ٹیم لیز ایڈ ٹیک کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خامی کو واضح کیا کہ ۷۵؍ فیصد ادارے طلبہ کو ملازمت دلانے میں ناکام ہیں۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 1:05 PM IST | New Delhi
ٹیم لیز ایڈ ٹیک کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی خامی کو واضح کیا کہ ۷۵؍ فیصد ادارے طلبہ کو ملازمت دلانے میں ناکام ہیں۔
ٹیم لیز ایڈٹیک کی ایک رپورٹ ’’فروم ڈگری فیکٹریز ٹو امپلائے ایبلیٹی ہبس‘‘ کے مطابق ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی نظام طلبہ کو روزگار دلانے میں ۷۵ فیصد ناکام ہے، جبکہ قومی رجحان ملازمتوں کی طرف بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف ۶۷ء۱۶ فیصد ادارے ہی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ۶ ماہ کے اندر طلبہ کی تقرری کو ممکن بنانے میں کامیاب ہیں۔ یہ نتائج اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام کو کس قدر مسائل درپیش ہیں۔ ٹیم لیز ایڈٹیک کے بانی اور سی ای او شانتنو روج نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ ’’وعدوں اور حقیقی عمل کے درمیان فرق‘‘ کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایک ایسے نظام کی بات کی جاتی ہے جو ابھی پوری طرح تیار نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ آئی ایز) کے لیے نصاب کی مطابقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صرف ۶ء۸ فیصد ادارے ہی اپنی تقریبات میں تقرری کی یقین دہانی کراتے ہیں، جبکہ بقیہ ادارے کوئی یقین دہانی نہیں کراتے۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ میں چلتی ٹرین پر کرین گر گیا، ۲۹؍افراد ہلاک ، ۶۴؍ سے زائد افرادزخمی
کلاس رومز میں صنعتی اور تجرباتی سرگرمیوں کی کمی اس اہم فرق کو نمایاں کرتی ہے۔ صرف ۵۶ء۷ فیصد اداروں میں ہی مختلف مضامین سے وابستہ ’’تجربہ کار عملہ‘‘ موجود ہے، تاہم زیادہ تر طلبہ کو نئی جگہوں پر کام کے تقاضوں کا عملی تجربہ حاصل نہیں ہو پاتا۔ اس کے علاوہ ۶۰ فیصد تعلیمی اداروں کے نصاب میں صنعتی اور عملی سرگرمیاں شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملازمت کی اہلیت کو محض لفاظی سے آگے بڑھانے کے لیے نصاب کا صنعتی تجربہ کاروں کے ذریعے تیار ہونا اب اختیاری نہیں رہا، بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ اگرچہ تجرباتی اور عملی سرگرمیوں کو ملازمت کی تیاری کے لیے بڑے پیمانے پر ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ فی الحال اس شعبے میں ’’ساخت اور معیار سازی کی کمی‘‘ موجود ہے۔ لازمی عملی تربیت کی کمی نمایاں ہے۔ صرف ۴ء۹ فیصد ادارے ہی تمام شعبوں میں انٹرن شپ کا اہتمام کرتے ہیں، ۳۷ء۸ فیصد اداروں میں انٹرن شپ کی سہولت موجود نہیں ہے، جبکہ ۶۸ء۹ فیصد ادارے ہی حقیقی دنیا کا تجربہ فراہم کرنے کے لیے لائیو انڈسٹری پروجیکٹس کا استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی فوج ہائی الرٹ، سعودی، ترکی اور امارات کو انتباہ
عملی نمائش کی اس کمی کا مطلب یہ ہے کہ طلبہ کا ایک بڑا حصہ ’’ملازمت سے متعلق مہارتوں‘‘ کے بغیر فارغ التحصیل ہو رہا ہے، جو روزگار حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ رپورٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بہت سے ادارے اپنے سابق طلبہ سے مؤثر طور پر استفادہ کرنے میں ناکام ہیں۔ سابق طلبہ کسی طالب علم کی تقرری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اس کے باوجود صرف ۴۴ء۵ فیصد اداروں میں ہی فعال اور مصروف سابق طلبہ کی کمیونٹیز موجود ہیں۔ زیادہ تر اداروں میں ایسے روابط یا تو کمزور ہیں یا بالکل موجود نہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کو سرپرستی حاصل نہیں ہو پاتی اور وہ غیر رسمی ذرائع سے ملازمت کے مواقع تک رسائی میں ناکام رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈگریوں کی فیکٹری کے بجائے اداروں کو روزگار کا مرکز بنانے کے لیے ایک نئے نظام کی ضرورت ہے، جس میں عملی سرگرمیوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ رپورٹ کی تجاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نیا نصاب دورِ حاضر سے ہم آہنگ ہو، اداروں کو کمپنیوں سے جوڑا جائے، اور انٹرن شپ کو لازمی قرار دیا جائے۔