گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کروانے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔
سفر سے پہلے حادثہ- تصویر:آئی این این
بیڑ ضلع کے ماجلگاؤں تعلقہ میں واقع پرشوتم پوری مندر میں درشن کیلئے عقیدت مندوں کو لے جانے والی ایک کشتی دریا کے کنارے خوفناک حادثے کا شکار ہوگئی جس میں خبر لکھے جانے تک ۲؍ خواتین کی موت ہو گئی۔ اطلاع کے مطابق اس کشتی میں ۵۰؍ تا ۶۰؍ عقیدت مند سوار تھے۔ مقامی ملاحوں اور انتظامیہ کی جانب سے جنگی پیمانے پر امدادی کام کیا گیا۔ کچھ عقیدت مندوں کو بچا لیا گیا ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ یاد رہے کہ ریاست بھر سے لاکھوں عقیدت مند اس وقت مقدس مقام پر درشن کیلئے آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس مقام پرکافی بھیڑ ہوتی ہے۔
عقیدت مندوں کو یہاں کے گوداوری ندی کے کنارے سے ہو کر کشتی کے ذریعے سفر کرنا پڑتا ہے۔ تاہم یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ کشتی چلانے والے زیادہ پیسوں کی خواہش میں غیر قانونی طور پر گنجائش سے زیادہ مسافر کشتی میں چڑھا لیتے ہیں۔اس لاپروائی کے سبب عقیدت مندوں کی کشتی اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے ہی دریا میں الٹ گئی اور ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ اب تک ۲۰؍ عقیدت مندوں کو پانی سے بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ ۲؍ خواتین کی موت واقع ہو گئی۔ ان میں سے ایک بلڈانہ کے لونار تعلقے کی پرنیلا شیش رائو راٹھور ہیں اور ایک خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ ایک اور خاتون سندھو بائی ارجن مائولے جن کا تعلق واشم ضلع کے مہاگائوں سے ہے ، ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ دیگر افراد کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس حادثے میں کچھ بچے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ حادثہ بہت سنگین ہے۔ کشتی میں تقریباً ۶۰؍ افراد سوار تھے جن میں سے ۲۰؍ کو بچا لیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔
اطلاع کے مطابق ایک مہینے کے عرصے میں اس ندی میں کشتی ڈوبنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز بھی عقیدتمندوں کی ایک کشتی الٹ گئی تھی لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا ۔ جبکہ گزشتہ ماہ ۱۹؍ مئی کو بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ماجل گائوں سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان فوت ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا یہاں سے کشتیاں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے کر دوسری طرف کیلئے روانہ ہوتی ہیں جو کہ ان مسافروں کیلئے خطرناک ہے۔