• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مذہب تبدیل کرنے پر او بی سی زمرے میں حاصل ہونے والی مراعات کو روکا یا ختم نہیں کیا جاسکتا‘‘

Updated: September 02, 2026, 12:32 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

اُرن میونسپل کونسل کی خاتون کارپوریٹر نندا نامدیو مہاترے عرف ناہیدہ عرفان ٹھاکر جس نے مسلم شخص سے شادی کرنے کے بعد مذہب اسلام قبول کیا تھا، نے اس وقت راحت کی سانس لی جب بامبے ہائی کورٹ نے رائے گڑھ ضلع کی کاسٹ سرٹیفکیٹ اسکروٹنی کمیٹی کے او بی سی زمرے میں ملنے والی مراعات کے خلاف سنائے گئے فیصلہ کو جزوی طور پرخارج کر دیا۔

Bombay High Court. Picture: INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

اُرن میونسپل کونسل کی خاتون کارپوریٹر نندا نامدیو مہاترے عرف ناہیدہ عرفان ٹھاکر جس نے مسلم شخص سے شادی کرنے کے بعد مذہب اسلام قبول کیا تھا، نے اس وقت راحت کی سانس لی جب بامبے ہائی کورٹ نے رائے گڑھ ضلع کی کاسٹ سرٹیفکیٹ اسکروٹنی کمیٹی کے او بی سی زمرے میں ملنے والی مراعات کے خلاف سنائے گئے فیصلہ کو جزوی طور پرخارج کر دیا۔ تاہم کورٹ نے مذکورہ معاملہ میں کمیٹی کو مذکورہ معاملہ میں دوبارہ سماعت کرنے اور نومبر تک شنوائی کو مکمل کرکے اس پر فیصلہ سنانے کی ہدایت بھی دی ہے ۔ ۲۰۲۵ء میں اُرن نگر پریشد کے ہونے والے انتخابات میں کانگریس کی امیدوارنندا نامدیو مہاترے عرف ناہیدہ عرفان ٹھاکر اوبی سی زمرے میں وارڈ نمبر ۵؍ سے ۸۳۱؍ ووٹ حاصل کرکے بی جے پی کی امیدوار دھنا شری دیواکر شندے کو شکست دی تھی ۔تاہم جیت حاصل کرنے اور مسلم شخص سے شادی کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کیخلاف رائے گڑھ ضلع کاسٹ سرٹیفکیٹ اسکروٹنی کمیٹی کے روبرو شکایت درج کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کیخلاف ایف آئی آر پر کانگریس سخت برہم، ملک گیر مظاہرہ

وہیں اسکروٹنی کمیٹی نے تبدیلی مذہب کے سبب او بی سی زمرے میں ملنے والی مراعات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی جیت کو کالعدم قرار دے دیا تھا ۔وہیں کانگریس کارپوریٹر نے کمیٹی کے فیصلہ کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس ریاض چھاگلا اور جسٹس فردوس پی پونی والا کے روبرو عرضداشت داخل کرتے ہوئے اسکروٹنی کمیٹی کے فیصلہ کو ناجائز قرار دیا اوراسےمنسوخ کرنے کی اپیل کی تھی ۔ دفاعی وکیل چنتا منی بھنگوجی نے عدالت کے روبرو داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ یہ دلیل پیش کی کہ ’’ کسی شخص کے مذہب تبدیل کرنے سے او بی سی ذات سے نہ تو وابستگی ختم ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس زمرے میں ملنے والی مراعات کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔‘‘ وکیل نے کاسٹ سرٹیفکیٹ اسکروٹنی کمیٹی کے ذریعہ سنائے گئے فیصلہ کو آئین کی خلا ف ورزی قرار دیتے ہوئےیہ بھی بتایاکہ مذکورہ اور۱۹۸۳ء اور ۱۹۹۶ء میں اس ضمن میں حکومت نے جو قرارداد منظور کی ہے اس کے مطابق کسی بین المذاہب شادی یا مذہب تبدیلی سے او بی سی زمرے میں ملنے والا مراعات کو نہ تو معطل کیا جاسکتا ہے اور نہ ختم کیا جاسکتا ہے ۔ دو رکنی بنچ نے مذکورہ دلیلوں کو سننے اور اس ضمن میں کمیٹی کے سنائے گئے فیصلہ کا جائزہ لینے کے بعد جزوی طو ر پر کمیٹی کے فیصلہ کو رد کر دیا ہے ۔ ساتھ ہی کورٹ نے اسکروٹنی کمیٹی کو اس ضمن میں دوبارہ سماعت کرنے کا حکم دیتے ہوئے ۲۳؍ نومبر تک سماعت کو مکمل کرنے اور فیصلہ سنانے کی ہدایت دی ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK