متعدد اساتذہ کو دونوں ڈیوٹی دی گئی، انتخابی ڈیوٹی جوائن نہ کرنے والے ٹیچروںکو وجہ بتائو نوٹس جاری، اسکولی عملہ میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔اساتذہ میں خوف کی فضا بھی پیدا ہوگئی ہے۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 11:41 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
متعدد اساتذہ کو دونوں ڈیوٹی دی گئی، انتخابی ڈیوٹی جوائن نہ کرنے والے ٹیچروںکو وجہ بتائو نوٹس جاری، اسکولی عملہ میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔اساتذہ میں خوف کی فضا بھی پیدا ہوگئی ہے۔
ایس آئی آر اور مردم شماری سے متعلق اساتذہ کو دی جانے والی ڈیوٹی میں ہونےوالی بدنظمیوں سے افراتفری کا ماحول ہے جس کی وجہ سے متعدد اساتذہ کو بے وجہ شو کاز نوٹس بھی دی گئی ہے ۔واضح رہے کہ ان دنوں شہرومضافات میں ایک ساتھ ایس آئی آر اور مردم شماری کا کام جاری ہے ۔ ان دونوں کاموں کی ذمہ داری دیگر محکموں کے علاوہ اسکولی عملہ کو بھی دی گئی ہے لیکن ڈیوٹی دینے میں ہونے والی بدنظمیوں سے اساتذہ بہت پریشان ہیں ۔
بی ایم سی اسکولوں کے سیکڑوں اساتذہ کو بی ایل او اور مردم شماری کی ڈیوٹی پر مامور کیا گیاہے لیکن بے ضابطگی کی وجہ سے متعدد اساتذہ کو ایک کے بجائے دونوں ڈیوٹی دے دی گئی ہے جس کی وجہ سے اساتذہ مخمصے میں ہیں کہ وہ کونسی ڈیوٹی جوائن کریں ۔اسی دوران الیکشن کمیشن نے متعدد اساتذہ کو انتخابی کام کیلئے تعینات نہ ہونے پر نوٹس بھیجی ہے۔ اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انتخابی کام کیلئے حاضر نہ ہونے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس کی وجہ سے اساتذہ میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ متعدد اساتذہ کا کہناہے کہ ہمیں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی کام کیلئے تقرری سے متعلق کوئی خط نہیں دیا گیا ۔ اس کے علاوہ شہری انتظامیہ کی طرف سے بھی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ فی الحال ہم مردم شماری کا کام کر رہے ہیں ۔یہ کام کرتے ہوئے اچانک شوکاز نوٹس آ گیا ۔ہمارے لئے یہ سوال پیدا ہو رہاہے کہ ہم کونسی ڈیوٹی کریں ، ایس آئی آر یا مردم شماری ؟ جب اسکول کے پرنسپل سے اس بارے میں پوچھا جاتا ہے تو وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہتےہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر حکومت کا نوٹس:اولا، اوبر اور ریپیڈو کی بائیک ٹیکسی ایپس ہٹانے کا حکم
اساتذہ کی یونینوں کے مطابق ’’ الیکشن کمیشن کی جانب سے مردم شماری کے کام پر مامور اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کو وہاٹس ایپ کے ذریعے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ یہ نوٹس اساتذہ کو ۱۱؍ مئی سے وہاٹس ایپ پر بھیجے گئے ہیں ۔اس نوٹس سے اساتذہ میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔دریں اثناء یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہےکہ جن اساتذہ کو نوٹس بھیجی گئی تھی ،وہ بعدمیں واپس لے لی گئی ہے۔
مہانگر پالیکا شکشک سبھا کے ترجمان عابد شیخ نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’ بی ایم سی محکمہ تعلیم نے سبھی اسکولی عملہ کو ایس آئی آر اور مردم شماری کی ڈیوٹی دی ہے ۔ ہم ڈیوٹی کر بھی رہے ہیں لیکن جس طرح کی بدنظمی پائی جا رہی ہے ا س سےپریشانی بڑھ گئی ہے ۔ ایک ٹیچرکو اگر ایس آئی آر اور مردم شماری، دونوں ڈیوٹی دے دی جائے تو وہ ان ڈیوٹی کو ایک ساتھ کیسے انجام دے سکے گا؟ ‘‘
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ’’ بی ایم سی اسکولوں میں ۶۰؍فیصد خواتین برسرکار ہیں ،شدیدگرمی میں ان خواتین کو اس طرح کی ڈیوٹی دینا کتنا مناسب ہے؟ اس طرح کی کئی پریشانیاں ہیں جن سے اساتذہ جوجھ رہے ہیں۔‘‘