ایک ملک کے کسی عبادت خانے میں ایک بزرگ اور ان کے بہت سے شاگرد رہا کرتے تھے۔ عبادت خانہ ایک بہت خوبصورت اور شاداب پہاڑ کے دامن میں ایک چشمے کے کنارے واقع تھا۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 12:24 PM IST | Ahmed Jamal Pasha | Mumbai
ایک ملک کے کسی عبادت خانے میں ایک بزرگ اور ان کے بہت سے شاگرد رہا کرتے تھے۔ عبادت خانہ ایک بہت خوبصورت اور شاداب پہاڑ کے دامن میں ایک چشمے کے کنارے واقع تھا۔
ایک ملک کے کسی عبادت خانے میں ایک بزرگ اور ان کے بہت سے شاگرد رہا کرتے تھے۔ عبادت خانہ ایک بہت خوبصورت اور شاداب پہاڑ کے دامن میں ایک چشمے کے کنارے واقع تھا۔
ہر صبح بزرگ چشمے پر کیتلی میں پانی بھرنے جاتے۔ کیتلی میں ایک ڈور لٹکی رہتی جس کے سرے پر ایک کانٹا تھا جب وہ چائے بنانے کیلئے کیتلی میں پانی بھرتے تو ایک مچھلی بھی کانٹے میں پھنس جاتی۔
ایک دن بزرگ نے حسب ِ معمول مچھلی پکڑ لی اور کیتلی میں پانی بھرا۔ مگر جب وہ واپس لوٹے تو ان کے اُوپر پانی کی بوندیں گرنا شروع ہوگئیں اور وہ بالکل بھیگ گئے۔ انہوں نے کیتلی دیکھی تو آدھی خالی ہو چکی تھی۔ وہ ٹپک رہی تھی۔
’’چچ چچ!‘‘ بزرگ نے افسوس کرتے ہوئے کہا، ’’اب دوسری کیتلی میں پانی بھرنا ہوگا۔ یہ تو ٹپک رہی ہے۔‘‘
جب وہ عبادت خانے میں واپس لوٹے تو کیتلی خالی ہوچکی تھی۔ وہ تھک گئے تھے مگر چائے کی خواہش شدید تھی۔ انہوں نے دوسری کیتلی ڈھونڈنا شروع کر دی۔ دیوار کے ایک کونے میں کھونٹی پر ایک پُرانی مٹی کی کیتلی لٹک رہی تھی۔ انہوں نے اسٹول پر چڑھ کر کھونٹی پر سے کیتلی اتار لی، اسے صاف کیا اور پانی بھر نے چشمے کی جانب چل دیئے۔ وہ کیتلی میں پانی بھر کر فوراً ہی واپس آگئے۔ انہوں نے انگیٹھی سلگائی اور اس پر کیتلی رکھ دی۔ تھوڑی ہی دیر میں پانی کھولنے لگا۔
اچانک کیتلی کے ایک دُم نکلنا شروع ہوگئی ایک بہت بڑی بال دار دُم۔ وہ دُم اوپر کو اُٹھ کر آہستہ آہستہ آگے اور پیچھے کی طرف بڑھنا شروع ہوئی۔ ’’خُوں! خُوں ! فون! فوں! کھڑبڑ! کھڑبڑ! کھڑڑ! کھڑڑ! سی پوں! سی پوں!‘‘ کی آوازیں کیتلی میں سے نکلنا شروع ہوگئیں۔
بزرگ بیچارے بہت ڈر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ کیتلی میں سے غرانے کی ’’خوں! خوں! خوں !‘‘ کی آوازیں آرہی ہیں۔ اور کیتلی کی دُم میں سے ’’شڑاپ! شڑاپ! شڑاپ! شڑاپ!‘‘ کی آوازیں آرہی ہیں۔ یہ دیکھ کر بزرگ بڑے زور سے چلّائے ’’ارے باپ رے باپ! یہ کیا ہے؟ مدد مدد!‘‘ عبادت خانے کی بانس کی چھت پر ہر طرف سے دھپ دھپ کی آوازیں آنے لگیں۔ سارے شاگرد دوڑ پڑے۔ ایک شاگرد نے پوچھا ’’استاد کیا آپ بیمار ہیں؟‘‘
استاد نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’دیکھو، کیتلی کے تو دُم نکل آئی ہے؟‘‘ کیتلی کی دُم دیکھ کر تمام شاگردوں نے چلّانا شروع کر دیا۔ ایک شاگرد چیخا ’’ہو! ہو! ہو!‘‘
دوسرا چلّایا ’’اوہ! اوہ! اوہ!‘‘
تیسرا چلّایا ’’آہ! آہ! آہ!‘‘
اس دوران کیتلی کی دُم شڑاپ! شڑاپ! شڑاپ! کرکے چاروں طرف گھومتی رہی۔
بزرگ کے شاگرد مارے ڈر کے پیلے پڑ گئے۔ سہم کر سوچنے لگے کہ اب کیا کریں؟ کیتلی کی دُم پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے ’’شڑاپ! شڑاپ! ‘‘ کرنے لگی۔
یہ بھی پڑھئے: خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا....
کیتلی کے اندر بہت ہی خوفناک طریقہ سے پانی اُبل رہا تھا۔ ’’ہبل! ہبل! ہبل!‘‘ کیتلی کی دُم کے سامنے کا حصہ اچانک پھٹ گیا۔ اس میں سے پانی کے بجائے ایک قسم کا شور نکلنا شروع ہوا۔ شور میں سے ایک ناک نکلنا شروع ہوئی۔ اس کے بعد پورا سر نکل آیا۔ ایک بجو نما بال دار سر جس میں دو بھوری آنکھیں اور تیز سفید دانت چمکنے لگا۔
ایک ایسی کیتلی جس کے بال دار لہرانے والی دُم اور سر نکل آئے، اس میں نہ تو چائے بنائی جا سکتی تھی، نہ کوئی دوسرا کام لیا جاسکتا تھا۔ کوئی بھی کیا کرسکتا تھا؟ کیتلی چلّا رہی تھی۔ بزرگ چلّا رہے تھے۔ ان کے شاگرد چلّا رہے تھے۔ یہ جگہ اب ایک عجائب گھر معلوم ہو رہی تھی جس میں ہر جانور کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اتنا زیاد شور ہوا کہ آخر کیتلی ڈر گئی۔ کیتلی کے پانی میں کھڑبڑ ہوتی رہی۔ اس کی دُم شڑاپ! شڑاپ! کرتی رہی۔ اس کے دانت کڑکڑاتے رہے۔ ڈر کے مارے کیتلی آگ پر سے کود کر کمرے میں دوڑنے لگی۔ وہ ’’فو فو‘‘ کر رہی تھی۔ یہ بہت خطرناک اور بھیانک منظر تھا کمرے میں ہر طرف اوہ! اوہ! آہ! آہ! ای! ای! او! او! اور بھوں! بھوں! کی آوازیں آرہی تھیں۔
شاگردوں نے چلّا کر بھاگنا شروع کیا ’’ارے اس کو دُم سے پکڑلو....‘‘
کیتلی یہ سُن کر اپنی دُم کو پیچھے کرکے کمرے میں دوڑنے لگی۔ سامنے اس کا بجو سا منہ نکلا ہوا تھا۔ بھاپ سے کیتلی کا ڈھکن اوپر نیچے ہو کر الگ شور کر رہا تھا۔ عجب طریقے سے بھاپ نکل رہی تھی۔ سب شاگرد کیتلی کو دوڑا رہے تھے۔ انہوں نے اس پر ایک رسی کا پھندا پھینک کر اس کو رسی سے باندھ دیا۔ تمام پانی گر گیا۔ لیکن کیتلی برابر دانت پیستی اور دُم لہراتی رہی۔ انہوں نے اسے ایک بکس میں بند کر دیا۔
سب تھکے ہوئے تھے اور چائے نہ ملنے پر افسوس کر رہے تھے۔ اتنے میں دروازہ پر ایک کباڑی نے آواز لگائی:
’’پرانی چیزیں بیچ ڈالیں؟‘‘
’’پرانے چاقو.... پرانی پتیلی!‘‘
’’پرانی کیتلیاں بیچ ڈالیں!‘‘
بزرگ اور ان کے شاگردوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ بزرگ نے بکس کھولا۔ کیتلی پڑی تھی۔ بجو والا سر اور دُم غائب تھی۔ انہوں نے کباڑی کو بلا کر کیتلی دے دی۔ سب کا ڈر کے مارے بُرا حال تھا کہ کہیں اچانک کیتلی کی خوفناک دُم نہ نکل آئے اور کیتلی کا بھوت کباڑی کے سامنے دوڑنا شروع نہ کر دے۔
کباڑی نے اطمینان سے کیتلی کا ڈھکن کھول کر دیکھا، پسند کیا اور کچھ سکّے بزرگ کے ہاتھ میں رکھ دیئے۔ پھر وہ کیتلی بغل میں دبا کر باہر نکل گیا۔ جیسے ہی کباڑی جانے لگاکیتلی کی دُم باہر نکلی اس نے بزرگ اور اسکے شاگردوں کو الوداع کہا اور پھر کیتلی کے اندر گھس کر غائب ہوگئی۔ خوش قسمتی سے کباڑی نے کیتلی کی دُم نہیں دیکھی۔ وہ گھومتا ہوا اپنے گھر واپس پہنچا۔ کیتلی کباڑ کے ڈھیر پر ڈال دی اور چٹائی بچھا کر سونے کیلئے لیٹ گیا۔
رات کو عجیب و غریب آوازوں سے کباڑی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا کہ عبادت خانے سے وہ جو کیتلی لایا تھا، وہ چار غضبناک ٹانگوں پر غصے میں بھری کمرے میں ہر طرف گھوم رہی ہے۔ کیتلی کا بجو کا سر نکلا اپنے دانت کٹکٹا رہا ہے۔ اس کی دُم شائیں شائیں شڑاپ، شڑاپ کرتی چل رہی ہے۔ غریب کباڑی نے مارے ڈر کے بھاگنے کے لئے چھلانگ لگائی تو کیتلی نما بجو پھر کیتلی ہوگیا۔ وہ گھبرا کر بیٹھ گیا۔ ساری رات اسی پریشانی میں گزر گئی۔ اس نے کیتلی کے بجو کو کھانے کے لئے چیزیں دیں۔ وہ ایک رحم دل انسان تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر کیتلی میں پانی گرم کیا جائے تو کیتلی کی اس مخلوق کا کیا ہوگا؟
دوسرے دن اس نے اپنے ایک دوست کو کیتلی کا معاملہ دکھایا۔
کیتلی کی دُم شڑاپ شڑاپ کر رہی تھی۔ بجو کے دانت بج رہے تھے اور کیتلی اپنے چاروں پیروں سے کمرے میں ہر طرف دوڑ رہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: کوئی کام مشکل نہیں
کباڑی کے دوست نے کہا ’’میرے دوست! یہ تو جادو کی کیتلی ہے! خوش قسمتی سے یہ تمہیں مل گئی ہے اب تم تماشا دکھانے والے مداری بن جاؤ۔ تم اس کیتلی کو رسی پر چڑھنا، چھتری لے کر تار پر چلنا سکھا دو اور پیسے لے کر اس کا تماشہ دکھایا کرو۔ پھر تم بہت جلد امیر آدمی بن جاؤ گے۔‘‘
کباڑی کی سمجھ میں یہ بات آگئی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ اسے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ کیتلی بہت جلد چھتری لے کر بانس پر چڑھنے اور تار پر تماشے دکھانے لگی۔ چھوٹی سی کیتلی دانت چمکا چمکا کر ناچ رہی ہے۔ اس کی دُم گردش میں ہے۔ ایک چھوٹے سے بال دار پنجے میں چھوٹی سی رنگ برنگی چھتری پکڑے رسی یا تار پر بڑے پیارے انداز میں ناچ رہی ہے۔
جب کیتلی نے تماشے دکھانے شروع کئے تو ملک بھر کے لوگ اسے دیکھنے کے لئے نکل پڑے۔ کباڑی نے بھیڑ کم کرنے کے لئے ٹکٹ لگا دیا۔ پھر وہ ٹکٹ مہنگا کرتا گیا مگر بھیڑ بڑھتی گئی۔ بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ غریب بوڑھا کباڑی بہت زیادہ مالدار ہوگیا۔ اس کی تندرستی بہت اچھی ہوگئی۔ وہ ہر وقت بہت زیادہ خوش رہنے لگا۔ اس کے پاس اتنی زیادہ دولت ہوگئی کہ پھر اسے ٹکٹ لگا کر دولت کمانے کی ضرورت نہیں رہ گئی۔
ایک دن وہ جادو کی کیتلی بزرگ کے پاس واپس لے گیا۔ بزرگ نے شیشے کے ایک بہت بڑے شو کیس میں کیتلی کو رکھ دیا۔ شو کیس کے برابر میں ایک اور بکس تھا آنے والے کیتلی کا تماشا دیکھتے اور بزرگ کیلئے بکس میں روپے پیسے ڈال دیتے۔ یہاں تک کہ بزرگ اور ان کے تمام شاگردوں کی صحت بہت اچھی ہوگئی اور سب بہت زیادہ دولتمند ہوگئے۔ جادو کی کیتلی بھی یہی چاہتی تھی۔ اس کا مقصد پورا ہوگیا۔ اس لئے کیتلی کا بھوت آرام کرنے کیلئے غائب ہوگیا اور خالی کیتلی شو کیس میں زندگی کے باقی دن بزرگ اور ان کے شاگردوں کی طرح خاموشی سے گزار نے لگی۔