Updated: May 06, 2026, 10:11 PM IST
| Vatican City
پوپ لیو نے کبھی بھی عوامی سطح پر ایران کے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے حق کی حمایت نہیں کی۔ اپنی گزشتہ تقاریر میں، پوپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بارہا سفارت کاری اور تناؤ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ۱۲ اپریل کو سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں خطاب کے دوران انہوں نے عالمی لیڈران پر زور دیا تھا کہ وہ فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کا انتخاب کریں۔
پوپ لیو چہار دہم اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس
پوپ لیو چہار دہم نے ایران تنازع پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تنقید کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بار بار دہرائے جانے والے دعوے کو مسترد کر دیا کہ پوپ ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
ویٹیکن میں ایک عوامی خطاب کے دوران، پوپ نے ٹرمپ کا براہِ راست نام لئے بغیر اپنے موقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر کوئی انجیل کی تبلیغ کرنے پر مجھ پر تنقید کرنا چاہتا ہے، تو وہ سچائی کے ساتھ ایسا کرے۔ چرچ کا مشن انجیل کی تبلیغ کرنا اور امن کی تبلیغ کرنا ہے۔“ پوپ نے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف کیتھولک چرچ کی دیرینہ مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ”چرچ برسوں سے تمام ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف آواز اٹھاتا رہا ہے، اس لئے اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔“
یہ بھی پڑھئے: ۳۰ سے زائد ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیل کے جوہری پروگرام کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا
ٹرمپ کی پوپ پر حالیہ تنقید
ٹرمپ نے پیر کو `سلیم نیوز چینل‘ کے میزبان ہیو ہیوٹ کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران پوپ پر لگائے گئے اپنے الزام کو دہرایا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ”کیا پوپ اس حقیقت کے بارے میں بات کرنا پسند کریں گے کہ ایران کیلئے ایٹمی ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے۔۔۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ بہت اچھا ہے۔ میرے خیال میں وہ بہت سے کیتھولک اور بہت سے لوگوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔“
واضح رہے کہ ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں کئی بار اسی طرح کے دعوے کرچکے ہیں، حالانکہ پوپ لیو نے کبھی بھی عوامی سطح پر ایران کے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے حق کی حمایت نہیں کی۔ اپنی گزشتہ تقاریر میں، پوپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بارہا سفارت کاری اور تناؤ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ۱۲ اپریل کو سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں خطاب کے دوران انہوں نے عالمی لیڈران پر زور دیا تھا کہ وہ فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کا انتخاب کریں۔ پوپ نے اس موقع پر کہا تھا کہ ”یہ امن کا وقت ہے۔ مذاکرات اور ثالثی کی میز پر بیٹھیں، اس میز پر نہیں جہاں دوبارہ مسلح ہونے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور مہلک اقدامات کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: روبیو کا ’’ ایپک فیوری ‘‘ ختم ہونے کا اعلان، قانون ساز کا انٹیلی جنس بریفنگ کا مطالبہ
مارکو روبیو کا ویٹیکن دورہ
ٹرمپ اور پوپ کے درمیان تازہ لفظی جنگ امریکی اسٹیٹ سیکریٹری مارکو روبیو کے رواں ہفتے کے آخر میں ویٹیکن کے طے شدہ دورے سے عین قبل سامنے آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، روبیو جمعرات کی صبح روم میں پوپ لیو سے ملاقات کریں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ ان کی بات چیت کا محور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور مغربی نصف کرہ کے وسیع تر جغرافیائی و سیاسی مسائل ہوں گے۔