘
کارپوریٹرس نےکیاکہااورکس سے شکایت کی؟
کارپوریٹر رفیق شیخ سے استفسار کرنےپر ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی سرا ج شیخ اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔
سراج شیخ کا کہنا تھا کہ’ ’انہوں نے کاندیولی میں رٹرننگ آفیسروکاس سوریہ ونشی سے ملاقات کی اوربی ایل اوکی جلد تقرری کا مطالبہ کیا۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’لوگوں کی رہنمائی کےلئے انہوں نے اپنے دفتر میں نوجوانوں کی ٹیم مقرر کی ہے جو لوگوں کوپرانی اور نئی لسٹ فراہم کروارہے ہیں ۔‘‘ اسی طرح کارپوریٹر قمر جہاں صدیقی کےشوہرمعین صدیقی نے بتایاکہ’’ تساہل برتنے اور کئی علاقوں میںبی ایل او کی اب تک تقرری نہ کئےجانے کی الیکشن آفیسر سے شکایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دفتر میںلوگوں کو نئی اورپرانی ووٹر لسٹ فراہم کروائی جارہی ہے۔‘‘