• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چند کارخانوں سے ابتداء مگر اب بیگ کا بڑا بازار ہے!

Updated: September 10, 2026, 11:10 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

جی ہاں، پہلے مدنپورہ میں بیگ بنانے کے محض چند کارخانے تھے لیکن ۸۰ء کی دہائی میں یہاں بیگ کی پہلی دکان کھلی اور اب پوری مارکیٹ ہے۔

Muhammad Farooq Ansari in his shop. Photo: INN
محمد فاروق انصاری اپنی دکان میں۔ تصویر: آئی این این

 مدنپورہ ہمیشہ کسی نہ کسی صنعت کیلئے مشہور رہا ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ یہاں کے کاروبار بدلتے رہے ہیں لیکن ہر دور میں یہ علاقہ ہزاروں گھرانوں کے روزگار کا ذریعہ بنا رہا اور تبدیلوں کو قبول کرتے ہوئے آج یہ بیگ کا ایک بڑا تھوک بازار بن چکا ہے۔ اگرچہ بیگ سازی کے چھوٹے موٹے کارخانے یہاں ۶۰ء کی دہائی میں بھی موجود تھے لیکن اُس وقت بیگ فروخت ہونے کا سب سے بڑا بازار عبد الرحمٰن اسٹریٹ ہوا کرتا تھا جو اب بھی اپنا غلبہ برقرار رکھے ہوئے ہے مگر ۸۰ء کی دہائی میں مدنپورہ میں بیگ کی پہلی دکان کھلی جو اس شعبے میں بڑے کاروبار کا حرف آغاز ثابت ہوئی۔  

یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ بیگ انڈسٹری کا آغاز کب اور کس نے کیا۔ ۸۰ء کی دہائی میں مچھلی شہر جونپور سے روزگار کی تلاش میں نقلِ مکانی کرکے آنے والے کچھ انصاری براداران نے مدنپورہ میں عمر رجب روڈ، متصل پہلی گھیلا بائی اسٹریٹ کے ناکہ پر واقع پاکیزہ ہوٹل کے پاس اپسرا پلاسٹکس کے نام سے بیگ کی دکان کھلی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: آل انڈیا سنی جمعیۃ العلما ءکا ۶۸؍ سالہ سفر

چند دہائیوں کے سفر میں ایک دکان سے ایک انڈسٹری بن گئی جس نے نہ صرف اس علاقہ بلکہ شہر ممبئی اور مہاراشٹرا کی صنعتی ترقی میں نمایاں کردار نبھایا اور اب تو یہ انڈسٹری گلی کوچوں اور محلوں کی چھوٹی موٹی دکانوں سے نکل کر اس قدر وسیع ہو چکی ہے کہ اسے بین الاقوامی طور پر پہچانا جاتا ہے۔ 

۹؍ برس کی عمر میں مچھلی شہر سے روزگار کی تلاش میں اپنے ماموں کے ساتھ ممبئی آنے والے محمد فاروق، جن کی عمر اب ۷۵؍ سال ہے، نے ۶۰ء کی دہائی میں مدنپورہ کے مختلف کارخانوں سے وابستگی کے دوران اس کام میں مہارت حاصل کی اور اب مدنپورہ میں اسٹار بیگ نام سے ان کی خود کی دکان ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے بچپن میں مدنپورہ میں شیرین چال اور دگڑ چال جیسی چند جگہوں پر بیگ اور صرف چمڑے کے پرس بنتے تھے۔ اس دور میں پرس انگریز یا امیر افراد ہی استعمال کرتے تھے اس لئے یہ بہت بڑی صنعت نہیں تھی۔ اب اس کا استعمال عام ہوجانے کے سبب اس انڈسٹری کو بہت ترقی ملی ہے۔ 

محمد فاروق صاحب کے مطابق امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ سے جو حالات پیدا ہوئے ہیں اور پٹرول مہنگا ہوا ہے اس سے فوم اور دیگر اشیاء مہنگی ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے بیگ بنانے کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ بی ایم سی کے ذریعہ فٹ پاتھ پر خوانچے اور اسٹال بند کروادئیے جانے کی وجہ سے بیگ کا کاروبار کافی  متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے اس ستم ظریفی کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ہندوستان میں جو مال بنتا ہے وہ فٹ پاتھ، اسٹال اور باکڑوں پر فروخت ہوتا ہے مگر جو بیگ چین سے آتا ہے وہ بڑی دکانوں پر فروخت ہوتا ہے، اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ اس لائن میں اب بھی روزگار کیلئے اتنی گنجائش ہے کہ موجودہ تاجر اپنی آنے والی نسل کو اس کاروبار میں شریک کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ 

یہ بھی پڑھئے:یہاں کی کئی مساجد ایک صدی سے زائدعرصہ پرانی ہیں

صدرالحسن منصوری عرف حسن بھائی کا تعلق یوپی میں بستی سے ہے۔ وہ ۱۹۷۳ء سے عبد الرحمٰن اسٹریٹ پر مختلف دکانوں میں تقریباً ۲۰؍ برس تک ملازمت کرتے رہے اور بالآخر مدنپورہ میں ۱۹۹۳ء میں ذاتی دکان کھول لی جو گھیلابائی اسٹریٹ میں ٹاپ برانڈس نامی اسٹور کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق پہلے یہاں محض چند کارخانے تھے۔ کارخانہ دار یہاں بنائے گئے پرس وغیرہ کے نمونے عبد الرحمٰن اسٹریٹ لے جاتے تھے۔ وہاں کے تاجر انہیں خرید کر اپنے طور پر فروخت کرتے تھے۔ اگرچہ اب بھی عبد الرحمٰن اسٹریٹ عالمی سطح کی مارکیٹ ہے مگر مدنپورہ میں بھی خریدار آتے ہیں۔ اس طرح یہاں بھی تھوک کے حساب سے بیگ فروخت ہوتے ہیں۔ حسن بھائی بتاتے ہیں کہ چین میں جس قیمت میں جس معیار کے بیگ بنتے ہیں وہ ہمارے یہاں کم از کم آج کی تاریخ میں نہیں بن سکتے لیکن ہمارے یہاں بھی بڑے پیمانے پر پرس اور بیگ بنتے ہیں جس کا اپنا بازار ہے لیکن عام طور پر وہ ہندوستان میں ہی فروخت ہوتے ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK