گجرات ہائی کورٹ نے۲۰۰۸ءکے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ۳۸؍ مجرموں کو دی گئی سزائے موت اور باقی۱۱؍مجرموں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا بھی برقرار رکھی۔
EPAPER
Updated: July 07, 2026, 6:03 PM IST | Ahmedabad
گجرات ہائی کورٹ نے۲۰۰۸ءکے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ۳۸؍ مجرموں کو دی گئی سزائے موت اور باقی۱۱؍مجرموں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا بھی برقرار رکھی۔
گجرات ہائی کورٹ نے منگل کو۲۰۰۸ء کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں ۴۹؍ مجرموں کی سزا برقرار رکھی۔ ان دھماکوں میں کم از کم۵۶؍ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر جے ڈیو پر مشتمل بنچ نے۳۸؍ مجرموں کو دی گئی سزائے موت اور باقی۱۱؍مجرموں کو سنائی گئی عمر قید کی سزا بھی برقرار رکھی۔ عدالت نے تمام مجرموں کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کر دیں جس سے اس طویل عرصے سے جاری مقدمے میں ایک اہم عدالتی مرحلہ مکمل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: جموں میں بادل پھٹا، سیلاب اورزمین کھسکنے سے کئی گاڑیاں ملبے میں دفن
واضح رہے کہ۲۶؍ جولائی۲۰۰۸ء کو احمد آباد میں تقریباً ۲۲؍ مقامات پر بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں ۵۶؍افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ سلسلہ وار دھماکوں کے نشانے پر آنے والے مقامات میں سول اسپتال اور ایل جی اسپتال بھی شامل تھے۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری تنظیم انڈین مجاہدین نے قبول کی تھی۔ سال ۲۰۲۲ءمیں احمد آباد کی ایک خصوصی عدالت نے اس مقدمے میں ۷۷؍ ملزمان میں سے۴۹؍ کو قصوروار قرار دیا تھا۔ ان میں سے۳۸؍ کو سزائے موت جبکہ ۱۱؍کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر۲۸؍ ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا، جبکہ ایک ملزم استغاثہ کا گواہ (سرکاری گواہ) بن گیا تھا۔