Updated: April 14, 2026, 2:21 PM IST
| Mumbai
سموسہ، جو آج دنیا بھر میں ایک مقبول اسٹریٹ فوڈ کے طور پر جانا جاتا ہے، دراصل ایک شاہی پکوان کے طور پر شروع ہوا تھا۔ ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ۵۰۰؍ سال پرانی ترکیب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس کی ابتدا ایران میں ہوئی تھی۔ معروف کتاب ’’نعمت نامہ‘‘ میں درج اس ترکیب میں موجودہ سموسے سے مختلف اجزاء استعمال کیے گئے تھے، جس نے اس پکوان کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو دوبارہ موضوع بحث بنا دیا ہے۔
سموسہ، جو آج دنیا بھر میں ایک مقبول اسٹریٹ فوڈ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اپنی موجودہ سادہ شکل تک پہنچنے سے پہلے ایک طویل تاریخی سفر سے گزرا ہے۔ حال ہی میں ایکس پر شیئر کئے گئے ایک پوسٹ نے اس پکوان کی قدیم جڑوں کو دوبارہ سامنے لایا ہے، جس میں تقریباً ۵۰۰؍ سال پرانی ایک ترکیب کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پوسٹ کے مطابق سموسے کی ابتدائی شکل ایک شاہی پکوان تھی، جس کا تعلق ایرانی اثرات سے جڑی درباری روایات سے تھا۔ اس تاریخی ترکیب کا ذکر نعمت نامہ میں ملتا ہے، جو ۱۵۰۱ء سے ۱۵۱۰ء کے درمیان وسطی ہندوستان کے شہر مانڈو میں ایک سلطان کے دربار کے لیے تیار کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ مخطوطہ بعد کے ادوار میں مختلف حکمرانوں کے زیر استعمال رہا، جن میں مغل بادشاہ اکبر اور سلطان ٹیپو سلطان شامل تھے، اور بالآخر یہ برطانوی دور میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس پہنچا، جہاں سے اسے بعد میں محفوظ کر لیا گیا۔ اس قدیم ترکیب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ آج کے سموسے سے خاصی مختلف تھی۔ موجودہ دور کے برعکس، جس میں عام طور پر آلو اور مسالہ بھرا جاتا ہے، اس قدیم نسخے میں بھنے ہوئے بینگن کا گودا، خشک ادرک، پیاز اور لہسن کے ساتھ پکا ہوا گوشت شامل کیا جاتا تھا، جسے بعد ازاں گھی میں تل کر پیش کیا جاتا تھا۔ اس دور میں نہ تو مرچوں کا استعمال رائج تھا اور نہ ہی آلو برصغیر میں متعارف ہوئے تھے، جس کے باعث اس پکوان کا ذائقہ اور ساخت موجودہ سموسے سے مختلف تھی۔ اس طرح یہ ایک بھرپور اور تہہ دار ڈش تھی، جو ایک سادہ ناشتے کے بجائے ایک شاہی ضیافت کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ جب نئے اجزاء متعارف ہوئے اور کھانے کی روایات میں تبدیلی آئی تو سموسہ بھی درباری کچن سے نکل کر عام لوگوں تک پہنچ گیا۔ یوں یہ ایک مہنگے اور مخصوص پکوان سے تبدیل ہو کر ایک سستا اور آسانی سے دستیاب اسٹریٹ فوڈ بن گیا، جو مقامی ذوق کے مطابق ڈھلتا چلا گیا۔ سوشل میڈیا پر اس تاریخی انکشاف کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ کھانے صرف ذائقے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کا تعلق تاریخ اور تہذیب سے بھی گہرا ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کولہاپور میں پھر سیاسی مساوات تبد یل، سمرجیت گھاٹگے دوبارہ بی جے پی میں
ایک اور صارف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج ہم سموسے کو خالصتاً ہندوستانی پکوان سمجھتے ہیں، مگر اس کی جڑیں کہیں زیادہ وسیع اور تاریخی ہیں۔‘‘ تاہم کچھ صارفین نے اس دعوے سے اختلاف بھی کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’میرے خیال میں سموسہ برصغیر ہی کی ایجاد ہے، اور اس کی تاریخ کو مختلف انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘ یہ بحث اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ سموسہ صرف ایک عام ناشتہ نہیں بلکہ ایک ایسا پکوان ہے جس نے صدیوں کے دوران مختلف تہذیبوں، تجارتی راستوں اور ثقافتی اثرات کے ساتھ ترقی کی ہے، اور آج بھی دنیا بھر میں اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔