فوجی عدالت کے جج نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا جب۲۰۰۱ء میں ہوئے حملوں کو ۲۵؍ سال مکمل ہوگئے۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 1:14 PM IST | Agency | Washington
فوجی عدالت کے جج نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا جب۲۰۰۱ء میں ہوئے حملوں کو ۲۵؍ سال مکمل ہوگئے۔
امریکی فوجی عدالت نے نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد سمیت ۴؍ ملزمین کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق ملزمین کا ٹرائل ۵؍ جون ۲۰۲۸ء سے شروع ہوگا۔خالد شیخ محمد کو نائن الیون حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔ خالد کو ۲۰۰۳ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ امریکی زیر انتظام کیوبا میں واقع گوانتانامو بے جیل میں قید ہے۔امریکی فوجی عدالت کے جج نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا ہے جب۲۰۰۱ء میں ہونے والے نائن الیون حملوں کو تقریباً ۲۵؍ سال مکمل ہونے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ
ان حملوں نے امریکہ کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔ عدالتی حکم کے مطابق خالد شیخ محمد اور دیگر ۳؍ ملزمین کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ کارروائی جون ۲۰۲۸ء میں شروع ہوگی۔ مقدمے میں نائن الیون حملوں میں ان ملزمین کے مبینہ کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔نائن الیون حملے ۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کو ہوئے تھے۔ اس روز ہائی جیکرز نے چار مسافر بردار طیاروں پر قبضہ کیا تھا۔ ان میں سے دو طیارے نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز سے ٹکرا گئے، جبکہ ایک طیارہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب پنٹاگن سے جا ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ یونائیٹڈ ایئرلائنز فلائٹ ۹۳؍، مسافروں کی مزاحمت کے بعد پنسلوانیہ میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ان حملوں میں تقریباً ۳؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ خالد شیخ محمد کی گرفتاری ۲۰۰۳ء میں پاکستان سے ہوئی اور بعد ازاں انہیں امریکی تحویل میں منتقل کیا گیا اور طویل عرصے سے گوانتانامو بے میں قید رکھا گیا ہے۔