تینوں فریقوں کے وفودنے کشیدگی میں کمی کی موجودہ کوششوں کو آگے بڑھانے اور ایک پائیدار حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 3:52 PM IST | Agency | Cairo
تینوں فریقوں کے وفودنے کشیدگی میں کمی کی موجودہ کوششوں کو آگے بڑھانے اور ایک پائیدار حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
مصر کے وزیر خارجہ نے اتوار کو اپنے سوڈانی ہم منصب اور ایک اعلیٰ امریکی مشیر سے ملاقات کرکے سوڈان میں جاری جنگ کے خاتمے اور سلامتی و استحکام کی بحالی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ مصر کی وزارت خارجہ نے یہ اطلاع دی۔وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے سوڈان کے وزیر خارجہ محی الدین سالم اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عرب و افریقی امور کیلئے اعلیٰ مشیر مسعد بولوس کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کئے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور پائیدار سیاسی تصفیے کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔تینوں حکام نے کشیدگی میں کمی کی موجودہ کوششوں کو آگے بڑھانے اور ایک پائیدار حل کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جو سوڈانی عوام کی امنگوں کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ سوڈان کے قومی مفادات کا بھی تحفظ کرے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور ممدانی کی اختلافات کے باوجود خوشگوار ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
عبدالعاطی نے سوڈان کے اتحاد، خودمختاری، علاقائی سالمیت، قدرتی وسائل اور ریاستی اداروں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں میں مزید اضافے پر بھی زور دیا۔
عبدالعاطی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سالم اور بولوس کے ساتھ ملاقات کو تعمیری قرار دیا۔یہ مذاکرات سوڈان میں ایک بار پھر لڑائی میں شدت آنے کے درمیان ہوئے ہیں۔ اتوار کے اوائل میں سوڈانی مسلح افواج نے کہا تھا کہ انہوں نے جنوب مشرقی ریاست نیل ازرق کے دو علاقوں میں نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسیز (آر ایس ایف) اور اس کی اتحادی سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کے حملے کو پسپا کر دیا ہے۔سوڈان میں اپریل۲۰۲۳ء سے جنگ جاری ہے، جب فوج اور آر ایس ایف کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تھی۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس تنازع میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ۳۰؍ لاکھ افراد سوڈان کے اندر اور بیرون ملک بے گھر ہو چکے ہیں۔