ہائی کورٹ حکومت اور متعلقہ محکمہ پر برہم کہا: جھوپڑ پٹی بازآبادکاری پالیسی کا بنیادی مقصد مکینوں کو بروقت رہائش فراہم کرنا ہے نہ کہ سرکاری زمین پر نجی تجارتی مفادات کی تکمیل۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 3:55 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
ہائی کورٹ حکومت اور متعلقہ محکمہ پر برہم کہا: جھوپڑ پٹی بازآبادکاری پالیسی کا بنیادی مقصد مکینوں کو بروقت رہائش فراہم کرنا ہے نہ کہ سرکاری زمین پر نجی تجارتی مفادات کی تکمیل۔
چمبور بی ایم سی( ایم ایسٹ وراڈ) گاؤٹھن علاقے کی ۶۶؍ ہزار اسکوائر میٹر پر مشتمل اراضی پرواقع جھوپڑپٹی کے مکینوں کو ایس آر اے پروجیکٹ کے تحت نئے سرے سے آباد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ۲۰؍سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود نہ صرف مکین بلکہ بلڈر و ڈیولپرس بھی حکومت اور ایس آر اے کی لاپروائی کے سبب اس پروجیکٹ کو شروع کرنے میں ناکام ہیں۔ مذکورہ معاملہ میں چمبور کے مکینوں اور بلڈر و ڈیولپروں نے ڈیولپمنٹ سے متعلق پیچیدگیوں کا ذکر کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت داخل کی ہے۔ اس پر کورٹ نے ۲۰؍ سال کا طویل عرصہ گزجانے اور اب تک ایک اینٹ بھی نہ رکھے جانے پر انتہائی حیرانی اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔
چمبور کے مذکورہ علاقے کی کچی آبادی کے مکینوں کا الزام ہے کہ تجارتی مفاد کے لئے کبھی مکینوں کو مہرہ بنا کر ان سے سودا کرنے اور مکان سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی ایک پھر دوسرے اور پھر تیسرے بلڈر سے ایس آر اے کے تحت ڈیولپمنٹ کا لالی پاپ دیا جاتا ہے لیکن گزشتہ ۲۰؍ سال سے اب تک مکینوں کو صرف اور صرف بیوقوف بنایا جارہا ہے ۔ وہیں مذکورہ ۶۶؍ ہزار مربع میٹراراضی کی باز آباد کاری کے لئے کئی ڈیولپرس کو مدعو کئے جانے اور وہاںکے مکینوں سے رضا مندی نہ ملنے یا پروجیکٹ پر مالی سمجھوتہ نہ ہونے کا الزام لگایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میراروڈ: دھوکہ بازی کیس میں بلڈر گرفتار، ساتھی فرار
مذکورہ اراضی پر ایس آر اے کے تحت پروجیکٹ شروع نہ کئے جانے پر بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے نے انتہائی حیرت اور ساتھ ہی سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ کورٹ نے کہا کہ ’’ گزشتہ ۲۰؍ سال سے مذکورہ پروجیکٹ کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا اور اب تک اس کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی ہے جو حکومت اور متعلقہ محکموں کی بے حسی اور تساہلی کو واضح کرتی ہے ۔‘‘کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ’’حکومت اور متعلقہ محکموں کی اسی بے حسی کے سبب شہر میں کئی سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ ہورہا ہے ۔ یہ کہا جائے کہ ان زمینوں کو قبضہ کی زد میں آنے دیا جاتا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جب ایسی اراضی پر قبضہ ہو جاتا ہے تو ریاستی حکومت یا اس سے متعلق ادارے محض خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور سرکاری زمین پر تجارتی سودے بازی ہونے دیتے ہیںیا پھر ان زمینوں کو ڈیولپرس کے فائدہ کیلئے شہریوں کا نقصان کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:چیتا کیمپ میں ’ایکمیوز آئی ٹی آئی‘ کی جانب سے روزگار میلے کا انعقاد
’’ریاستی حکومت کو خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے‘‘
عدالت نے کہا کہ جب معاملہ عوامی ملکیت کا ہو تو ریاستی حکومت کو خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے بلکہ آگے بڑھ کر بازآبادکاری کے عمل کوعوامی مفاد کے تحت پورا کرنا چاہئے ،نہ کہ پروجیکٹ کو نجی ڈیولپروں کی مرضی اور تجارتی سودے بازی کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا چاہئے ۔کورٹ نے یہ بھی کہا کہ متعدد جھوپڑا مکینوں کی سوسائٹیوں کے آپسی تضادات کے علاوہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والے نجی ڈیولپروں کے درمیان مسلسل قانونی تنازعات کے باعث یہ منصوبہ مکمل طور پر تعطل کا شکار ہورہا ہے۔
دو رکنی بنچ نے حکومت اور متعلقہ محکمہ کو مذکورہ مسئلہ کو فوری طور پر حل کرنے اور پروجیکٹ کو شروع کرنے سے متعلق ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے اور اس ضمن میں تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کو ملتوی کر دیا ہے۔