Updated: July 29, 2026, 9:39 PM IST
| Mumbai
ملک میں ویلتھ کریٹرز شخصیات اور گھرانوں میں، ویلتھ مینجمنٹ کمپنی ۳۶۰؍ ون کی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت ملک میں گوتم اڈانی اور خاندان۹۰۸۱۷۸؍ کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ پہلے مقام پر، مکیش دھیرو بھائی امبانی اور ان کا خاندان۸۹۳۶۲۲؍ کروڑ روپے کی جائیداد کے ساتھ دوسرے اور سنیل بھارتی متل اور ان کا خاندان ۴۹۶۷۸۶؍ کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ تیسرے مقام پر ہے۔
امبانی اور اڈانی۔ تصویر:آئی این این
ملک میں ویلتھ کریئیٹرز شخصیات اور گھرانوں میں، ویلتھ مینجمنٹ کمپنی ۳۶۰؍ ون کی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت ملک میں گوتم اڈانی اور خاندان ۹۰۸۱۷۸؍ کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ پہلے مقام پر، مکیش دھیرو بھائی امبانی اور ان کا خاندان ۸۹۳۶۲۲؍ کروڑ روپے کی جائیداد کے ساتھ دوسرے اور سنیل بھارتی متل اور ان کا خاندان ۴۹۶۷۸۶؍ کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ تیسرے مقام پر ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گوکیش جنیوا میں اپنے عالمی خطاب کا دفاع کریں گے
فرم کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ رپورٹ’’ ۳۶۰؍ون ویلتھ کریئیٹرز لسٹ۲۰۲۶ء‘‘ میں ایسے ۳۰۴۰؍افراد کو شامل کیا گیا ہے، جن کی کل جائیداد ۱۰۴؍ لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اس فہرست میں ۴۲۵؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کے اثاثے رکھنے والوں کو جگہ دی گئی ہے اور اسے ملک میں دولت پیدا کرنے والے افراد کی اب تک کی سب سے جامع نقشہ سازی قرار دیا گیا ہے۔
فرم ۳۶۰؍ون ۷۶ء۷؍ لاکھ کروڑ روپے (۸۲؍ ارب ڈالر سے زائد) کے اثاثوں کامینجمنٹ کرتی ہے۔ ۳۶۰؍ون نے کرسل انٹیلی جنس کے تعاون سے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ کمپنی کی ایک پریس ریلیز میں اس تحقیقی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سرفہرست ۱۰۰؍ کاروباری خاندانوں کی کل جائیداد ۵ء۷۶؍ لاکھ کروڑ روپے ہے۔ فہرست میں شامل سرفہرست ۱۰؍ خاندان کل جائیداد پر ۴۹؍ فیصد کنٹرول کرتے ہیں۔ امبانی خاندان کے وارث-اننت امبانی- ایشاامبانی اور آکاش امبانی - مسلسل سرفہرست تین مقامات پر برقرار ہیں۔ تینوں کی ذاتی جائیداد ۷۵ء۲؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اٹلی: پیپ سمر کیمپ، گارڈیالا نے ۳۰؍ فلسطینی بچوں کا خیرمقدم کیا
ممبئی ہندوستان کی دولت کا دارالحکومت بناہوا ہے۔ یہاں ۸۰۲؍ دولت پیدا کرنے والے افراد موجود ہیں، جو فہرست کی کل جائیداد کا ۴ء۳۸؍ فیصد کنٹرول کرتے ہیں۔ صنعتی گروپس سب سے بڑے شعبے کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس شعبے کے ۳۰؍ افراد کے پاس کل جائیداد کا ۶ء۱۴؍ فیصد حصہ ہے اور فی کس اوسط جائیداد تقریباً ۵۰؍ہزار کروڑ روپے ہے۔ فارماسیوٹیکلز کے شعبے کے ۲۷۳؍ افراد کے پاس ۳ء۱۱؍ فیصد جائیداد ہے۔ فہرست میں مالیاتی خدمات (فنانشل سروسیز) کے ۲۹۱؍ افراد کے پاس ۹ء۷؍ فیصد جائیداد پائی گئی ہے۔ جہاں روایتی شعبوں کا کل جائیداد میں ۸۳؍ فیصد حصہ ہے، وہیں نئے شعبوں کا حصہ ۵ء۱۵؍ فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو ہندوستان کی نئی معیشت کے مسلسل پھیلاؤ کا اشارہ دیتا ہے۔