الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ،اسرائیل کو ہتھیار اور دیگر سازوسامان سپلائی کرنے والوں میں ۴۲؍فیصد حصہ امریکہ کا ہے، ۲۶؍فیصد کے ساتھ ہندوستان دوسرے نمبر پر، عالمی عدالت انصاف کے اسرائیل مخالف فیصلے کی حمایت کرنے والے بھی درپردہ اس کی مدد کرتے رہے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 10:17 AM IST | Doha
الجزیرہ کی رپورٹ میں دعویٰ،اسرائیل کو ہتھیار اور دیگر سازوسامان سپلائی کرنے والوں میں ۴۲؍فیصد حصہ امریکہ کا ہے، ۲۶؍فیصد کے ساتھ ہندوستان دوسرے نمبر پر، عالمی عدالت انصاف کے اسرائیل مخالف فیصلے کی حمایت کرنے والے بھی درپردہ اس کی مدد کرتے رہے۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا کے ۵۱؍ ممالک اسرائیل کو اسلحہ، فوجی ساز و سامان، خام مال اور اسپیئر پارٹس فراہم کرتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں فلسطینیوں کےخلاف جاری اسرائیلی کارروائیوں پر دنیا بھر میں احتجاج اور مذمت کےباوجود متعدد ممالک نے پسِ پردہ اسرائیل کے ساتھ اپنےدفاعی اور تجارتی روابط برقرار رکھے۔ الجزیرہ کی تحقیق میں سیٹیلائٹ تصاویر، شپنگ ڈیٹا اور برآمدات کےسرکاری ریکارڈز کی مدد سےان ممالک کی نشاندہی کی گئی جنہوں نے عالمی دباؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود اسرائیل کی سپلائی چین کو فعال رکھا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اسرائیل کو سب سے زیادہ مدد فراہم کرنے والا ملک رہا اور مجموعی سپلائی میں اس کا حصہ ۴۲؍فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہندوستان ۲۶؍فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ ہندوستان کی جانب سے بارود، ڈرونز اور فوجی پرزہ جات کی فراہمی کا بھی انکشاف کیاگیاہے۔ دیگر بڑے سپلائرز میں رومانیا ۸ ؍فیصد، تائیوان ۴ ؍فیصد اور جمہوریہ چیک ۳ ؍فیصد کے ساتھ شامل رہے۔
تحقیقات کےمطابق یورپی یونین کے ممالک اسرائیل کی مجموعی درآمدات کے ۱۹ ؍فیصد کے ذمہ دار رہے، جبکہ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیاسےتقریباً ۸؍ فیصد سپلائی فراہم کی گئی، جن میں چین، جنوبی کوریا، ویتنام اور سنگاپور شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاکہ کئی ایسے ممالک جنہوں نے عالمی عدالت انصاف کے جنوری۲۰۲۴ء کے اسرائیل مخالف فیصلے کی حمایت کی تھی، وہ بھی خفیہ طور پر اسرائیل کوسامان بھیجتے رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ بندی معاہدہ آج ہی قبول کرسکتا ہے: مارکو روبیو
چین نےعدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی امید ظاہر کی تھی، تاہم جنگ کے دوران اسرائیل کو ۱۹ء۶؍ ملین ڈالرز کا سامان فراہم کیا گیا، جس میںسے ۸۳ ؍ فیصد سپلائی عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے بعدکی گئی۔اسی طرح سنگاپور نے جنگ بندی کی حمایت کی، لیکن اس کی جانب سے بھیجی گئی ۵ء۶؍ ملین ڈالرز کی سپلائی کا۸۸ ؍فیصد حصہ عدالتی فیصلےکےبعد اسرائیل پہنچا۔ سوئٹزرلینڈ نے بین الاقوامی قانون کے احترام کی بات کی، مگر جنگ کے دوران اسرائیل کو۲ء۵؍ ملین ڈالرز کاسامان فراہم کیا، جس کا ۹۸ ؍ فیصد حصہ عدالتی حکم کے بعد بھیجاگیا۔ رپورٹ کے مطابق فلسطین کے حق میں سخت بیانات دینے والےرجب طیب اردگان کی حکومت کے دور میں بھی ترکی سے۲ء۱؍ ملین ڈالرز کا سامان اسرائیل پہنچا، جس کا ۷۹؍ فیصد عالمی عدالت انصاف کےفیصلے کے بعد فراہم کیا گیا۔ ترک حکومت نے مؤقف اختیارکیاتھا کہ مئی ۲۰۲۴ءسے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں بند کر دی گئی تھیں،تاہم رپورٹ کے مطابق بن گورین ایئرپورٹ اور حیفا بندرگاہ کے ذریعے ترک سامان کی ترسیل جاری رہی۔ اسی طرح برازیل نےبھی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی حمایت کی،مگر وہاں سے بھی ۲ء۴؍ملین ڈالرز کی ترسیل اسرائیل کو کی گئی، جس کا ۸۰ ؍فیصد حصہ جنوری ۲۰۲۴ ءکے بعد روانہ کیا گیا۔دوسری جانب آذربائیجان اور نیدرلینڈز کی جانب سے جنگ کے دوران سپلائی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ نیدرلینڈز نے واضح کیا کہ وہ صرف دفاعی مقاصد کے لیے سامان کی اجازت دیتا ہے، جس کے باعث اس کی سپلائی ماضی کےمقابلے میں کم ہو کر صرف ۲۹ ؍ہزار ڈالرز تک محدود رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ عالمی برادری کے ’دہرے معیار‘ کو بے نقاب کرتی ہے، جہاں ایک طرف امن، انسانی حقوق اور جنگ بندی کی باتیں کی جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف جنگی ساز و سامان کی فراہمی جاری رکھی جاتی ہے۔