• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راکھینے پر فضائی حملے میں۵۰؍افرادہلاک

Updated: October 01, 2026, 3:37 PM IST | Agency | New York

میانمار کی فوج کے حملے کے وقت بازار اور اس کے اطراف میں دکانداروں اور خریداروں کا ہجوم تھا ،اقوام متحدہ نے شدید مذمت کی۔

A scene following an airstrike by government forces in Myanmar`s Rakhine State. Photo: INN
میانمار کی ریاست راکھینے میں سرکاری فوج کے فضائی حملے کے بعد کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

میانمار کی ریاست راکھینے کے ایک بازار پر فضائی حملے کے نتیجے میں ۵۰؍ افراد ہلاک ہوگئے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نےاس کی سخت مذمت کی ہے۔  سرکاری فوج کے اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم ۵۰؍ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج نے پیر کی دوپہر کیاوک تاؤ ٹاؤن شپ کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم۵۸؍ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ حملے کے وقت بازار اور اس کے اطراف میں  دکانداروں اور خریداروں کا ہجوم تھا۔ اس بازار میں مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کی۲۰۰؍ سے زیادہ دکانیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ضمانت یا مجرمانہ مقدمات کی سماعت میں جج اپنے ذاتی اخلاقی نظریات مسلط نہ کریں: سپریم کورٹ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ اس حملے سے عسکری کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری سے متعلق سنگین خدشات نے جنم لیا ہے۔ عالمی قانون کے تحت جنگی فریقین کے لئے ضروری ہے کہ وہ امتیاز، تناسب اور حملے کے دوران ضروری احتیاط کے اصولوں کی پابندی کریں۔ان کا کہنا ہے کہ ایسے حملے ملک میں شہریوں کو درپیش انتہائی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ملک میںغیر قانونی گرفتاریوں، تشدد، جنسی اور صنفی بنیاد پر مظالم، جبری گمشدگیوں، جبری مشقت اور جنگی مقاصد کے لئے جبری بھرتیوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ان کارروائیوں سے روہنگیا برادری بری طرح متاثر ہو رہی ہے جن میں میانمار کی فوج کے علاوہ اراکان آرمی بھی ملوث ہے جس کا راکھینے کے بڑے حصے پر قبضہ ہے۔کیاوک تاؤ میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب ملائیشیا نے میانمار کے تقریباً۵؍ ہزار شہریوں کو ملک بدر کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا۔ ہائی کمشنر نے ملائیشیا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس عمل کو فوری طور پر روک دیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’سرکاری ملازمین کی تقرری کیلئے ہونیوالے امتحانات کے طریق کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے‘‘

وولکر ترک زور دیتے آئے ہیں کہ موجودہ سنگین صورتحال کے پیش نظر کسی بھی فرد کو میانمار واپس نہ بھیجا جائے جہاں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں جاری ہیں اور بہت سےافراد کو واپسی پر دوبارہ اسی نوعیت کے تشدد کا حقیقی خطرہ درپیش ہے۔ پناہ گزینوں کی جبری واپسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتی ہے۔ ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ اس بارے میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ واپس جانے والے بہت سےافراد کو خطرناک حالات کا سامنا ہوگا۔ 

راکھینے روہنگیا مسلمانوں کا مسکن
ریاست راکھینے بنیادی طور پر روہنگیا برادری کا مسکن ہے جو ایک مسلم اکثریتی گروہ ہے اور اسے میانمار کی فوجی حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر مخالف گروپوں کی طرف سے بھی ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو اس بدھ مت اکثریتی جنوب مشرقی ایشیائی ملک سے باہر نکلنے پر مجبور کیا گیا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK