ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ پر فلسطینی ریاست کے قیام کے مقصد کو پس پشت ڈالنے اور فلسطین کی حق خودارادیت کے تعلق سے ہتھیار ڈالنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 3:04 PM IST | Gaza
ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ پر فلسطینی ریاست کے قیام کے مقصد کو پس پشت ڈالنے اور فلسطین کی حق خودارادیت کے تعلق سے ہتھیار ڈالنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔
ڈراپ سائٹ نیوز کو حاصل دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا غزہ کے لیے امن بورڈ فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو کچلنے اور ’’فلسطینی ہتھیار ڈالنے‘‘پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ یہ دستاویز فلسطینی مذاکرات کار اور ٹرمپ کے امن بورڈ کے درمیان مذاکرات کے تازہ ترین دور سے متعلق ہے۔ پہلی دستاویز پندرہ نکاتی روڈ میپ پر فلسطین کی طرف سے شیئر کردہ ترامیم کا مکمل متن ہے، جبکہ دوسری ٹرمپ بورڈ کے ڈائریکٹر، سابق بلغاریائی سفارت کار نکولائی ملادینوف کا گزشتہ ہفتے جاری کردہ جواب ہے۔یہ دونوں ورژن مل کر اس بات کی جھلک پیش کرتے ہیں کہ کس طرح ٹرمپ کا امن بورڈ پندرہ نکاتی ’’روڈ میپ‘‘ کے ذریعے فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو ختم کرنے کی راہیں ڈھونڈ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر جنگوں اورقدرتی آفات سے کروڑوں بچوں کی تعلیم متاثر: رپورٹ
فلسطینی مسودے میں کہا گیا ہے کہ ’’مزاحمت اپنے ہتھیار ایک ایسے عمل میں جمع کرائے گی جو فلسطینی عوام کو ریاست قائم کرنے اور اپنے حق خودارادیت کے استعمال کی ضمانت دیتا ہے۔‘‘جبکہ امن بورڈ مسلسل اس بات پر زور دیتا ہے کہ صرف غیر مسلح کاری ہی ریاست کے قیام کے لیے قابل اعتماد راستہ بنا سکتی ہے۔بعد ازاں اسرائیل اور امن بورڈ کا کہنا ہے کہ حماس اور دیگر مزاحمتی قوتوں کو تعمیر نو، اسرائیلی انخلاء اور حکومت کے انتظامات سے پہلے اپنے ہتھیار جمع کروانے ہوں گے۔ جبکہ اسرائیل معاہدے کے پہلے مرحلے یعنی جنگ کے خاتمے پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے، وہ امداد کو محدود کر رہا ہے اور غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ ایک گھڑا ہوا اور پیچیدہ طریقہ کار ہے جس کا مقصد آزاد فلسطین کے امکان کو ختم کرنا ہے۔جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں تاریخ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر عبداللہ العریان نے کہا، ’’ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ ایک نسل کشی کے سائے میں، ہر طرح کی پیشگی شرائط کے ذریعے فلسطینی مزاحمت کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس معاہدے کی تشریح ان عناصر کے ہاتھ میں ہے جو زیادہ تر اسرائیل کی سلامتی کو ترجیح دینے کے پابند ہیں۔‘‘ ٹرمپ کے امن بورڈ کے ڈائریکٹر نکولائی ملادینوف ایک ریسرچ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں جو اسرائیل کے قریبی عرب اتحادی متحدہ عرب امارات کے سفارت کاروں کو تربیت دیتی ہے، اور امن بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہونے سے پہلے، وہ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں وزٹنگ فیلو تھے، جو AIPAC کے سابق اراکین کی طرف سے قائم کردہ ایک اسرائیل حامی تھنک ٹینک ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور
ڈراپ سائٹ نیوز کو دیئے گئے ایک بیان میں، امن بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ’’ تنظیم اس بات کو مسترد کرتی ہے کہ اس کی کوششیں ایک فریق کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لیے بنائی گئی ہیں۔روڈ میپ ایک نازک جنگ بندی کو ایک پائیدار حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو غزہ میں فلسطینیوں کو تحفظ، وقار اور استحکام کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے لیے گورننس، انسانی امداد، تعمیر نو، معاشی بحالی اور سلامتی کے انتظامات میں پیشرفت کی ضرورت ہے جو تنازع کی طرف واپسی کو روکنے کے قابل ہوں۔‘‘تاہم ملادینوف کے جواب کے جواب میں ڈراپ سائٹ نیوز کو حماس کے ایک اہلکار نے کہا، ’’اپنی موجودہ شکل میں، یہ دستاویز ناقابلِ قبول ہے اور معاہدے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ معاہدہ اسرائیل کی معاہدے تک پہنچنے کی عدم دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے، حالانکہ فلسطینی تحریک نے اس میں درج تمام مطالبات کی تعمیل کی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کرنا ہوگا: نیتن یاہو
مزید برآں بورڈ غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) بنانے کی اپنی کوشش میں بھی ناکام رہا ہے۔ اسے اس کوشش کے طور پر مسترد کر دیا گیا کہ علاقائی قوتوں کو حماس سے لڑنے پر مجبور کیا جائے، کیونکہ اسرائیل برسوں سےبے تحاشہ بمباری کرنے کے باوجود حماس کوغیر مسلح کرنے میں ناکام رہا ہے۔