• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا شی جن پنگ کو وہائٹ ہاؤس میں ’آزاد اور بلند پرواز‘ عقاب کا مجسمہ تحفہ

Updated: September 25, 2026, 8:02 PM IST | Washington

امریکی صدر نے تقریباً ۳؍ فٹ بلند مجسمے کو امریکہ کی قومی علامت قرار دیا، کہا ’ہم دونوں پہلے سے کہیں بہتر تعلقات میں ہیں۔‘

Trump with the statue. Photo: X
ٹرمپ مجسمے کے ساتھ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے اعزاز میں وہائٹ ہاؤس میں منعقدہ سرکاری عشائیے کے دوران انہیں امریکہ کے قومی پرندے بالڈ ایگل یعنی گنجا عقاب کا تقریباً ۳؍  فٹ بلند مجسمہ تحفے میں پیش کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ مجسمہ انہوں نے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ اور ایک امریکی فنکار کے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا ہے اور عقاب ’’امریکہ کی آزاد اور بلند پرواز روح‘‘ کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مجسمہ بیجنگ میں کسی نمایاں مقام پر رکھا جائے گا۔ یہ تحفہ ۲۴؍ ستمبر کو وہائٹ ہاؤس میں شی جن پنگ کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کے دوران پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا استقبال کیا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق عشائیے کی تیاری میں میلانیا ٹرمپ نے اہم کردار ادا کیا اور تقریب میں دونوں ممالک کے سرکاری وفود کے ساتھ کاروباری شخصیات اور حکام بھی شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی کمیشن کا ہندوستان پر UAPA کے غلط استعمال کا الزام

مجسمہ پیش کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ شی جن پنگ کو ’’ایک غیر معمولی امریکی فنکار‘‘ کا تیار کردہ تحفہ دے رہے ہیں، جس کے ڈیزائن میں انہوں نے اور میلانیا ٹرمپ نے ذاتی طور پر تعاون کیا۔ انہوں نے کہا، ’’بالڈ ایگل امریکہ کی قومی علامت اور امریکہ کی آزاد اور بلند پرواز روح کا مظہر ہے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ تحفہ بیجنگ میں ’’ایک اچھی اور شاندار جگہ‘‘ پائے گا۔ عشائیے میں ٹرمپ نے امریکہ اور چین کے تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے سیاسی نظام مختلف ہیں، لیکن دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات برقرار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ’’پہلے سے کہیں بہتر‘‘ ہیں اور کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ مل کر ایسی شراکت داری قائم کرسکتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے خوشحالی اور سلامتی کو فروغ دے۔

چینی صدر نے بھی عشائیے سے قبل اور دوران امریکہ اور چین کے تعلقات میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق شی جن پنگ نے امریکی عوام اور ان تمام افراد کو وسط خزاں کے تہوار کی مبارک باد دی جو چین اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر بنانے کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے مئی میں چین کے دورے کا حوالہ بھی دیا۔ شی جن پنگ کا واشنگٹن دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دنیا کی ۲؍ بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی، تائیوان اور ایران سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ دونوں صدور نے ۲۴؍ ستمبر کو تقریباً ۳؍ گھنٹے بات چیت بھی کی، تاہم عوامی طور پر سامنے آنے والی معلومات میں ان تمام متنازع معاملات پر کسی بڑے بریک تھرو کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ وہائٹ ہاؤس کے عشائیے میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی متعدد معروف شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں ایلون مسک، ایپل کے سربراہ ٹم کک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین شامل تھے۔ ان کی موجودگی نے اس ملاقات میں مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور تجارت کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: یو پی آئی پرایم ڈی آر فیس صارف نہیں تاجر دیں گے: سیتارمن

عشائیے کی تیاری میں امریکی اور چینی ثقافتی عناصر کو یکجا کیا گیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق میزوں کی سجاوٹ میں سرخ رنگ کو نمایاں رکھا گیا، جو چینی ثقافت میں تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ کھانے میں امریکی اجزا کے ساتھ چینی اثرات شامل کیے گئے۔ تقریب کا آغاز امریکی اسپارکلنگ وائن سے کیا گیا، جسے وہائٹ ہاؤس نے ۱۹۷۲ء میں رچرڈ نکسن اور چینی وزیر اعظم ژو این لائی کے تاریخی ’’Toast to Peace‘‘ سے جوڑا۔ شی جن پنگ کا موجودہ دورہ واشنگٹن ایک ایسے مرحلے میں ہورہا ہے جب دونوں ممالک اپنے اختلافات کے باوجود باہمی تعلقات کو سنبھالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چینی صدر نے امریکی اور چینی افواج کے درمیان باقاعدہ رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مسابقت کو ایک صحت مند حد میں رکھا جانا چاہیے تاکہ کشیدگی کو تنازع میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK