• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۶؍ سال کے لڑکے کو ۳؍ ماہ کی عمر کی بھی باتیں یاد: تحقیق

Updated: September 26, 2026, 9:09 AM IST | Warsaw

کے سی ایل نامی لڑکا اپنی زندگی کے واقعات انتہائی تفصیل سے یاد رکھتا ہے؛ تحقیق میں اس کی یادداشت عام افراد کے مقابلے میں ۹ء۹۹؍ فیصد سے بھی زیادہ بہتر پائی گئی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

عام طور پر انسان اپنی زندگی کے ابتدائی ۳؍ یا ۴؍ برسوں کی واضح یادیں محفوظ نہیں رکھ پاتا، لیکن پولینڈ کے ایک ۱۶؍ سالہ لڑکے نے سائنس دانوں کی توجہ اپنی ایسی غیر معمولی یادداشت سے حاصل کی ہے جس میں وہ اپنی زندگی کے واقعات انتہائی تفصیل کے ساتھ یاد رکھتا ہے۔ محققین نے اس لڑکے کی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے اسے کے سی ایل کا نام دیا ہے اور ان کے مطابق وہ اپنی کچھ یادیں تقریباً 3 ماہ کی عمر تک کی بتاتا ہے۔ تحقیق میں اس کی یادداشت کی صلاحیت کو Highly Superior Autobiographical Memory (HSAM) کے معیار پر پورا اترنے والا قرار دیا گیا ہے۔ کے سی ایل نے فروری ۲۰۲۵ء میں یادداشت کے ماہر اور محقق کرسٹیان بارزیکوفسکی سے رابطہ کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے اپریل ۲۰۰۹ء یعنی تقریباً ۳؍  ماہ کی عمر سے متعلق بعض واقعات یاد ہیں۔ اس نے اپنے ابتدائی بچپن، خصوصاً ۲۰۱۰ء اور ۲۰۱۱ء کے واقعات کی بھی تفصیلات بیان کیں جن میں سے کچھ معلومات اس کے والدین نے بھی درست قرار دیں۔ تاہم محققین نے اس کے ۳؍ ماہ کی عمر سے متعلق تمام یادوں کو مکمل طور پر آزادانہ طور پر ثابت شدہ قرار نہیں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گوگل اگلے ہفتے AI چپس خلا میں بھیجے گا، مدار میں ڈیٹا سینٹر کا تجربہ

محققین کے مطابق کے سی ایل نے بتایا کہ تقریباً ۳؍ سال کی عمر کے بعد اسے اپنی زندگی کا ایک مسلسل شعوری احساس یاد رہتا ہے۔ اس کے بعد کی زیادہ تر یادیں اس کے ذہن میں انتہائی تفصیل کے ساتھ موجود ہیں اور انہیں یاد کرنے کے لیے اسے خاص کوشش نہیں کرنا پڑتی۔ بعض اوقات کوئی معمولی بو، گانا، جملہ یا دوسرا حسی اشارہ اچانک ماضی کا کوئی واقعہ اس کے ذہن میں لے آتا ہے۔ اس غیر معمولی صلاحیت کی جانچ کے لیے محققین نے کے سی ایل پر متعدد معیاری آزمائشیں کیں۔ چونکہ وہ تحقیقاتی ٹیم سے دور رہتا تھا، اس لیے تمام تجربات آن لائن کیے گئے اور ۷؍  الگ الگ نشستوں میں مکمل ہوئے۔ اس دوران کیمرہ، مائیکروفون اور اسکرین کھلی رکھی گئی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ کسی بیرونی ذریعے سے معلومات حاصل نہیں کررہا۔ اس کے نتائج کا موازنہ ۸؍ بالغ افراد اور اسی عمر کے ایک ۱۶؍ سالہ لڑکے سے کیا گیا۔
ایک آزمائش میں شرکا کو ۱۵؍ اہم عالمی واقعات کی تاریخیں بتانی تھیں۔ کے سی ایل نے ۵۱؍ فیصد سوالات کے درست جواب دیے، جبکہ تقابلی گروپ کی اوسط ۳۸ء۲۰؍ فیصد رہی۔ اپنی زندگی کی ۱۰؍ بے ترتیب تاریخوں سے متعلق آزمائش میں اس نے ۸۳؍ فیصد درست جوابات دیے، جبکہ دوسرے شرکا کی اوسط صرف ۷۵ء۲۸؍ فیصد تھی۔ محققین نے ان نتائج کی بنیاد پر اسے عام آبادی کے مقابلے میں یادداشت کی صلاحیت کے انتہائی بلند درجے پر رکھا۔تحقیق کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ سائنس دانوں نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ کے سی ایل کسی واقعے کو پوچھنے پر کتنی اچھی طرح یاد کرسکتا ہے، بلکہ یہ بھی جانچنے کی کوشش کی کہ اس کے ذہن میں یادیں خودبخود کتنی مرتبہ آتی ہیں۔ کمپیوٹر پر کیے گئے ایک تجربے میں اچانک اس سے پوچھا گیا کہ اس وقت اس کے ذہن میں کیا خیال چل رہا ہے۔ ۱۵؍ خودبخود آنے والے خیالات میں سے ۱۳، یعنی ۸۷؍ فیصد، ذاتی یادوں سے متعلق تھے۔ تقابلی گروپ میں یہ شرح ۳۹؍  فیصد رہی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا شی جن پنگ کو وہائٹ ہاؤس میں ’آزاد اور بلند پرواز‘ عقاب کا مجسمہ تحفہ

محققین کے مطابق کے سی ایل کی غیر معمولی صلاحیت صرف یادداشت کی مقدار تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا تعلق اس بات سے بھی تھا کہ اس کے ذہن میں ذاتی واقعات کتنی آسانی سے دوبارہ ابھر آتے ہیں۔ ایک معمولی حسی یا اندرونی جسمانی احساس بھی کسی پرانے واقعے کو یاد کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ محققین نے تجویز کیا کہ اس کی حسی حساسیت شاید ان اشاروں کو زیادہ نمایاں بناتی ہے جو دوسرے افراد میں یادداشت کو متحرک نہیں کرتے۔ یہ صلاحیت HSAM کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا افراد اپنی ذاتی زندگی کے واقعات کو غیر معمولی تفصیل اور تیزی سے یاد کرسکتے ہیں، جبکہ انہیں یادداشت کے ماہرین کی طرح مخصوص یادداشت کی تکنیکیں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ کیفیت انتہائی نایاب ہے اور دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد ۱۰۰؍ سے بھی کم بتائی جاتی ہے۔
اس تحقیق کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کے سی ایل کو اپنی زندگی کے تقریباً نصف دنوں کے بارے میں اگست ۲۰۲۲ء کے بعد سے تفصیلی یادیں خودبخود یاد آنے کا دعویٰ ہے۔ محققین نے پایا کہ اس کی یادداشت صرف جان بوجھ کر ماضی کھنگالنے تک محدود نہیں بلکہ غیر ارادی طور پر بھی بڑی تعداد میں ذاتی واقعات سامنے آتے ہیں۔ یہی پہلو HSAM پر سابقہ تحقیق میں موجود بعض سوالات کو مزید اہم بناتا ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے اس ایک کیس سے عمومی نتیجہ اخذ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق HSAM رکھنے والے مزید افراد پر مطالعہ ضروری ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کے سی ایل میں دیکھی گئی غیر ارادی یادداشت کی یہی خصوصیات دوسرے افراد میں بھی موجود ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج ۲۰۲۶ء میں طبی و اعصابی تحقیق کے جریدے Cortex میں شائع ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK