کے ڈی ایم سی انتظامیہ نے ہنگامی سروےکرکے متاثرہ عمارتوں کے مکینوں کو متنبہ کیا، جے اور ای وارڈ میں سب سےزیادہ خطرناک عمارتیں۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 12:40 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
کے ڈی ایم سی انتظامیہ نے ہنگامی سروےکرکے متاثرہ عمارتوں کے مکینوں کو متنبہ کیا، جے اور ای وارڈ میں سب سےزیادہ خطرناک عمارتیں۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی)کی جانب سے کئے گئے ایک ہنگامی سروے میں مجموعی طور پر ۷۱۶؍ عمارتوں کو غیر محفوظ پایا گیا ہے جن میں سے ۲۲۵؍ عمارتوں کو انتہائی خطرناک قرار دے کر فوری خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم ماضی کے تلخ حادثات اور جانی نقصان کے باوجود آدھے سے زیادہ مکانات کے مالکان اور کرایہ دار بلڈر مافیا کے خوف اور زمین پر اپنا حق کھو جانے کے ڈر سے گھر خالی کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جس نے مقامی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا بحران کھڑا کر دیا ہے۔
خیال رہےکہ کے ڈی ایم سی کی حدود میں ماضی کے مانسون کے دوران کئی رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں جن میں متعدد معصوم شہریوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر کارپوریشن ہر سال بارش سے قبل مخدوش عمارتوں کی فہرست جاری کرتی ہے۔ اس سال کی فہرست میں ۴۹۱؍خطرناک اور ۲۲۵ ؍انتہائی خطرناک عمارتیں شامل ہیں۔ میونسپل کمشنر ابھینو گوئل نے ہنگامی احکامات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے جانی و مالی نقصان کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی ہے کہ جو عمارتیں کسی بھی وقت گرسکتی ہیں انہیں فوری طور پر خالی کرایا جائے اور جہاں ضرورت پیش آئے وہاں پولیس فورس کا استعمال کر کے کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر، مردم شماری کی ڈیوٹی میں پائی جانے والی بد نظمیوں سے اساتذہ پریشان
رپورٹ کے مطابق ایک طرف کارپوریشن انتہائی مخدوش عمارتوں کو منہدم کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے تو دوسری طرف مردم شماری اور دیگر سرکاری ڈیوٹی میں ملازمین کی مصروفیت کے باعث اس مہم میں تسلسل برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ علاقائی افسران کے مطابق جے اورای وارڈ میں سب سے زیادہ خطرناک عمارتیں موجود ہیں۔ کے وارڈ ۲۹۱؍ انتہائی خطرناک عمارتوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ بی وارڈ میں ۳۸؍ اورجی وارڈ میں ۲۶؍ عمارتیں انتہائی مخدوش زمرہ میں آتی ہیں۔
ڈومبیولی اور گرد و نواح کے علاقوں میں زیادہ تر عمارتیں روایتی پگڑی سسٹم کے تحت آباد ہیں۔ یہاں کے مکینوں کو سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ اگر انہوں نے ایک بار عمارت خالی کر دی تو وہ اس جگہ پر اپنے قانونی حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اگرچہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے رہائشیوں کو متبادل جگہ یا بازآباد کاری کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود پس پردہ سرگرم بلڈر مافیا کی جانب سے غریب کرایہ داروں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ اپنے سر سے چھت چھن جانے اور مافیا کے ظلم کے خوف سے لوگ موت کے سائے میں رہنے پر تو مجبور ہیں لیکن جگہ خالی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انتظامیہ اب اس پیچیدہ سماجی اور قانونی گتھی کو سلجھانے کےکیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے تاکہ مانسون کے دوران کسی بڑے حادثے کو ٹالا جا سکے۔