۱۵؍ دن لگاتار احتجاج کے بعد بھی مطالبے تسلیم نہ ہونے پر قبائلی طلبہ میں ناراضگی ، کہا’’ یا تو مطالبے پورے ہوں یا وزیر استعفیٰ دیں۔‘‘
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 1:55 PM IST | Inquilab News Network | Nagpur
۱۵؍ دن لگاتار احتجاج کے بعد بھی مطالبے تسلیم نہ ہونے پر قبائلی طلبہ میں ناراضگی ، کہا’’ یا تو مطالبے پورے ہوں یا وزیر استعفیٰ دیں۔‘‘
گزشتہ۱۵؍ دنوں سے ناگپور میں قبائلی طلبہ محکمہ قبائلی ترقی کے ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں۔ ان کے متعدد مطالبات ہیں جن میں سے ایک کو اب تک حکومت نے تسلیم کر لیا ہے باقی پر صرف گفت وشنید جاری ہے۔ ایسی صورت میں طلبہ کے صبر کا پیمانہ چھلکنے لگا ہے اور اب وہ وزیر برائے قبائلی ترقی اشوک اوئیکے کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نائن الیون کیس: خالد شیخ سمیت ۴؍ ملزمین کا ٹرائل۲۰۲۸ء میں ہوگا
یاد رہے کہ ۵؍ اگست ۲۰۲۶ء کو حکومت نے ایک جی آر جاری کیا جس کے تحت قبائلی ہوسٹلوں میں نافذ قواعد کو تبدیل کر دیا گیا۔نئے قواعد میں کئی ایسے ہیں جن سے طلبہ کو محسوس ہوا کہ حکومت ان پر قدغن لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ حکومت نے ہوسٹل میں رہنے والے طلبہ پر پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ کسی بھی ریلی ، دھرنے یا احتجاج میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ساتھ ہی وہ ہوسٹل میں ہونے والی کسی بھی تکلیف کی شکایت میڈیا کے سامنے نہیں کر سکتے۔ انہیں صرف انتظامیہ کے سامنے شکایت کرنے کا حق ہوگا۔ حکومت نے ایک شق یہ بھی شامل کی تھی کہ ہوسٹل میں رہنے کیلئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد ۲۶؍ سال ہوگی جسے طلبہ کی ناراضگی کے بعد ۳۰؍ سال کر دیا لیکن گزشتہ دنوں راہل گاندھی کی جانب س دیویندر فرنویس کو لکھے گئے خط کے بعد اسے بھی واپس لے لیا گیا لیکن دیگر تمام نکات جوں کے توں برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ ہم آپ کی ٹرینیں چلنے نہیں دیں گے، ہوائی جہاز اڑنے نہیں دیں گے‘‘
ناراض طلبہ نے ۱۴؍ اگست سے ناگپور میں قبائلی ترقی کے ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا شروع کر دیا جو آج تک جاری ہے۔ طلبہ کا یہ احتجاج، اب امراوتی ، پونے اور دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ پونے میں بدھ کی رات وزیر برائے قبائلی ترقی اور نرہری زروال طلبہ سے ملنے پہنچے۔ انہوں نے کافی دیر تک طلبہ سے گفتگو کی لیکن کوئی راستہ نہیں نکل سکا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر دیگر تمام مطالبات کو تسلیم کر لے ورنہ اس احتجاج کو وسیع کیا جائے گا اور یہ وزیر برائے قبائلی ترقی اشوک اوئیکے کے استعفے پر جا کر رکے گا۔ اوئیکے نے جمعرات کو ایک بار پھر اپیل جاری کی کہ طلبہ اپنا احتجاج واپس لے لیں کیونکہ حکومت ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پُر عزم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کین بیتوا ریوَر لنک پروجیکٹ کے خلاف قبائلی برادری آخراحتجاج کیوں کررہی ہے؟
مظاہرین میں شامل نشا سابلے نامی طالبہ کا کہنا ہے کہ حکومت ہمارے دیگر مطالبات کو بھی پورا کرے ، چاہے وہ خالی اسامیوںکو پُر کرنے کا معاملہ ہو یا پھر سانپ کے کاٹنے سے فوت ہوئی لڑکیوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے معائوضہ دینے کا۔ جب تک سارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے تب تک ہم اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ سابلے کا کہنا ہے کہ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو وزیر برائے قبائلی ترقی کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔
قبائلی طلبہ کے اہم مطالبات
۱۔ حکومت کی جانب سے ۵؍ اگست کو قبائلی ہوسٹل کے تعلق سے جاری کردہ نئے قواعد( مکمل یا جزوی) منسوخ کئے جائیں۔
۲۔ طلبہ کے احتجاج، دھرنے اور ریلی میں شرکت پر عائد پابندی واپس لی جائے۔
۳۔ کھانے کے پیسے طلبہ کے اکائونٹ میں جمع کروانے کے بجائے ہوسٹل میں کینٹین کھولی جائے۔
۴۔ گڈچرولی میں سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہونے والی لڑکیوں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معائوضہ دیا جائے۔
۵۔ قبائلی ہوسٹلوں میں خالی پڑی (خاص کر اساتذہ) اسامیوں کو فوری طور پر کیا جائے۔