Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی حملے میں چابہار کا مشہور ٹاور تباہ، ہندوستان کو نقصان کا خدشہ

Updated: July 18, 2026, 10:52 AM IST | New Delhi

نئی دہلی کی سرمایہ کاری خطرے میں۔امریکی وزیر دفاع نے کنٹرول ٹاور کے نقصان ہونے کی تصویر شیئر کی۔

The tower destroyed in the US attack. Photo: INN
امریکی حملےمیں تباہ ہونے والا ٹاور۔ تصویر: آئی این این

امریکہ نے جمعہ کو مسلسل چھٹی رات ایران پر فضائی حملہ کیا۔ ہندوستانی سرمایہ کاری والے چابہار بندرگاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں بندرگاہ کے کنٹرول ٹاور کو نقصان پہنچاہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کنٹرول ٹاور کے نقصان ہونے کی تصویر شیئر کی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے چابہار پورٹ اور کنٹرول ٹاور پر امریکی حملے کی تصدیق کی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں اس ٹاور پر یہ تیسرا حملہ ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ فائٹر جیٹ، ڈرون اور جنگی جہازوں سے ایران کے کئی فوجی تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ حملوں میں ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام، فوجی لاجسٹکس اور بحری اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ چابہار بندرگاہ ہندوستان کے لئے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ہے۔ ہندوستان نے اس کی ترقی میں سرمایہ کاری کی ہے اور اسے ہندوستانی کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (آئی پی جی ایل)چلاتی ہے۔ یہ بندرگاہ ہندوستان کو پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارتی رسائی فراہم کرتی ہے۔چابہار ایران کا وہ علاقہ ہے جہاں ہندوستان کی نمایاں سرمایہ کاری ہے۔ ہندوستان نے یہاں ۱۲۰؍ملین ڈالر یعنی تقریباًساڑھے۱۱؍ ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس امریکی حملے سے ہندوستان کی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی حملے میں گرنے والا میری ٹائم ٹریفک ٹاور شاہد بہشتی ٹرمینل پر واقع ہے جسے ہندوستان نے بنایا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا دعویٰ: چین نے۲۰۲۰ء میں ۲۲ کروڑ ووٹرز کا ڈیٹا چرایا، خفیہ دستاویز عوامی کریں گے؛ چین کی تردید

ہندوستان نے گزشتہ کئی برس میں چابہار منصوبے میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ ۲۰۲۴ءمیں انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے ایران کے ساتھ ۱۰؍ سال تک چلانے کا سمجھوتہ کیاتھا جس کے تحت تقریباً ۳۷؍کروڑ ڈالر (۳۷۰؍ملین ڈالر) تک کی سرمایہ کاری اور ترقی کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ چابہار ایران کی واحد بندرگاہ ہے جو بحر ہند سے منسلک ہے۔چابہار بندرگاہ کے دو ٹرمینل ہیں۔ شاہد بہشتی اور شاہد کلنتری۔ ان ٹرمینلز میں متعدد برتھ اور کارگو سنبھالنے کی جدید سہولتیں ہیں۔ ہندوستان حکومت کی کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (آئی پی جی یل)۲۰۱۸ءسے شاہد بہشتی ٹرمینل کا کام کاج سنبھال رہی ہے۔مئی ۲۰۲۴ء میں ایران کے ساتھ ہوئے ۱۰؍سالہ سمجھوتے کے تحت آئی پی جی ایل کو اس ٹرمنل کے جنرل کارگو اور کنٹینر کی نگرانی سونپی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK