• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر محمد یونس کا بیان: اقلیتوں پر تشدد کے اکثر واقعات فرقہ وارانہ نوعیت کے نہیں

Updated: January 19, 2026, 9:57 PM IST | Dhaka

۱۵بنگلہ دیشی حکومت کی اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی کے باوجود اقلیتوں پر حملے جاری ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، یکم دسمبر ۲۰۲۵ء سے ۱۵ جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان ۴۵ دنوں کے عرصے میں کم از کم ۱۵ ہندوؤں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

Muhammad Yunus. Photo: INN
محمد یونس۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیشی حکومت نے ملک میں حالیہ احتجاجی لہر کے دوران اقلیتی برادری، بالخصوص ہندوؤں کے خلاف ہونے والے مظالم کے متعلق کہا ہے کہ زیادہ تر واقعات فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی نہیں تھے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے بیان دیا کہ جنوری سے دسمبر ۲۰۲۵ء کے درمیان اقلیتی برادریوں کے ارکان سے متعلق ۶۴۵ واقعات میں سے صرف ۷۱ نوعیت کے اعتبار سے فرقہ وارانہ تھے۔ ملک بھر میں درج شدہ ایف آئی آر، جنرل ڈائریز، چارج شیٹس اور تحقیقاتی اپ ڈیٹس کی تصدیق کے بعد حکومت اس نتیجہ پر پہنچی ہے۔

چیف ایڈوائزر کے سرکاری ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’اگرچہ ہر واقعہ تشویش کا باعث ہے، لیکن اعداد و شمار ایک واضح اور شواہد پر مبنی تصویر پیش کرتے ہیں: واقعات کی بھاری اکثریت فرقہ وارانہ ہونے کے بجائے مجرمانہ نوعیت کی تھی، جو امن و امان کے چیلنجز کی پیچیدگی اور عوامی گفتگو کو خوف یا غلط معلومات کے بجائے حقائق پر مبنی رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ تنازع ٹیرف اور نیٹو بحران میں تبدیل؛ ای یو ۱۰۸ ارب ڈالر ٹیرف کےجوابی اقدام پر غور کررہا ہے

بنگلہ دیش میں اقلیتوں کا قتل

نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات محمد یونس کی قیادت میں حکومت کی اس یقین دہانی کے باوجود، کہ ملک میں تمام مذاہب کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملے جاری ہیں۔ ’رائٹس اینڈ رسک اینالیسس گروپ‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ یکم دسمبر ۲۰۲۵ء سے ۱۵ جنوری ۲۰۲۶ء کے درمیان ۴۵ دنوں کے عرصے میں کم از کم ۱۵ ہندوؤں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

ہندو اقلیتوں پر جان لیوا حملوں کا یہ سلسلہ ۱۸ دسمبر کو میمن سنگھ میں دیپو چندر داس کو سرعام زندہ جلانے سے شروع ہوا۔ ۳ جنوری کو ضلع جھینائدہ میں دو افراد نے ایک ہندو خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ دیپو چندر کے واقعے کے بعد ۲۴ دسمبر کو راج باڑی میں امرت منڈل عرف سمراٹ کو قتل کیا گیا۔ ۲۸ دسمبر کو میمن سنگھ میں ایک گارمنٹ فیکٹری میں بجیندر بسواس کو ایک ساتھی نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی کو ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت؛ پوتن اور شہباز شریف بھی مدعو

۳۱ دسمبر کو شریعت پور کے ایک ہندو تاجر کھوکن چندر داس پر حملہ کیا گیا، اسے کلہاڑیوں سے زخمی کرنے کے بعد آگ لگا دی گئی، ان زخموں کی تاب نہ لا کر اس نے ۳ جنوری کو اسپتال میں دم توڑ دیا۔ ۵ جنوری کو نرسنگدی میں ایک دکان دار سرت چکرورتی منی کو دکان بند کرتے وقت قتل کر دیا گیا۔ ۱۱ جنوری کو ہندو سیاستدان اور ثقافتی کارکن پرولے چاکی کی دورانِ حراست موت واقع ہوئی۔ اسی دن ۲۸ سالہ ہندو آٹو ڈرائیور سمیر داس کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں ضلع جیسور میں ایک فیکٹری کے مالک اور اخبار کے ایڈیٹر رانا پرتاپ بیراگی کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK