یہ تنظیم ہر میدان میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 11:07 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
یہ تنظیم ہر میدان میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔
آل انڈیا سنّی جمعیۃ العلماء کے قیام کا یہ ۶۸؍ واں سال ہے۔ ۱۹۵۸ء میں اس کی داغ بیل ڈالی گئی تھی، تب سےاب تک علماء کے اس پلیٹ فارم سے دینی، ملی، سماجی اور فلاحی خدمات انجام دی جارہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں،قیام کے بعد سے سنی جمعیۃ العلماء نے اپنی خدمات کادائرہ وسیع کیا ہے۔ اپنے دَور کے موقرعلماء نے مسند ِصدارت پر جلوہ افروزرہ کراسے وقار بخشا ہے۔
اس کے قیام کا بنیادی مقصد صرف ایک جماعتی ڈھانچہ قائم کرنا نہیں تھا بلکہ علماء و مشائخ کی رہنمائی میں اہلِ سنت کے دینی تشخص، مذہبی حقوق، ملی مفادات اور اجتماعی مسائل کے لئے جدوجہد کرنا بھی تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یہاں کی کئی مساجد ایک صدی سے زائدعرصہ پرانی ہیں
سید العلما مولانا سید آل مصطفےٰکی صدارت میں آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء قائم کی گئی تھی۔ سرپرستی مفتیٔ اعظم ہند مولانا مصطفےٰ رضاؒ، محدث اعظم سید محمد میاںؒ کچھوچھوی، برہانِ ملت مولانا برہان الحقؒ جبل پوری اور دیگر اکابر علما نے فرمائی۔ اشرف العلماء مولانا سید حامد اشرف (ممبئی) عہدہ ٔ صدارت پرفائز ہوئے۔ تاج الشریعہ مولانا اختر رضا خان ازہری نے مولانا منصور علی خان قادری کو جنرل سیکریٹری نامزد کیا۔ مولانا تا حیات اس عہدہ پر فائز رہےجبکہ سید وجودالقادری تا حیات نائب صدر رہے۔
مولانا منصور علی خان کے انتقال کے بعد مولانا مقصودعلی خان نوری جنرل سیکریٹری کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ سیدالعلماء کے انتقال کے بعد علامہ مشتاق احمد نظامی، ان کے بعد تاج الشریعہ اس تنظیم کے صدر مقرر ہوئے۔ دریں اثناء کچھ دنوں کیلئے مولانا مظفر حسین کچھوچھوی نے بھی جنرل سیکریٹری کی ذمہ داری ادا کی۔ مجاہد آزادی نصرت اللہ عباسی اورعاصم اشرفی آفس انچارج کی حیثیت سے وابستہ رہے۔
تاج الشریعہ کے انتقال کے بعد علما ء نے اتفاق رائے سے تقریباً ۵؍ سال قبل مولانا الحاج سید معین الدین اشرف عرف معین میاں (سجادہ نشین خانقاہ عالیہ کچھوچھہ مقدسہ ) کو آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کا صدر منتخب کیا جبکہ نائب صدر بانی ٔرضا اکیڈمی الحاج محمد سعید نوری کو بنایاگیا۔ اس کے علاوہ مفتی زبیر احمد برکاتی، مولانا فریدالزماں، مولانا امان اللہ رضا، مولانا خلیل الرحمٰن نوری، قاری نیاز احمدقادری، مولانا محمدابراہیم آسی اوربرکات بھائی کو تنظیم کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے:مومن پورہ اُردوہائی اسکول کا قیام ۱۹۱۵ء میں عمل میں آیا تھا
سنّی جمعیۃ العلماء کے قیام سے اب تک اسی تنظیم کے زیر اہتمام جلوس غوثیہ نکالا جارہا ہے جس کی سر پرستی مجاہد ملت، محبوبِ ملت اور برہانِ ملت نے فرمائی۔
معین میاں اور محمد سعید نوری کے باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سنی جمعیۃ العلماء کی خدمات کو مزید توسیع دینے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں ایک قابلِ ذکر مثال وقف ترمیمی قانون ۲۰۲۴ءکے سلسلے میں اس تنظیم کی شرکت ہے۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے ۳۰؍ اگست ۲۰۲۴ء کو آل انڈیا سنی جمعیۃالعلماء سمیت مختلف مسلم تنظیموں اور ماہرین سے اس موضوع پر رائے لی۔ وقف سے متعلق قانون سازی پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور دیگر مسلم تنظیموں نے اپنے اعتراضات اور تجاویز پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کئے۔ اس طرح آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کا دائرۂ کار صرف مذہبی معاملات تک محدود نہیں ہے بلکہ مسلمانوں میں اجتماعی اور سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش بھی اس کی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کیلئے موجودہ دور میں ایک اہم شعبہ یہ بھی ہے کہ علماء، ائمہ، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ اتحادِامت کے حوالے سے موجودہ دَور میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت باہمی اتحاد، تحمل اور مشاورت ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے ۱۰۰؍ ائمہ کو ہر ماہ راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ اتنا سب ہونے کے باوجود یہ تنظیم اپنی خدمات کا دائرہ وسیع تر کرنے کیلئے کوشاں ہے۔