• Sat, 26 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۸۳؍ فیصد کنیڈین ٹرمپ کے کنیڈا پر عائد ٹیرف کو غلط سمجھتے ہیں: سروے

Updated: September 26, 2026, 9:08 AM IST | Washington

امریکہ میں بھی ۵۶؍ فیصد بالغوں نے ٹیرف کو غلط قرار دیا، ۲۶؍  فیصد نے درست؛ کنیڈا کے جوابی ٹیرف کی حمایت میں بھی نمایاں اضافہ۔

Donald Trump. Picture: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکہ اور کنیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک نئے سروے میں دونوں ممالک کے شہریوں کی بڑی تعداد نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کنیڈین درآمدات پر عائد نئے ٹیرف کو غلط قرار دیا ہے۔ Public First کے سروے کے مطابق ۸۳؍ فیصد کنیڈین نے کہا کہ ٹرمپ کا کنیڈا پر ٹیرف عائد کرنا غلط فیصلہ تھا، جبکہ صرف ۸؍ فیصد نے اسے درست قرار دیا۔ امریکہ میں بھی ۵۶؍  فیصد جواب دہندگان نے ٹیرف کو غلط کہا، جب کہ ۲۶؍  فیصد نے اسے درست اقدام قرار دیا۔ سروے ۱۳؍ سے ۱۵؍ ستمبر کے درمیان ۴۱۸۳؍ امریکی اور کنیڈین بالغوں سے کیا گیا تھا۔ سروے میں دونوں ملکوں کے عوام سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ کنیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ کنیڈا میں ۵۷؍ فیصد افراد نے کہا کہ اوٹاوا کو واشنگٹن کے ٹیرف کا جواب اسی انداز میں دینا چاہیے، جبکہ ۲۴؍ فیصد نے امریکی ٹیرف ختم کرانے کے لیے رعایتیں دینے کی حمایت کی۔ امریکی جواب دہندگان میں ۳۳؍ فیصد نے کنیڈین وزیر اعظم مارک کارنی کے جوابی ٹیرف کو درست قرار دیا، جبکہ ۳۱؍ فیصد نے اسے غلط کہا۔

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے عیسائیوں پر ۶۰ حملے ریکارڈ کئے گئے: انڈیا ہیٹ لیب

پبلک فرسٹ کا سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی مذاکرات اگست میں معطل ہوچکے ہیں۔ کنیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے ۲۱؍ اگست کو کہا تھا کہ مذاکرات میں بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن امریکی تجاویز میں آخری مرحلے پر ایسی تبدیلیاں کی گئیں جنہیں کنیڈا نے اپنے مفادات کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔ کارنی حکومت نے اسی کے بعد مذاکرات معطل کرکے اپنے مذاکرات کاروں کو اوٹاوا واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد کنیڈا نے تقریباً ۶ء۲۷؍ ارب کنیڈین ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات پر ۱۵، ۲۵؍ اور ۵۰؍ فیصد تک کے جوابی ٹیرف نافذ کیے۔ ان میں اسٹیل، ایلومینیم، زرعی سازوسامان اور بعض دیگر امریکی مصنوعات شامل ہیں۔ امریکی حکومت نے بھی کنیڈا کے جوابی اقدامات کے بعد بعض کنیڈین مصنوعات پر اضافی پابندیاں اور ٹیرف عائد کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جن میں کچھ نئی پابندیاں ۲۹؍ ستمبر سے نافذ ہونے والی ہیں۔ 
تجارتی تنازع کا اثر دونوں ملکوں کے باہمی اقتصادی تعلقات پر پڑ رہا ہے۔ امریکہ کنیڈا کی سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے، جبکہ کنیڈا بھی امریکی صنعت کے لیے اہم سپلائر ہے۔ موجودہ تنازع میں توانائی، گاڑیوں، اسٹیل، ایلومینیم، زرعی مصنوعات اور دیگر شعبے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تجارتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ٹیرف سے کاروباری لاگت اور صارفین کے لیے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، اگرچہ اثرات مختلف شعبوں اور صوبوں میں یکساں نہیں ہوں گے۔ سروے میں کنیڈین عوام نے ایک طرف امریکی تجارت کی اہمیت کو تسلیم کیا، لیکن دوسری طرف واشنگٹن کے دباؤ کے مقابلے میں اپنی حکومت کی جانب سے سخت مؤقف اختیار کرنے کی بھی حمایت ظاہر کی۔ ۴۸؍ فیصد کنیڈین جواب دہندگان نے امریکہ کو ملک کے اہم ترین تجارتی تعلقات میں سے ایک قرار دیا، جبکہ مجموعی طور پر ۸۴؍ فیصد نے بین الاقوامی تجارت کو کنیڈا کی معیشت کے لیے اہم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۲؍ سال بعد جیل سے رہائی، فلسطینی قیدی والدین کی موت کی خبر سن کر رو پڑا

دوسری جانب کنیڈا اپنی تجارتی انحصار کو کم کرنے کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے۔ وزیر اعظم کارنی نے حالیہ ہفتوں میں یورپی یونین کے ساتھ قریبی اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کی حمایت کی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے کنیڈا کو یورپی یونین کا ’’associate member‘‘ بنانے کی تجویز بھی پیش کی، جس پر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر یہ اقدام امریکہ کے خلاف سمجھا گیا تو واشنگٹن یورپ پر مزید سخت ٹیرف عائد کرسکتا ہے۔ کارنی نے ۲۴؍ ستمبر کو ایک انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت نے ٹرمپ کی جانب سے کنیڈا کو امریکہ کی ۵۱؍ ویں ریاست بنانے کی باتوں کے تناظر میں انتہائی غیر معمولی خطرات کا جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو ’’extreme tail risk‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ان کے مطابق بنیادی منظرنامہ نہیں ہے، لیکن حکومت کے لیے ایسے انتہائی امکانات کی منصوبہ بندی کرنا ذمہ داری کا حصہ ہے۔
ادھر واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں۔ کارنی نے حالیہ گفتگو میں کہا ہے کہ مذاکرات میں بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی تھی اور کچھ امریکی مطالبات بعد میں ایجنڈے سے ہٹائے گئے، تاہم ان کے مطابق کنیڈا اپنی خودمختاری اور بعض بنیادی اقتصادی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تازہ سروے اس تجارتی تنازع میں عوامی رائے کی ایک تصویر پیش کرتا ہے، تاہم یہ ۱۳؍ سے ۱۵؍ ستمبر کے دوران کیے گئے جوابات پر مبنی ہے اور اسے موجودہ دن کی مکمل عوامی رائے کا براہِ راست پیمانہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس دوران ٹیرف، جوابی اقدامات اور امریکہ کنیڈا مذاکرات میں مزید تبدیلیاں بھی ہوئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK