کارپوریٹروں کے اعتراض کے باوجود سینئر میونسپل افسر کے دلائل سننے کے بعد اس تجویز کواسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں منظور کرلیا گیا۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 12:37 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
کارپوریٹروں کے اعتراض کے باوجود سینئر میونسپل افسر کے دلائل سننے کے بعد اس تجویز کواسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں منظور کرلیا گیا۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ممبئی کی فضائی آلودگی کی سطح خراب تر ہوتی جارہی ہے لیکن ماہر افسران اور ملازمین کی کمی کی وجہ سے شہر و مضافات میں فضائی آلودگی پرنگرانی رکھنے کی ذمہ داری بی ایم سی نجی کمپنی کے سپرد کرے گی۔سانتا کروز میں واقع ’ایئر کوالیٹی مانیٹرنگ اینڈ ریسرچ لیباریٹری‘ میں ماہر افسران کی کمی کی وجہ سے بدھ کو بی ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں فضائی آلودگی کی نگرانی اور سالانہ رپورٹ پیش کرنے سمیت دیگر اہم کاموں کی ذمہ داری نجی کمپنی کو سونپنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
بی ایم سی کو ماحولیات کے تعلق سے ہر سال ۳۱؍ جولائی کو ’انوائرومنٹ اسٹیٹس رپورٹ (ای ایس آر) پیش کرنی ہوتی ہے اور شہریوں سے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر فضائی آلودگی کا خصوصی سروے بھی کیا جاتا ہے ۔ اب یہ تمام ذمہ داریاں نجی کمپنی کو سونپی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: فرنٹ لائن اسٹاف کو ذہنی تناؤ سے بچانے کیلئے خصوصی سیشن
جب یہ تجویز پیش ہوئی تو کانگریس کے لیڈر اشرف اعظمی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بی ایم سی دھیرے دھیرے تمام محکموں کو بند کرکے نجی کمپنیوں کو سونپنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس محکمہ کے سربراہ کا عہدہ خالی پڑا ہے اور اس میں ۵۱؍ افراد کام انجام دیتے ہیں لیکن فی الحال صرف ۱۱؍ ملازمین سے کام چلایا جارہا ہے جس کی وجہ سے یہ کام ٹھیک طرح سے نہیں ہوپارہاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے بجائے اس محکمہ کی ذمہ داریاں نجی کمپنیوں کو سونپنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہی حال دیگر کئی محکموں کا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ آلودگی اور ماحولیات کے دیگر مسائل کے حل کیلئے ممبئی کا کلائمیٹ ایکشن پلان تیار کیا جارہا تھا، اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ میں بہتری لانے کیلئے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف این سی پی (اجیت پوار) کی کارپوریٹر ڈاکٹر سعیدہ خان نے کہا کہ بی ایم سی کے محکمہ کے افسران ماحولیات اور آلودگی سے متعلق کام کاج کو اتنی مہارت سے انجام نہیں دے سکتے جتنا یہ کام ’محکمہ ماحولیات‘ کے افسران اچھے سے کرسکتے ہیںاس لئے یہ کام نجی کمپنی کو دینے کے بجائے ’انوائرومنٹ ڈپارٹمنٹ‘ کو سونپ دینا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: جینت پاٹل مہایوتی حکومت میں وزیر مالیات ہوں گے؟
تاہم میٹنگ میں موجود بی ایم سی کے سینئر افسر نے یہ ذمہ داری نجی کمپنی کو سونپنے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس کمپنی کو کام دیا جارہا ہے، اس کی ناگپور میں اپنی خود کی لیباریٹری ہے اور ان کے پاس ہر طرح کے ماہرین کی ٹیم ہے۔
ان دلائل کو سننے کے بعدمیونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین پربھاکر شندے نے فضائی آلودگی پرنگرانی رکھنے کا کام نجی کمپنی کو سونپنے کی تجویز کو منظوری دے دی۔