Inquilab Logo Happiest Places to Work

جموں میں بادل پھٹا، سیلاب اورزمین کھسکنے سے کئی گاڑیاں ملبے میں دفن

Updated: July 07, 2026, 2:09 PM IST | Agency | Srinagar

گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے اور راستوں کو آمد و رفت کیلئے بحال کرنےمیں امدادی ٹیمیں مصروف،اتر پردیش میں ہفتے بھر بارش کے امکانات،آدھے گھنٹے کی بارش میں الہ آباد کے کئی علاقے جل تھل۔

Rescue Workers Busy With Landslides In Jammu`s Doda District.Photo:INN
جموں کے ڈوڈہ ضلع میں زمین کھسکنے کے بعد راحتی کام میں مصروف عملہ-تصویر:آئی این این
رفتہ رفتہ اب پورے ملک میں مانسون نے زور پکڑ لیا ہے۔ اس دوران جہاں ملک کو گرمی سے نجات مل گئی ہے اور بارش کی وجہ سے فصلوں میں جان آگئی ہے، وہیں پرملک کے بعض علاقوں میں تیز بارش، آندھی اور بادل پھٹنے کے سبب  لوگوں کوکچھ پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔جموں کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں موسلا دھار بارش کے بعد اچانک آنےوالےسیلاب   اور بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے( لینڈ سلائیڈنگ) کے باعث شدید تباہی ہوئی ہے۔۵۴۰؍ میگاواٹ کے زیرِ تعمیر’کواڑ ہائیڈرو  الیکٹرک پاور پروجیکٹ‘ کے نزدیک کئی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں ۔سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے اور راستوں کو دوبارہ آمد و رفت کیلئے بحال کرنے کی خاطر امدادی ٹیموں اور بھاری مشینری کو فوری طور پر کام پر لگا دیا گیا ہے۔ بارش کی وجہ سے جھارکھنڈ کے کئی اضلاع میں الرٹ جاری کیا گیا ہے، وہیں اترپردیش میں بھی ہفتے بھر بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
 
 
کشتواڑ کے ساتھ ہی ضلع ڈوڈا کے کئی علاقوں میں بھی بادل پھٹنے اور سیلابی ریلے کے باعث عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے اور کئی مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی ضلع سے کسی جانی نقصان یا کسی شخص کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔اس تعلق سےمرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’ایکس‘ پر تفصیلات  جاری کیں۔ انہوںنے کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح جھارکھنڈ میں خلیج بنگال میں بننےوالے زبردست دباؤ کی وجہ سے سنیچر اور اتوار کی رات ہی سے بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو  پیر تک مسلسل جاری رہا۔ ریاست کے کئی حصوں میں موسلا دھار بارش ہونے سے عوامی زندگی متاثر ہوئی ہے،  حالانکہ اس کی وجہ سے موسم خوشگوار بھی ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے۶؍تا۹؍جولائی ریاست کے تمام۲۴؍ اضلاع کیلئے یلو الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران۴۰؍ سے۵۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ ساتھ ہی گرج چمک اور بجلی گرنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران۱۲؍ اضلاع میں اچھی بارش درج کی گئی جبکہ دیگر۱۲؍ اضلاع میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش ہوئی۔
اترپردیش میں بارش کاانتظار بڑی شدت سے کیا جارہا تھا۔پیر کو مانسون کی آمد ہوئی تو کئی اضلاع کا موسم سہانا ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ۷؍ دنوں تک اتر پردیش کے موسم میں سرگرمی برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ۶؍جولائی کو مشرقی اور مغربی اتر پردیش کے کچھ مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی امید ہے۔اس دوران  الہ آبادمیں پیر کی صبح سے شروع ہوئی تودرجہ حرارت میں گراوٹ بھی درج کی گئی تاہم، محض آدھے گھنٹے کی بارش میں ہی شہر کے کئی علاقوں میں پانی بھر گیا، جس سے میونسپل کارپوریشن کی تیاریوں کی پول کھلتی نظر آئی۔
 
 
اتوار کو پورے دن تیز دھوپ اور حبس کی وجہ سے لوگ بے حال رہے، لیکن پیر کی صبح موسم نے اچانک کروٹ لی۔ آسمان میں گھنے بادل چھا گئے اور شہر کے بیشتر حصوں میں تیز بارش شروع ہو گئی۔ بارش کی وجہ سے موسم خوشگوار ہو گیا، وہیں کئی اہم سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے سے ٹریفک بھی متاثر ہوا۔بارش کا اثر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مجوزہ  الہ آباد دورے کی تیاریوں پر بھی دکھائی دیا۔ تاہم بعد میں حالات کچھ بہتر ہوئے تو وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں تین بجے ’پریرنا استھل کا افتتاح عمل میں آیا۔اس کے بعد محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ بھی منعقد ہوئی۔دریں اثنامحکمہ موسمیات   نے۷؍ سے۱۲؍ جولائی کے دوران مشرقی اتر پردیش کے متعدد مقامات اور مغربی اتر پردیش کے کئی حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے جبکہ ۱۰؍ اور۱۱؍جولائی کو مشرقی اتر پردیش میں کہیں کہیں شدید سے انتہائی شدید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی مغربی اتر پردیش میں بھی کئی مقامات پر بھاری بارش کی بات کہی گئی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK