شہرومضافات کے الگ الگ مقامات پر کبھی سفید اور کبھی گلابی کپڑوں میں طلبہ نے ’واک فار ویمن ‘ کا اہتمام کیا۔ تحفظ کیلئے قوانین کو بہتر بنانے کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 4:08 PM IST | Owais Siddiqui | Mumbai
شہرومضافات کے الگ الگ مقامات پر کبھی سفید اور کبھی گلابی کپڑوں میں طلبہ نے ’واک فار ویمن ‘ کا اہتمام کیا۔ تحفظ کیلئے قوانین کو بہتر بنانے کا مطالبہ۔
حال ہی میں طالبات کے خلاف جنسی ہراسانی اور آبروریزی کے مختلف واقعات کے سبب ممبئی کے کئی علاقوں میں ’واک فار ویمن‘ کے نام سے علامتی احتجاج کیا گیا جو مختلف علاقوں میں لگاتار روزانہ جاری ہے۔ متعد د کالجوں اور طلبہ تنظیموں سےوابستہ طلبہ اس احتجاج میں شامل ہورہے ہیں ۔ یہ احتجاج ’وائے لوئٹر کیمپین ‘ کے ذریعے منعقد کیا گیا جس میں شریک طلبہ کا کہناہے کہ حکومت قوانین تو بناتی ہے لیکن اس کے باوجود آبروریزی اورجنسی ہراسانی کے معاملات کم نہیں ہو رہے ہیں۔ طلبہ کے مطابق حکومت عوامی مقامات کو طالبات کیلئے محفوظ بنانے کے بجائے اس مسئلے کے حل کے طور پر طالبات اور خواتین پر ہی پابندی لگا رہی ہے جو حکومت کی ناکامی ہے۔
اس ضمن میں’وائے لوئٹرکیمپن‘ کی بانی نیہا سنگھ نے انقلاب کو بتایا کہ یہ مہم دراصل ۱۲؍ سال پہلے شروع کی گئی تھی جس کا مقصد بالخصوص خواتین کی آبروریزی کے معاملات اور جرائم کے خلاف آواز بلند کرنا اور حکومت سے قوانین اور عوامی جگہوں کو خواتین کیلئے محفوظ بنانے کا مطالبہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ’واک فار ویمن ‘ بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔اس کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم ان تمام خواتین و طالبات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جنہیں حال فی الحال میں آبروریزی یا کسی طرح کی جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ انہوں نے با لخصو ص دہلی اور بہار میں ہوئے حالیہ واقعات کا بھی تذکرہ کیا۔ دوسری طرف اس احتجاج میں شامل ہونے والی ممبئی یونیورسٹی کی ایک طالبہ پرگیہ نے اس نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک علامتی احتجاج ہے جہاں ہم ایک طرف ان طالبات کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں جنہیں حال ہی میں دہلی اور بہار میںجنسی ہراسانی اورآبروریزی کا شکار بنایا گیا تو دوسری جانب حکومت سے مطالبہ بھی ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کیلئے طالبات اور خواتین پر پابندی نہ لگائیں بلکہ عوامی مقامات کے ماحول کو خواتین کیلئے محفوظ بنائےاور قوانین سخت کرے۔ انہوںنے دہلی میں ۱۷؍ سالہ طالبہ کی آبروریزی کے پس منظر میں کہا کہ دہلی حکومت نے دیر شام لڑکیوں کےپبلک پارکوں میں جانے پر پابندی لگا دی ہے ۔ اس کے بجائے ہونا یہ چاہئےکہ حکومت پارکوں کو طالبات کیلئے محفوظ بنانے کی کوشش کرے تاکہ طالبات کو پارکوں میں یا ایسی کوئی بھی عوامی جگہ جانے میں ڈر نہ محسوس ہو۔
یہ بھی پڑھئے:چمبور: جھوپڑپٹی کی باز آباد کاری کا منصوبہ۲۰؍ سال سے تعطل کا شکار
واضح رہے کہ یہ ’واک فار ویمن‘ کیلئے طلبہ کبھی سفید کبھی گلابی اور اسی طرح الگ الگ رنگوں کا انتخاب کرتےہیں اور وہی رنگوں کے کپڑے پہن کر اس احتجاج میں شامل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج ۲۶؍ ستمبر سے روزانہ ممبئی کے مختلف مقامات پرجاری ہے جن میں اندھیری اسٹیشن سے لے کر ورسووامیٹرو اسٹیشن تک، چرچ گیٹ سے چرنی روڈ تک، گھاٹکوپر سے تلک نگر تک اور دادر سے باندرہ اسٹیشن تک، بیلاپور، چمبور، بوریولی اور مرین ڈرائیووغیرہ علاقے بھی اس میں شامل ہیں۔
ان کے علاوہ ناگپور، حیدرآباد، دہلی ، بنگلور، آگرہ، احمدآباد، جےپور جیسے ملک بھر کے کئی شہروں میں بھی ’وائے لوئٹرکیمپین ‘کے تحت اس طرح کےاحتجاج کا انعقاد کیا جارہاہے۔ان علامتی احتجاجوں میں طلبہ کے ہاتھوں میں بینرس اور پوسٹرس موجود ہوتے ہیں جن پر خواتین کے تحفظ ، جنسی ہراسانی کرنے والے ملزموں کے خلاف مطالبات سے متعلق نعرے تحریر ہوتے ہیں۔